30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : سبحن(۱) الله ماکان الخوف لیوجب الاتیان بھا فی الوقت مع ارتکاب المنافی بل کانوا بسبیل من تأخیرھا الی ان یطمئنوا کما قلتم فی بحرکم فی عدۃ فروع :
منھا۱ ازدحم جمع علی بئر لایمکن الاستقاء منھا الا بالمناوبۃ لضیق الموقف اولاتحاد اٰلۃ الاستقاء ونحو ذلك وعلم انھا لاتصیر الیہ الابعد خروج الوقت و یصبر عندنا لیتوضأ بعد الوقت وعند زفر
تقریر اس طرح ہونی چاہئے تاکہ فتح کی عبارت سے متعلق یہ تیسرا کلام ہوجائے کہ آپ نے جو فرمایا کہ کوتاہی خود اس کی جانب سے ہُوئی تو اس پر زیادہ سے زیادہ یہ ہونا چاہئے کہ آپ حکم یہ دیں کہ و ہ تیمم کرلے پھر اعادہ کرے جیسا کہ یہ ہر اُس عذر کا حکم ہے جو بندوں کی جانب سے رونما ہوا ہو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے آپ تیمم سے بالکل ہی روك دیں۔ (ت)
دلیل دوم : یہ نماز خوف ہے جس کی مشروعیت تحفّظِ وقت کیلئے ہی ہُوئی ہے۔ اس کا جواب بحر میں یہ دیا ہے کہ : “ نمازِ خوف تو خوف کی وجہ سے ہے ، فوتِ وقت کے اندیشہ سے نہیں ہے “ ۔ اھ اقول : سبحان اللہ۔ خوف کی حیثیت اتنی بڑھی ہُوئی نہیں کہ منافی نماز کے ارتکاب کے ساتھ وقت کے اندر نماز کی ادائیگی لازم کردے بلکہ ان کیلئے امن واطمینان ہونے تك تاخیر کی گنجائش تھی جیسا کہ بحر کے اندر متعدد جزئیات میں خود آپ ہی اس کے قائل ہیں۔ چند جزئیات درج ذیل ہیں :
جزئیہ۱ : کسی کُنویں پر ایك ہجوم جمع ہے اور باری باری پانی نکالنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں اس لئے کہ کھڑے ہونے کی جگہ تنگ ہے یا ڈول رسّی ایك ہی ہے یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ جب تك اس کی باری آئے گی وقت نکل جائےگا تو ہمارے نزدیك حکم یہ ہے کہ
یتیمم [1] ۔
ومنھا۲ جمع(۱) من العراۃ لیس معھم الا ثوب یتناولونہ وعلم ان النوبۃ لاتصل الیہ الا بعد الوقت فانہ یصبر ولایصلی عاریا [2]۔ ومنھا۳اجتمعوا(۲) فی سفینۃ اوبیت ضیق ولیس ھناك موضع یسع ان یصلی قانما لایصلی قاعدا بل یصبر ویصلی قائما بعد الوقت [3]۔ ومنھا۴ معہ(۳) ثوب نجس وماء لغسلہ ولکن لوغسل خرج الوقت لزم غسلہ وان خرج[4] ۔ ومنھا۵ کذا(۴) لوکان مریضا عاجزا عن القیام (۶) واستعمال(۵) الماء فی الوقت ویغلب علی ظنہ القدرۃ بعدہ[5] اھ ای یؤخر ولایصلی فی
الوقت۔ ومنھا۷ وعدہ صاحبہ ان
انتظار کرے تاکہ وقت کے بعد وضو کرسکے ، اور امام زفر کے نزدیك یہ حکم ہے کہ تیمم کرلے۔ جزئیہ۲ : چند آدمی برہنہ ہیں جن کے پاس(ستر عورت کے قابل)ایك ہی کپڑا ہے جسے باری باری باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں ، ان میں سے کسی کو معلوم ہے کہ جب تك اس کی باری آئے گی وقت نکل جائے گا تو وہ انتظار کرے اور برہنہ نماز نہ پڑھے۔ جزئیہ۳ : کسی کشتی یا تنگ کوٹھڑی میں لوگ جمع ہیں جہاں اتنی جگہ نہیں کہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرے تو وہ بیٹھ کر نہ پڑھے بلکہ انتظار کرے اور وقت گزر جانے کے بعد کھڑے ہوکر نماز ادا کرے۔ جزئیہ۴ : کسی کے پاس ایك ناپاك کپڑا ہے اور اس کے دھونے کیلئے پانی بھی موجود ہے لیکن اگر کپڑا دھونے میں لگتا ہے تو نماز کا وقت نکل جائےگا اس پر لازم ہے کہ کپڑا دھوئے (اور پاك کپڑے سے ہی نماز ادا کرے)اگرچہ وقت نکل جائے۔ جزئیہ ۵-۶ : کوئی ایسا مریض ہے جو بروقت کھڑا ہونے پر قادر نہیں ، یا ایسا بیمار ہے کہ ابھی وقتِ نماز میں پانی نہیں استعمال کرسکتااور ظن غالب ہے کہ وقت نکل جانے کے بعد (کھڑے ہونے یا پانی استعمال کرنے پر) قدرت ہوجائیگی ، تو وہ حصولِ قدرت تك نماز مؤخر کرے اور وقت کے اندر (بلاقیام یاتیمم سے) نماز نہ پڑھے۔ جزئیہ۷ : کسی سے اس کے ساتھی نے
یطیعہ الاناء فرع علیہ محمد انہ ینتظر وان خرج الوقت لان الظاھر الوفاء بالعھد فکان قادرا علی الاستعمال ظاھرا[6]۔
ومنھا۸ کذا(۱) اذا وعد الکاسی العاری ان یعطیہ الثوب اذافرغ من صلاتہ لم تجزہ الصلاۃ عریانا لما قلنا[7] نقلتم ھذین عن البدائع والبواقی عن التوشیح ولکن المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی لم یرض لھم بتفویتھا عن وقتھا وشرع لھم صلاۃ الخوف فما کان الا لحفظ الوقت۔
ثمّ اقول : الفرعان(۲) الاخیران عن محمّد والیہ عزاھما فی البدائع عــــــہ الحکم فیھما عند امامنا رضی الله تعالٰی جبرتن دینے کا وعدہ کیا۔ اس پر امام محمد نے یہ تفریع کی ہے کہ انتظار کرے اگرچہ جوقت نکل جائے اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ وہ وعدہ وفا کرے گا تو ظاہرًا وہ استعمال پر قادر ہے۔
جزئیہ۸ : اسی طرح کپڑے والے نے برہنہ سے وعدہ کیا کہ میں نماز سے فارغ ہوکر تجھے کپڑا دے دوں گا تو اسے برہنہ نماز پڑھنا جائز نہیں۔ وجہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ جزئیہ (۷ ، ۸)آپ نے بدائع سے نقل کیا ، باقی توشیح سے ۔ (ان جزئیات کی روشنی میں خوف والوں کا بھی یہی حکم ہونا چاہئے تھا کہ وہ زوال خوف کا انتظار کریں اگرچہ وقت نکل جائے)لیکن مولٰی سبحانہ وتعالٰی نے ان کیلئے نماز فوت کرناپسند نہ کیا اور نماز خوف مشروع فرمائی تو یہ نماز تحفظ وقت ہی کیلئے تو ہُوئی۔ (ت)
دلیل ۳-۴ ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں) آخری دونوں جزئیے امام محمد سے منقول ہیں اور بدائع میں ان ہی کی طرف انہیں منسوب کیا ہے ہمارے امام اعظم
عــــہ : قال فی الخانیۃ مع رفیقہ دلو مملوك رفیقہ قال انتظر حتی استقی الماء ثم ادفعہ الیك فالمستحب لہ ان ینتظر الی اٰخر الوقت فان تیمّم ولم ینتظر جاز وکذا
خانیہ میں ہے : “ کسی مسافر کے ہم سفر کے پاس اسی ہم سفر کا مملوکہ ڈول ہے اس نے مسافر سے کہا تم انتظار کرو میں پانی نکال لُوں تو تمہیں ڈول دوں گا۔ تو مسافر کیلئے آخر وقت تك انتظار کرلینا مستحب ہے۔ اگر اس نے بلا انتظار تیمم کرلیا تو جائز ہے۔ اسی طرح(باقی برصفحہ آیندہ)
عنہ انہ یصلی فی الوقت متیمّما اوعاریا لان القدرۃ علی ماسواء الماء لایثبت عندہ بالاباحۃ کما سیأتی۔
اقول : وھذا ایضا من مؤیدات زفر اذلو لاحفظ الوقت لأمر بالتاخیر لاسیما رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك دونوں مسئلوں میں حکم یہ ہے کہ وہ وقت کے اندرتیمم سے یا برہنہ نماز پڑھ لے اس لئے کہ ان کے نزدیك پانی کے علاوہ چیزوں پر اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آرہا ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) اس سے بھی امام زفر کے مذہب کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ اگر تحفظ وقت ملحوظ نہ ہوتا (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع