دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : ظاہرا اس(۱) صورت میں اگر وہ اس کے نماز پڑھتے میں پانی لے آیاتیمم نہ جائےگا نماز پُوری کرے جبکہ جانے کہ وضو کرنے سے نماز وقت پر نہ ملے گی۔

لانہ کان واجد الماء قبل ھذا ظاھرا کمامر عن محمد رحمہ الله تعالٰی وانما ساغ لہ التیمّم لضیق الوقت عن استعمالہ ولم یتبدل ھذا السبب فلاینتقض التیمم بخلاف صورۃ افادھا فی الدر اذقال لوتیمم(۲) لعدم الماء ثم مرض مرضا یبیح التیمم (ای وقد وجد الماء بعدہ کما بینہ ش)لم یصل بذلك التیمّم لان اختلاف(۳) اسباب الرخصۃ یمنع الاحتساب بالرخصۃ الاولی وتصیر الاولی کان لم تکن جامع الفصولین فلیحفظ [1]  اھ۔  وفیہ کلام اوردہ ش وقد اجبنا         

اس لئے کہ ظاہرًا اس سے پہلے بھی پانی اسے دستیاب تھا جیسا کہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے اس کا بیان گزرا اور اس کیلئے تیمم صرف اس لئے جائز ہوا کہ وقت میں پانی استعمال کرنے کی گنجائش نہ تھی اور اس سبب میں اب بھی کوئی تبدیلی نہ آئی توتیمم نہ ٹوٹے گا ہاں اس کے برخلاف تیمم ٹوٹنے کی ایك صورت ہے جس کا درمختار میں اس طرح افادہ کیا ہے : “ اگر پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کیا۔ اس کے بعد اسے ایسی بیماری ہوگئی جس سے تیمم جائز ہوجاتا ہے(پھر پانی مل گیا جیسا کہ شامی نے بیان کیا ہے) تو سابقہ تیمم سے نمازنہ پڑھے۔ اس لئے کہ اسبابِ رخصت میں تبدیلی پہلی رخصت کو شمار کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ اور پہلی رخصت کالعدم ہوجاتی ہے جامع الفصولین اسے ذہن نشین رکھنا چاہئے اھ “ ۔ (ت)

اس پر کچھ کلام ہے جو علّامہ شامی نے ذکر کیا ہے

عنہ فیما علقنا علیہ لابأس بایرادہ تتیمما للفائدۃ قال رحمہ الله تعالٰی اقول لکن یشکل علیہ مافی البدائع لو(۱)مر المتیمّم علی ماء لایستطیع النزول الیہ لخوف عدو اوسبع لاینتقض تیممہ کذا ذکرہ محمد بن مقاتل الرازی وقال ھذا قیاس قول اصحابنا لانہ غیر واجد للماء معنی فکان ملحقا بالعدم اھ۔ ومثلہ فی المنیۃ اذلائخفی ان خوف العدو سبب اٰخر غیر الذی اباح لہ التیمم اولا فان الظاھر فی فرض المسألۃ انہ تیمم اولا لفقد الماء اللھم الا ان یجاب بان السبب الاول ھناباق وفیہ بحث فلیتأمل[2] اھ۔

وکتب وجہ البحث فی منھیتہ انہ اذا تیمم اولالبعدہ عن الماء فھو فاقد لہ حقیقۃ وخوف العدو فقد معنی فالحقیقی قدزال واعقبہ المعنوی فلافرق بینہ وبین المرض اذا وجد بعد الفقد الحقیقی[3] اھ۔ وکتبت علیہ مانصّہ                                          

پھر ہم نے حاشیہ شامی میں اس کا جواب بھی دیا ہے تکمیل فائدہ کیلئے یہاں اسے نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ علّامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : “ اقول : لیکن اس پر بدائع کے اس مسئلہ سے اعتراض ہوتا ہے : اگرتیمم کرنے والا ایسے پانی کے پاس سے گزرا جہاں وہ کسی دشمن یا درندہ کے خوف کی وجہ سے اُتر نہیں سکتا تو اس کاتیمم نہ ٹُوٹے گا۔ ایسا ہی محمد بن مقاتل رازی نے ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارے اصحاب کے مذہب پر قیاس کا تقاضا یہی ہے اس لئے کہ معنیً پانی اسے دستیاب نہیں تو یہ معلوم سے ملحق ہے۔ اسی کے مثل منیہ میں بھی ہے۔ وجہ اشکال یہ ہے کہ ظاہر ہے کہ پہلے جس سبب سے اس کیلئے تیمم روا ہوا تھا وہ اور ہے اور دشمن کا خوف ایك دوسرا سبب ہے۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ مفروضہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ پہلے اس کاتیمم اس لئے تھا کہ اسے پانی نہ ملا ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پہلا سبب اب بھی باقی ہے مگر اس میں بحث ہے۔ اس لئے تأمل کی ضرورت ہے اھ۔ (ت)

وجہ بحث اپنے حاشیہ میں یہ بیان فرمائی کہ جب اس نے پہلے پانی سے دُور ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو حقیقۃً پانی کا فقدان تھا اور دشمن کا خوف ہونے کی صورت میں معنیً پانی کا فقدان ہے۔ تو حقیقی فقدان ختم ہوگیا اور اس کی جگہ معنوی فقدان آگیا۔ تو اس صورت میں ، اور فقدان حقیقی کے بعد پانی ملنے کے وقت مرض ہونے کی صورت میں کوئی فرق نہیں اھ۔ (ت)

اس بحث پر میں نے درج ذیل جواب تحریرکیا :

اقول :  رحمك الله تعالی ورحمنا بك الاعدام(۱) ثلثۃ عدم الشیئ فی نفسہ وعدمہ فی مکان وعدم فی حق المکلف والماء لایفقد بالمعنی الاول الا اذا انعدم من الدنیا ولایکون ذلك بل یوم القیمۃ وانما ینعدم(۲) عن مکان وفی حق المکلف و ذلك بان لایکون حیث ھو مع لحوق الحرج فی الوصول الیہ وھذا ھو معنی عدمہ الشرعی المذکور فی باب التیمم اما اذا کان بیدہ اولاحرج علیہ فی الوصول الیہ فھو غیر معدوم فی حقہ قال فی الھدایۃ المیل ھو المختار فی المقدار لانہ یلحقہ الحرج بدخول المصر والماء معدوم عــہ حقیقۃ[4]  اھقال فی العنایۃ تقریرہ ان المنصوص علیہ کون الماء معدوما وھھنا (ای فی مکان المکلف                      

اقول : الله تعالٰی آپ پر رحم فرمائے اور آپ کے طفیل ہم پر بھی رحم فرمائے عدم کی تین قسمیں ہیں : (۱) کسی شئے کا فی نفسہٖ معدوم ہونا (۲) کسی جگہ معدوم ہونا (۳) مکلّف کے حق میں معدوم ہونا پہلے معنی پر پانی کا فقدان اسی وقت ہوگا جب وہ دنیا سے معدوم ہوجائے اور یہ روزِ قیامت سے پہلے نہ ہوگا۔ پانی کسی جگہ میں اور مکلّف کے حق میں معدوم ہوتا ہے۔ یہ اس طرح کہ مکلّف جہاں پر ہے وہاں پانی نہ ہو ساتھ ہی پانی تك رسائی میں حرج لاحق ہوتا ہو پانی کا عدم شرعی جو باب تیمم میں ذکر ہوتا ہے اس کا یہی معنی ہے۔ لیکن جب پانی اس کے ہاتھ میں ہو یا پانی تك پہنچنے میں اس کیلئے کوئی حرج اور دشواری نہ ہو تو پانی اس کے حق میں معدوم نہیں۔ ہدایہ میں ہے : مقدار کے بارے میں “ میل “ ہی مختار ہے۔ اس لئے کہ شہر میں داخل ہونے سے اس کو حرج ہوگا۔ اور پانی حقیقۃً معدوم ہے۔ (ت)عنایہ میں فرمایا : اس کی تقریر یہ ہے کہ نص میں یہ وارد ہے کہ پانی معدوم ہو اور اس وقت مکلف جس جگہ ہے وہاں پانی حقیقۃً معدوم ہے۔ لیکن ہم

 

عــہ فقد اشار بھذا الی العدم الثانی وبقولہ یلحقہ الحرج الی العدم الثالث وانما احتاج الی اثبات الثانی لان الثالث یتوقف علیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اس عبارت سے عدم ثانی کی طرف اشارہ کیا۔ اور “ اسے حرج ہوگا “ سے عدمِ ثالث کی طرف اشارہ کیا اور انہیں عدم ثانی ثابت کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ عدم ثالث اس پر موقوف ہے ۱۲ منہ غفرلہ ، (ت)

الاٰن) معدوم حقیقۃ لکن نعلم بیقین ان عدمہ مع القدرۃ علیہ لیس بمجوز للتیمّم والا لجاز لمن سکن بشاطیئ البحر وعدم الماء من بیتہ فجعلنا الحد الفاصل بین البعد والقرب لحوق الحرج لان الطاعۃ بحسب الطاقۃ قال الله تعالٰی وَمَا جَعَل علیکم فی الدّین من حرج [5] اھ۔

ولاشك ان الماء اذا کان علیہ عدو اولص اوسبع فالمعنی باق بعینہ اذلیس الماء فی مکان المکلف فھو معدوم حیث ھو حقیقۃ وفی وصولہ الیہ حرج فتحقق الامران اللذان علیھما یدور العدم الشرعی المذکورھنا ولا(۱) نظر فیہ الی کونہ بعیدا عن النظر اوبمرأی منہ اوبعیدا بعدا معینا اواقرب منہ وانما المناط لحوق الحرج فی الوصول الیہ بل ھو الفاصل ھھنا بین القرب والبعد کما سمعت اٰنفا فثبت العدم الشرعی ولم یتبدل السبب وان(۲)تبدل سبب السبب اعنی سبب الحرج فی الوصول الیہ کما اذا کان عندہ عدوہ ئخاف منہ علی نفسہ ولم یبرح حتی وردہ نص ئخاف منہ علی مالہ وذھب العدو                                          

یقینی طور پر یہ جانتے ہیں کہ پانی پر قدرت ہوتے ہوئے پانی کا معدوم ہوناتیمم جائز نہیں کرتا۔ ورنہ سمندر کے ساحل پر بسنے والا شخص جس کے گھر میں پانی معدوم ہے اس کیلئے تیمم جائز ہوتا۔ اس لئے ہم نے حرج لاحق ہونے کو دُوری ونزدیکی کے درمیان حد فاصل قرار دیا۔ کیونکہ طاعت بلحاظ طاقت ہی لازم ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے : “ اور تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہ رکھی اھ۔ اس میں شك نہیں کہ جب پانی پر دشمن یا چوریا درندہ ہو تو فقدان کا معنی بعینہ باقی ہے اس لئے کہ مکلّف کی جگہ پر تو پانی موجود نہیں اس لئے جہاں وہ ہے وہاں پانی حقیقۃً معدوم ہے اور پانی تك پہنچنے میں اس کیلئے حرج بھی ہے تو دونوں باتیں جن پر یہاں ذکر شدہ عدم شرعی کا مدار ہے وہ پالی گئیں اور اس معاملہ میں اس کا لحاظ نہیں ہے کہ پانی نگاہ سے دُور ہو ، یا دیکھنے کی جگہ میں ہو یا معین دوری پر ہو یا اس سے قریب تر ہو۔ مدار صرف یہ ہے کہ پانی تك پہنچنے میں حرج لاحق ہوتا ہو۔ بلکہ یہی قرب وبُعد کے درمیان یہاں حدِّ فاصل ہے



[1]   الدرالمختار  باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲

[2]   ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن