دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

جیسا کہ ابھی سن چکے تو عدم شرعی ثابت ہوگیا۔ اور سبب میں تبدیلی نہ آئی اگرچہ سبب کے سبب یعنی پانی تك رسائی میں حرج کے سبب میں تبدیلی  آگئی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پانی پر پہلے کوئی دشمن تھا جس سے اسے اپنی جان کا خطرہ تھا وہ اس جگہ سے ہٹا نہیں کہ کوئی چور آگیا جس سے اس کو اپنے مال کیلئے خطرہ ہے اور

فلایتوھم احدانہ تبدل السبب بخلاف حدوث المرض مع وجود الماء عندہ فان الماء لیس معدوما فیہ شرعا بالمعنی المذکور بل اماموجود فی نفس مکانہ کما اذا کان بیدہ اولاحرج علیہ فی الوصول الیہ کما اذا کان فی بیتہ انما الحرج فی استعمالہ فقد تبدل السبب۔  

اما قول ابن مقاتل انہ غیر واجد للماء معنی فکان ملحقا بالعدم فاقول :  ارادبہ العدم عـــہ الحسی دون الشرعی بالمعنی المذکور ولاشك ان الماء موجود ھھنا بحضرتہ وان لم یکن فی قبضتہ وھو واجد لہ حسا غیر واجد لہ بمعنی القدرۃ علیہ وعدم الحرج فی وصولہ الیہ                                              

دشمن چلا گیا اس صورت میں کسی کو یہ وہم نہیں ہوسکتا کہ سبب بدل گیا بخلاف اُس صورت کے جس میں یہ ہے کہ پانی اس کے پاس موجود ہوتے ہوئے اسے مرض عارض ہوگیا یہاں پانی مذکورہ معنی میں شرعی طور پر معدوم نہیں بلکہ یا تو خود اسی جگہ پانی موجود ہے مثلًا خود اس کے ہاتھ میں ہے ، یا پانی تك پہنچنے میں اس کیلئے کوئی دشواری وحرج نہیں مثلًا پانی اس کے گھر میں موجود ہے۔ حرج صرف اس کے استعمال میں ہے تو یہاں پر سبب بدل گیا۔ (ت)

لیکن ابن مقاتل کا یہ قول کہ “ معنیً “ اسے پانی دستیاب نہیں تو وہ معدوم سے ملحق ہے فاقول : اس سے ان کی مراد عدم حسّی ہے۔ عدم شرعی بمعنی مذکور مراد نہیں۔ اس میں کوئی شك نہیں کہ یہاں تو پانی اس کے پاس موجود ہے اگرچہ اس کے قبضہ میں نہیں تو حسّی طور پر پانی اسے دستیاب ہے اور دستیاب نہیں ہے اس معنی میں کہ اس پر اسے قدرت ہو اور اس تك رسائی میں

 

عـــہ اقول :  ومن الدلیل علیہ قول البدائع اما العدم من حیث المعنی لامن حیث الصورۃ فھو ان یعجز من استعمال الماء مع قرب الماء منہ نحوما اذا کان بینہ وبین الماء عدو اولصوص اوسبع اوحیۃ [1] الخ فجعلہ موجوداصورۃ والوجود الصوری ھو الحسی۔  (م)   

اقول : اس کی ایك دلیل بدائع کی یہ عبارت ہے “ لیکن عدم بلحاظ معنی ، نہ بلحاظ صورت یہ ہے کہ پانی قریب ہوتے ہوئے اس کے استعمال سے عاجز ہو۔ جیسے اس کے اور پانی کے درمیان دشمن ہو یا چور ہوں یا درندہ یا سانپ ہو “ الخ۔ اس عبارت سے مذکورہ حالت میں انہوں نے پانی کو صورۃً موجود قرار دیا اور وجود صوری اور وجود حسّی دونوں ایك ہی ہیں۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

فکان ملحقا بالعدم الحسی ومعدوما بالعدم الشرعی بالمعنی المذکور ھکذا ینبغی ان تفھم کلمات العلماء الکرام٭ والحمدللہ ولی الانعام٭ وعلی نبینا واٰلہ الصلاۃ والسلام۔

کوئی حرج نہ ہو۔ اس لئے وہ عدم حسّی سے ملحق ہے اور معدوم بہ عدم شرعی بمعنی مذکور ہے اسی طرح علمائے کرام کے کلمات کو سمجھنا چاہئے۔ اور ساری تعریف خدا کیلئے جو صاحبِ فضل واحسان ہے۔ اور ہمارے نبی اور ان کی آل پر درود وسلام۔ (ت)

(۹۲) پانی کو ٹھری میں رکھا ہے اندھیرا سخت ہے جاتے ہوئے خوف ہے اور دیا سلائی وغیرہ پاس نہیں اور اجالے کا انتظار کرتا ہے تو وقت جاتا ہے (اقول یوں کہ نماز نمازِ عشا ہے یا مثلًا وقت صبح اور اندھیرا ابرکثیف کا ہے) توتیمم کرکے پڑھ لے اور پھر اعادہ کرے وقد تقدم نقلہ عن الحلیۃ والبحر (اس کی نقل حلیہ اور بحر کے حوالہ سے گزرچکی۔ ت)

اقول :  ولم اذکر ماقالوہ من کونہ علی سطح لان المراد بہ ان لایکون حیث الماء وکذا قولھم لیلا بل عممت مثل وقت الصبح لان المناط الخوف فی الظلمۃ وزدت الاعادۃ لماعلمت مرارا۔                                                                                                                                                                

اقول : ان حضرات نے “ چھت پر ہونے “ کا ذکر کیا تھا۔ مگر میں نے اس قید کے ساتھ ذکر نہ کیا کیونکہ چھت پر ہونے کی تعبیر سے ان کی مراد یہ ہے کہ ایسی جگہ نہ ہو جہاں پانی موجود ہے اسی طرح انہوں نے “ رات “ کی قید کے ساتھ یہ مسئلہ بیان کیا تھا میں نے یہ لفظ ذکر نہ کیا بلکہ مثلًا وقتِ صبح کہہ کر اسے عام کردیا اس لئے کہ اصل مدار یہ ہے کہ تاریکی کے اندر اسے خوف محسوس ہورہا ہو (خواہ یہ تاریکی کسی بھی وقت ہو) اور اعادہ کا حکم میں نے زیادہ کیا جس کی وجہ بارہا بیان ہوچکی۔ (ت)

(۹۳) اقول : یوں ہی اگر اندھیری رات یا صبح کو بدلی ایسی کالی شدید محیط یا سیاہ آندھی چل چکی اور اُس کی تاریکی پھیلی ہے اگرچہ کوئی وقت ہو اور ان سب صورتوں میں ظلمت اتنی ہے کہ کنویں تك راہ نظر نہیں آتی اور یہ روشنی پر قادر نہیں اور انتظار میں وقت جاتا ہے تیمم کرکے پڑھ لے اور اعادہ کرے۔ ایسی۱  سیاہی کو علماء نے جماعت میں عذر گِنا ہے۔

کما فی التبیین والھندیۃ ویأتی عن الدر وھم انما قالوا ظلمۃ شدیدۃ [2]  فقال ش

جیسا کہ تبیین الحقائق اور ہندیہ میں ہے۔ اور درمختار کے حوالہ سے آگے ذکر آئیگا۔ اور ان حضرات نے “ سخت تاریکی “

الظاھر ان المراد کونہ لایبصر طریقہ الی المسجد فیکون کالاعمی[3] اھ۔

اقول : وھو ظاھر فان مجرد(۱) لحوق مشقۃ ما لوکان عذرا مسقطا لسقت تکالیف الشریعۃ عن اٰخرھا قال فی الفتح لو(۲) قدر علی القیام لکن ئخاف بسببہ ابطاء برء ا وکان یجد الماء شدیدا جاز لہ ترکہ فان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز [4]  اھ ومثلہ فی الکافی وغیرہ فی الخانیۃ من(۳) لایقدر علی الوضوء الابمشقۃ لایباح لہ التیمم [5]  اھ قال ش والظاھر انہ لایکلف الی ایقاد نحو سراج وان امکنہ ذلك[6]  اھ

اقول :  وکأنہ اخذہ من قولھم فی تطہیر الانجاس لایضر(۴) بقاء اثر کلون وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الی ماء حار اوصابون ونحوہ[7]  اھ دُر۔  حار ای مسخن۔  ونحوہ کحرض واشنان[8]  اھ ش۔                             

سے تعبیر کی۔ جس پر علّامہ شامی نے فرمایا : “ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد اس کا ایسی حالت میں ہونا ہے کہ مسجد تك پہنچنے کا راستہ اسے نظر نہ آتا ہو جس کی وجہ سے وہ نابینا کی طرح قرار پاتا ہو “ ۔ اھ (ت)

اقول : یہ بات واضح ہے اس لئے کہ مطلقًا ذرا سی بھی مشقّت کا لاحق ہونا اگر ساقط کرنے والا عذر ہوتا تو تمام تکالیف شرعیہ بالکل ہی ساقط ہوجائیں۔ فتح القدیر میں ہے : “ اگر کھڑے ہونے پر قدرت رکھتا ہو لیکن اس کی وجہ سے دیر میں اچھے ہونے کا اندیشہ ہو یا سخت تکلیف محسوس کرتا ہو تو اس کیلئے قیام ترك کرنا جائز ہے۔ اور اگر تھوڑی سی مشقت لاحق ہوتی ہو تو ترك جائز نہیں “ ۔ اھ۔ اسی کے مثل کافی وغیرہ میں بھی ہے۔ اور خانیہ میں ہے : “ جو شخص مشقت ہی سے سہی ، وضو کرسکتا ہے اس کیلئے تیمم جائز نہیں “ اھ علّامہ شامی نے

فرمایا : “ ظاہر یہ ہے کہ وہ چراغ وغیرہ جلانے کا مکلّف نہیں اگرچہ یہ اس کیلئے ممکن ہو “ اھ  اقول : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ مسئلہ نجاستوں کی تطہیر سے متعلق فقہاء کے اس قول سے اخذ کیا ہے : “ اگر رنگ بُو جیسا کچھ اثر باقی رہ جائے جو زائل نہیں ہوتا تو یہ مضر نہیں لہذا وہ اسے دُور کرنے

وھھنا مسألتان مسألۃ الجماعۃ ومسألۃ التیمم الذی نحن فیھا۔

 



[1]   بدائع الصنائع فصل فی شرائط رکن التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۴۷

[2]   الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲

[3]   ردالمحتار باب الامامۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۱

[4]   فتح القدیر باب صلٰوۃ المریض نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۴۵۷

[5] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن