30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تابع ہے مقصود بالذات نہیں ہے۔ مگر نماز جنازہ وعید خود اصل ہیں تو ان کا فوت ہونا ایك اصل مقصود کا فوت ہونا ہے “ اھ یہ صاحبِ بحر کی تمام تر کاوش ہے ، خدا ان پر اور ان کے طفیل ہم پر رحم فرمائے منحۃ الخالق میں علّامہ شامی نے بھی ان سب کو برقرار رکھا ہے۔ (ت)
اقول۔ اولًا : ایك شیئ کا دوسری شیئ کی صفت ہونا اس کے غیر مقصود بالذات ہونے کو لازم نہیں کرتا جیسے کفارہ قتل میں دئے جانے والے غلام یا باندی میں صفت ایمان غیر مقصود بالذات نہیں بلکہ بعض اوقات خود وصف ہی مقصود ہوتا ہے جیسے مصرفِ زکوٰۃ میں صفتِ اسلام۔
ثانیا : ہمیں قطعی طور پر معلوم ہے کہ مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی نے جس طرح ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ نماز کو اس کے مقررہ وقت کے اندر ادا کریں اور بغیر کسی عذر کے اس وقت سے باہر لانا حرام فرمایا ہے ، تو سبھی مقصود بالذات ہے ارشاد ہے : “ بے شك نماز ایمان والوں پر وقت باندھا ہوا فریضہ ہے “ ۔ اور ارشاد ہے : “ نمازوں اور بیچ والی نماز کی حفاظت کرو “ اور فرمایا : “ تو ویل (خرابی) ہے ان نمازیوں کیلئے جو اپنی نمازسے غافل ہیں “ ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نماز اس حد تك مؤخرکرتے ہیں کہ اس کا وقت نکل جاتا ہے انہیں نمازی کہا ، ساتھ ہی ان کیلئے وَیل بھی قرار دیا اس لئے
مقصودا عینا۔
وثالثا : لئن(۱) سلم محافظۃ الوقت فرض عین والجنازۃ فرض کفایۃ وصلاۃ العید لیست فریضۃ اصلا والفرض ولو مقصودا لغیرہ اھم واعظم مما دونہ ولو مقصودا لذاتہ الا(۲) ترٰی ان لوضاق الوقت عن الواجبات وجب اسقاطھا والاقتصار علی الفرض لایقاعہ فی الوقت واذ ا لامر ھکذا فاذا جاز التیمّم لخوف فوت الادنی کیف لایجوز للاعلی لاسیما وقد سقط فرض الجنازۃ بصلاۃ غیرہ۔
ورابعا : قد(۳) قلتم بالتیمم لخوف فوت السنن وما ھن اصول انما شرعت مکملات للاصول وعلی(۴) التسلیم فاین التحفظ علی فریضۃ الوقت من التحفظ علی سنۃ۔
وخامسا : (۵) قد سلمتم ان الفائت لا الی خلف یجوزلہ التیمم ولاشك ان الطلب الالھی منتھض علی ایقاع الفریضۃ فی وقتھا کانتھاضہ علی نفس ایقاعھا وھذا لاخلف لہ وان کانت الصلاۃ لھا خلف فھذا مقصود الدلیل ولایمسہ الجواب۔
کہ وہ نماز وقت سے باہر ادا کرتے ہیں۔ تو خود وقت بھی مقصود بالذات ہُوا۔ (ت)
ثالثا : اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے تو بھی یہ کہا جائے گا کہ وقت کا تحفظ فرض عین ہے اور جنازہ فرض کفایہ ہے اور نمازِ عید تو سرے سے فرض ہی نہیں (بلکہ واجب ہے) اور فرض اگرچہ مقصود بغیرہ ہو ، اپنے نیچے والے سے خواہ وہ مقصود بالذات ہو زیادہ عظمت واہمیت رکھتا ہے۔ دیکھئے اگر وقت اس قدر تنگ ہے کہ صرف فرائض ادا کرسکتا ہے واجبات کی گنجائش نہیں تو واجبات کو ساقط کردینا اور فرض پر اکتفا کرنا لازم ہے تاکہ ادائیگی وقت کے اندر ہوجائے یہ معاملہ ہے تو جب فوتِ ادنٰی کے اندیشہ سے تیمم جائز ہو تو اعلٰی کی وجہ سے کیوں جائز نہ ہوگا جب کہ فرض جنازہ تو دوسرے کے پڑھ لینے سے ساقط ہوجاتا ہے۔ (ت)
رابعا : آپ نے تو سنتیں فوت ہونے کے اندیشہ سے بھی تیمم جائز کہا ہے حالانکہ سنتیں اصل نہیں بلکہ یہ اصل کے متمم کی حیثیت سے مشروع ہوئی ہیں اور اگر یہی مان لیا جائے کہ سُنتیں خود مقصود اور اصل ہیں تو بھی کہاں وقت جیسے اہم فریضہ کا تحفظ اور کہاں سنّت کا تحفظ (دونوں میں بڑا فرق ہے)۔ (ت)
خامسا : آپ کو یہ تسلیم ہے کہ اگر فوت ہونے والی چیز ایسی ہو کہ اس کا کوئی نائب وبدل نہیں تو اس کیلئے تیمم جائز ہے۔ اب اس میں کوئی شك نہیں کہ خدا کا مطالبہ نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کرنے کا بھی اسی طرح ہے جیسے خود نماز پڑھنے کا ہے اور وقت کے اندر ادا کرنا ایسا امر ہے جس کا کوئی بدل نہیں اگرچہ نفس نماز کا بدل ہے۔ دلیل پنجم کا مقصود یہی تھا جس سے جواب کو کوئی مس نہیں۔ (ت)
وسادسھا : کما اقول اجمع ائمتنا رضی الله تعالٰی عنھم ان الجنب الخائف من البرد خارج المصر یتیمّم [1] کما فی الھدایۃ وعامۃ الکتب وقد تقدم عن الحلیۃ والبدائع والبحر والاسبیجابی والتمرتاشی ومعلوم(۱) ان الخوف ربما کان فی الصبح اذا اصبح جنبا فی لیلۃ باردۃ ویزول بعد ارتفاع الشمس ولم یأمروہ بالتاخیر بل اباحوا لہ التیمم فماھو الالحفظ الوقت۔
وسابعھا : کما اقول : اباحوہ(۲)لخوف عدو ولص وسبع وحیۃ ونار ومعلوم ان کثیرا من ھذہ لایلبث الاقلیلا فالنار تنطفی اوتمر فی ساعۃ اوساعتین ولم یقولوا یصبر وان خرج الوقت۔
فان اجبت کما خطرببالی ان التیمّم لیس لحفظ الوقت وانما ھو لدفع الضرر والحرج حیث کان وفی البرد والنار وامثالھا ضرر وفی بعدہ میلا حرج فتحقق المناط لانہ اذا(۳) ادرك الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھا ولاینظر الا
دلیل ششم : جیسا کہ میں کہتا ہوں ، ہمارے ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا اس پر اجماع ہے کہ جنب جسے بیرونِ شہر سردی سے خطرہ ہے وہ تیمم کرے جیسا کہ ہدایہ اور عامہ کتب میں ہے۔ اور حلیہ ، بدائع ، بحر ، تُمرتاشی کے حوالہ سے پہلے ذکربھی ہوچکا یہ معلوم ہے کہ زیادہ تر صبح کو خوف ہوتا ہے جبکہ کسی سردی کی رات میں صبح کو جنابت کی حالت میں اُٹھے۔ پھر سورج بلند ہونے کے بعد خوف نہیں رہ جاتا۔ مگر ائمہ نے اسے یہ حکم نہ دیا کہ آفتاب بلند ہونے تك نماز مؤخر کرے بلکہ اس کیلئے تیمم جائز قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ تحفّظِ وقت ہی کیلئے ہے۔ (ت)
دلیل ہفتم : جیسا کہ میں کہتاہوں ، دشمن ، چور ، درندے ، سانپ اور آگ کے خوف سے تیمم جائز قرار دیا گیا ہے جبکہ معلوم ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جو تھوڑی ہی دیر رہتی ہیں۔ آگ بھی گھنٹے دو گھنٹے میں بُجھ جاتی ہے یا گزر جاتی ہے۔ مگر یہ حکم نہ ہُوا کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے۔ (ت)اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے جیسا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ تیمم تحفّظِ وقت کیلئے نہیں بلکہ ضرر وحرج دفع کرنے کیلئے ہے جہاں بھی ہو۔ ٹھنڈك اور آگ جیسی چیزوں میں ضرر ہے اور ایك میل دُور ہونے میں حرج ہے تو جو امر مدار جواز ہے وہ پالیا گیا۔ اس لئے کہ جب نماز کا وقت آگیا اور اس نے
الی حالتہ الواھنۃ وھو فیھا متضرر اومتحرج بالوضوء اوالغسل فابیح لہ التیمّم۔
اقول : ھل ئختص الحرج والضرر بمایصیب بدنہ ومالہ ام یعم مایستضر بہ فی دینہ علی الاول لم ابحتم لخوف فوت جنازۃ وعید وعلی الثانی ان کان علیہ ضرر فی دینہ لفوت فرض کفایۃ مع انھا قد اقیمت و واجب بل و سنۃ لا الی بدل اذ لا براء ۃ لعھدتہ عن ھذہ المطالبۃ الشرعیۃ الا بالتیمم فضرر اعظم واشد منہ فی فوت الفریضۃ عن وقتھا ولابراء ۃ لعھدتہ عن ھذہ المطالبۃ الشرعیۃ العظمی اعنی الاتیان بھا فی وقتھا الا بالتیمّم فیجب ان یباح۔ ھذا ماعندی فاستنار بحمدالله تعالٰی ماجنح الیہ المحقق واتباعہ من قوۃ دلیل زفر بل دلیل ائمتنا جمیعا فی الروایۃ الاخری
نماز پڑھنا چاہی تو اس سے اسے روکا نہ جائے گااور اس کی موجودہ حالت ہی دیکھی جائے گی۔ اس حالت میں وضو یا غسل سے واقعۃً اس کیلئے ضرر یا حرج ہے توتیمم اس کیلئے جائز قرار دیا گیا۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) کیا حرج یا ضرر اسی چیز سے خاص ہے جو اس کے بدن اور مال سے تعلق رکھتی ہو یا اسے بھی عام ہے جس سے اس کے دین میں نقصان وضرر ہو؟ پہلی تقدیر پر یہ کلام ہے کہ پھر آپ نے فوت جنازہ وعید کے اندیشہ سے تیمم کیوں جائز کہا؟ اور دُوسری تقدیر پر یہ کہ اگر اس کے دین کا نقصان اِس میں ہے کہ ایك فرض کفایہ فوت ہورہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں سے اس کی ادائیگی عمل میں آچکی اور اس میں کہ ایك واجب فوت ہورہا ہے بلکہ صرف ایك سنّت بھی جس کا کوئی بدل نہیں۔ (اس لئے آپ نے تیمم کو جائز کہا)کیوں کہ بغیرتیمم کے وہ اس شرعی مطالبہ سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا تو اس سے زیادہ عظیم اور اس سے زیادہ شدید نقصان تو اس میں ہے کہ ایك فرضِ عین اپنے وقت سے فوت ہورہا ہے اور بغیرتیمم کے اِس عظیم تر شرعی مطالبہ وقت کے اندر ادائیگی سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ تو لازم ہے کہ اس کیلئے بھی تیمم جائز ہو۔ (ت)
ھذا ماعندی (میرے علم وفکر کی رُو سے یہی ہے) اس تفصیل سے بحمدالله تعالٰی وہ روشن ہوگیا جس کی طرف محقق علی الاطلاق اور ان کے متبعین کا رُجحان ہے کہ امام زفرکی دلیل بلکہ روایتِ دیگر کے لحاظ سے ہمارے سبھی ائمہ کی دلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع