30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فاقول : کیا آپ حضرات اس کے قائل نہیں ہیں کہ پانی ایك میل کی دُوری پر ہو توتیمم جائز ہے؟ اگرچہ پانی اس کی سمتِ سیری میں ہو۔ اس میں فوت شدہ نمازوں کی زیادتی کہاں ہے؟ یہ بات بھی ہے کہ اگر زیادتیِ فوائت کا اندیشہ ہے تو دور دراز سفروں میں ہے مگر آیت کریمہ میں جو سفر مذکور ہے اس سے خاص سفرِ قصر مراد نہیں بلکہ یہ حکم ہر اس شخص کو شامل ہے جو شہر سے باہر ہو اگرچہ لکڑی کاٹنے ، یا گھاس لانے ، یا سوار کا جانور ڈھونڈنے ہی کیلئے نکلا ہو ، جیسا کہ خانیہ اور مُنیہ میں افادہ فرمایا ہے۔ اور ہدایہ وعنایہ میں ہے : “ تیمم کا جواز ہر اس شخص کیلئے ہے جو شہر کے باہر ہو اگرچہ مسافر نہ ہو بشرطیکہ اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل کا فاصلہ ہو “ ۔ اھ خود آپ ہی نے خانیہ سے یہ عبارت نقل کی ہے
ان(۱) قلیل السفر وکثیرہ سواء فی التیمم والصلاۃ علی الدابۃ خارج المصر انما الفرق بین القلیل والکثیر فی ثلثۃ فی قصر الصلٰوۃ والافطار ومسح الخفین [1] اھ واذا ثبت ذلك ثبت ان لیس تشریعہ الا لاحراز الوقت۔
وثانیا : التقصیر جاء من قبلہ فلایوجب الترخیص علیہ [2] اھ فتح۔
اقول : تقریرہ سلمنا ان التیمّم لحفظ الوقت لکن انما یستحقہ من لیس ضیق الوقت من قبلہ کمن خاف عدوا اومرضا فانہ ان ینتظر یذھب الوقت من دون تفریط منہ فرخص لہ الشرع فی التیمّم کیلا یفوتہ الوقت اما ھذا فقد قصر واخر بنفسہ حتی ضاق الوقت عن الطھارۃ والصلاۃ فلایستحق الترفیہ بالترخیص۔
اوردہ فی الفتح بانہ انما یتم اذا کہ : “ بیرون شہرتیمم اور سواری پر ادائے نماز کے معاملہ میں قلیل وکثیر سفر سب برابر ہیں۔ قلیل وکثیر کے درمیان فرق صرف تین مسائل میں ہے : (i) نماز میں قصر کرنا (ii) روزہ قضا کرنا (iii) موزوں پر مسح (کی مدت کم وبیش ہونا) “ اھ۔ جب یہ ثابت ہے تو یہ بھی ثابت ہے کہ تیمم کی مشروعیت تحفظِ وقت ہی کیلئے ہوئی ہے۔
ثانیًا : تقصیر وکوتاہی خود اس کی جانب سے ہوئی تو یہ اس کیلئے موجبِ رخصت نہ ہوسکے گی اھ۔ فتح القدیر۔
اقول : اس جواب کی تقریر اس طرح ہوگی ، ہمیں تسلیم ہے کہ تیمم وقت کے تحفظ کی خاطر ہے لیکن جو ایسا ہو کہ وقت کی تنگی خود اس کی طرف سے نہ پیدا ہوئی وہی اس کی رخصت کا مستحق ہوگا مثلًا وہ شخص جسے کسی دشمن یا مرض کا خطرہ ہو کہ وہ اگر انتظار کرتا ہے تو وقت نکل جائے گا اور خود اس کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں تو اس کیلئے شریعت نے تیمم کی رخصت دی ہے تاکہ و قت فوت نہ ہو لیکن اس شخص نے تو کوتاہی کی ہے اور خود ہی نماز یہاں تك مؤخر کردی کہ وقت میں طہارت اور نماز کی گنجائش نہ رہی تو ایسا شخص رخصت کی آسائش پانے کا حقدار نہیں۔ فتح القدیر میں اس جواب کو ان الفاظ سے رَد کردیا ہے کہ : “ یہ جواب اسی وقت تام ہوگا جب
اخرلالعذر[3] اھ۔
اقول : ای مع ان الحکم عام عند الفریقین وکیف یقال جاء التقصیر من قبلہ فیمن نام فما استیقظ الا وقد ضاق الوقت عن الطھارۃ بالماء واداء الفرض وھذا نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قائلا لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ [4] رواہ مسلم عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ وکذا من نسی صلاۃ ولم یتذکر الا عند ضیق الوقت وقدرفع عن امتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخطاء والنسیان[5] فلا تقصیر من ناس۔
بل اقول : (۱) مثنّیا الرّخص(۲) الالٰھیۃ مباحۃ عندنا للمطیع والعاصی فمن سافر لمعصیۃ حل لہ الفطر اس نے بغیر کسی عذر کے نماز مؤخر کردی ہو۔
اقول : مقصد یہ ہے کہ حکم تو (بلاعذر تاخیر کرنے والے اور عذر کی وجہ سے تاخیر کرنے والے) دونوں ہی کے لئے فریقین کے نزدیك عام ہے (جس کے یہاں جواز ہے تو دونوں کیلئے ، جس کے یہاں عدمِ جواز ہے تو دونوں کیلئے) اب وہ شخص جو سوگیا ، بیدار ہوا تو ایسے ہی وقت کہ پانی سے طہارت اور ادائے فرض کی گنجائش نہیں اس کے بارے میں کیسے کہا جاسکتا ہے کہ خود اسی کی جانب سے کوتاہی ہوئی جب کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرمارہے ہیں : “ نیند (کی صورت) میں کوتاہی نہیں کوتاہی تو بیداری (کی صورت) میں ہے “ ۔ یہ حدیث امام مسلم نے ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی۔ ایسے ہی وہ شخص جسے نماز کا خیال نہ رہا یاد آئی تو وقت تنگ ہوچکا ہے۔ خطا ونسیان تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اُمّت سے اٹھا لیا گیا ہے تو نسیان والے کی جانب سے بھی کوتاہی نہیں۔
بلکہ اقول : مثنّیا (دوسرے نمبر پر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ خدا کی دی ہوئی رخصتیں ہمارے نزدیك مطیع وعاصی دونوں ہی کیلئے عام ہیں۔ جو کسی معصیت کیلئے سفر کررہا ہے اس کیلئے بھی روزہ
بل وجب علیہ القصر ومن اجنب بالزنا والعیاذ بالله تعالٰی ولم یجد ماء جازلہ التیمّم بل افترض علیہ۔ ثم رأیت تلمیذہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ نقل کلامہ وایدہ وبحث فی التأخیر بلاعذر بعین مابحثت ولله الحمد قال لکن المذھب ان المطیع والعاصی فی الرخص سواء [6] اھ۔ وافاد فائدۃ اخری فقال لوقیل تأخیرہ الی ھذا الحد عذرجاء من قبل غیر صاحب الحق لقیل فینبغی ان یقال یتیمم ویصلی ثم یعید بالوضوء کمن لم یقدر علی الوضوء من قبل العباد [7] اھ
اقول : ھذا لامدخل(۱) لہ فی البحث من قبل احد من الفریقین فلیس لاحدھما ان یبدئ بہ او یعید اما ائمتنا فلانھم لایقولون بالتیمّم واما زفر فلانہ لایقول بالاعادۃ بل کان حقہ ان یقرر ھکذا
نہ رکھنا جائز ہے بلکہ اس کے ذمہ نماز قصر کرنا واجب ہے ۔ اور جسے زنا کی وجہ سے ۔ والعیاذ بالله تعالٰی ۔ جنابت ہوئی اور پانی نہ پاسکا اس کیلئے بھی تیمم جائز بلکہ فرض ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ امام ابن الہام کے شاگرد محقق حلبی نے حلیہ میں ان کی عبارت نقل کرکے اس کی تائید کی ہے اور “ تاخیر بلاعذر “ سے متعلق بعینہ یہی بحث کی ہے جو میں نے کی وللہ الحمد ان کے الفاظ یہ ہیں : “ لیکن مذہب یہ ہے کہ رخصتوں کے معاملہ میں مطیع وعاصی یکساں ہیں “ ۔ اھ بلکہ انہوں نے ایك اور افادہ فرمایا ہے ، لکھتے ہیں : اگر یہ کہا جائے کہ اس حد تك تاخیر ایسا عذر ہے جو غیر صاحب حق کی جانب سے رُونما ہوا۔ تو اس کے جواب میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ، پھر وضو کرکے اعادہ کرے جیسے وہ شخص جو بندوں کی جانب سے پیدا ہونے والے کسی عذر کی وجہ سے وضو پر قادر نہ ہو۔ اھ (ت)
میں کہتا ہوں فریقین میں سے کسی جانب سے بحث میں اِس کلام کا کوئی دخل نہیں ، اس لئے یہ کسی کا قول نہیں کہ پہلے تیمم کرلے ، پھر پانی سے اعادہ کرے۔ ہمارے ائمہ کے نزدیك اس لئے کہ وہ یہاں جوازِتیمم کے قائل ہی نہیں اور امام زفر کے نزدیك اس لئے کہ وہ اعادہ کے قائل نہیں۔ اس مقصد کی
لیکون مثلّثا لما فی الفتح ان غایۃ ماقلتم ان التقصیر من قبلہ ان تأمروہ بالتیمّم ثم الاعادۃ کماھو حکم کل عذر جاء من قبل العباد لاان تحجروا علیہ التیمّم رأسا۔
وثانیھا : ھذہ صلٰوۃ الخوف ماشرعت الالحفظ الوقت۔ واجاب عنہ فی البحر بان صلاۃ الخوف للخوف دون خوف الفوت[8] اھ۔
[1] فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزلہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
[2] فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۳
[3] فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۱۲۳
[4] سنن ابی داؤد باب فیمن نام عن صلٰوۃ مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۶۴
[5] سنن ابن ماجہ طلاق المکرہ و النا سی مطبع مجتبائی لاہور ص ۱۴۸
[6] حلیہ
[7] حلیہ
[8] البحرالرائق ، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۵۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع