30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فاقول : اس جواب کا حاصل یہ ہوا کہ نماز کسوف شعار نہیں اور ہر واجب شعار ہوتا ہے اس لئے نماز کسوف واجب نہیں اس دلیل کا کبری ممنوع ہے اس لئے کہ بہت سے ایسے بھی واجب ہیں جو شعار نہیں جیسے کفارہ قسم ، کفارہ ظہار ، کفارہ صیام اسی طرح صغری بھی ممنوع ہے صغری کی دلیل یہ دی تھی کہ یہ نماز عارض کی بنا پر ہوتی ہے اور جو عارض کی بنا پر ہو وہ شعار نہیں اس قیاس کا بھی کبری ممنوع ہے۔ آخر اس کبری کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ اسرار میں یہ فرمایا ہے
کما فی الفتح انھا صلاۃ تقام علی سبیل الشھرۃ فکان شعار للدین حال الفزع [1] اھ۔
وقال فی البدائع امافی کسوف الشمس فقد ذکر القاضی فی شرحہ مختصر الطحاوی انہ یصلی(۱) فی الموضع الذی یصلی فیہ العید اوالمسجد الجامع لانھا من شعائر الاسلام فتؤدی فی المکان المعد لاظھار الشعائر [2] اھ وقد اجاب فی الفتح عن استدلال الاسرار علی وجوبھا بشعاریتھا بان المعنی المذکور لایستلزم الوجوب اذلامانع من استنان شعار مقصود ابتداء فضلا عن شعار یتعلق بعارض [3] اھ۔ وھذا کما ینفی الاستدلال علی الوجوب بالشعاریۃ کذلك یرد الاستدلال علی نفی الشعاریۃ
جیسا کہ فتح القدیر میں نقل کیا ہے : “ یہ ایسی نماز ہے جو علانیہ طور پر اور بطریق شہرت واعلان ادا کی جاتی ہے تو فزع اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ دین کا شعار ہے “ اھ۔ (ت)
اور بدائع میں فرمایا ہے : نماز کسوف کے بارے میں قاضی نے مختصر طحاوی کی شرح میں ذکر کیا ہے کہ یہ عید گاہ یا جامع مسجد میں ادا کی جائے گی اس لئے کہ یہ ایك شعار اسلام ہے تو اس کی ادائیگی ایسی ہی جگہ ہوگی جو شعائر دین کے اعلان واظہار کیلئے تیار کر رکھی گئی ہے “ اھ۔ (ت)
اسرار میں نماز کسوف کے وجوب پر اس امر سے استدلال کیا کہ وہ شعائر اسلام ہے تو فتح القدیر میں اس کا یہ جواب دیا کہ : “ معنی مذکور (یعنی کسوف کا شعارِ اسلام ہونا) وجوب کو مستلزم نہیں اس لئے کہ جو شعار ابتدا ہی سے مقصود ہو اس کے بھی مسنون ہونے سے کوئی مانع نہیں پھر جو شعار محض کسی عارض سے متعلق ہو اس کے مسنون ہونے سے کون سی چیز مانع ہوسکتی ہے؟ “ اھ (ت)نماز کسوف کے وجوب پر اس کے شعار اسلام ہونے سے جو استدلال کیا گیا ہے اس جواب سے اس کی تردید ہوتی ہے اسی طرح اس جواب سے اُس
بکونہ لعارض۔
وبالجملۃ(۱) ذھب الاسرار الی ان کل شعار واجب والعنایۃ الی ان کل واجب شعار والصحیح ان بینھما عموما من وجہ یجتمعان فی العیدین ویفترقان فی الاذان والکفارات ثم رأیت سعدی افندی اعترض العنایۃ باعتراضی الثانی اٰخذا عن الفتح اذ قال اقول ماالمانع في تعلق ماھو من الشعائر بعارض تأمل [4] اھ۔
لکنی اقول : وبالله التوفیق لم(۲) یتم الجواب عن کلام محررالمذھب فی الاصل اذلوکان مرادہ ھذا لم
استدلال کی بھی تردید ہوتی ہے جس میں ہے یہ کہا گیا ہے کہ نماز کسوف امر عارض کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے شعار نہیں ہوسکتی۔
مختصر یہ کہ صاحبِ اسرار کا یہ خیال ہے کہ ہر شعار واجب ہوتا ہے اور صاحبِ عنایہ کا یہ نظریہ ہے کہ ہر واجب شعار ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ واجب اور شعار میں عموم من وجہ کی نسبت ہے کوئی امر واجب اور شعار دونوں ہوتا ہے جیسے نماز عیدین اور کوئی چیز شعار تو ہوتی ہے مگر واجب نہیں ہوتی جیسے اذان۔ اور کوئی امر واجب ہوتا ہے مگر شعار نہیں ہوتا جیسے کفّارات (مصنف کے مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ) عیدین میں واجب وشعار دونوں کا اجتماع ہے۔ اذان اور کفّارات میں دونوں کا افتراق ہے پھر میں نے دیکھا کہ میں نے عنایہ پر جو دوسرا اعتراض کیا ہے وہی سعدی آفندی نے بھی فتح القدیر سے اخذ کرتے ہوئے اپنے ان الفاظ میں کیا ہے : “ میں کہتا ہوں جو چیز شعائر اسلام سے ہو کسی عارض سے اس کا تعلق ہونے سے کون سی چیز مانع ہے؟ تأمل سے کام لو “ ۔ اھ (ت)
لکنی اقول : وبالله التوفیق ، مبسوط میں محرر مذہب کے ارشاد (قیام رمضان اور نمازِ کسوف کے سوا کوئی نفلی نماز جماعت سے نہ ادا کی جائیگی ، کا جواب تام نہیں ہوا اس لئے کہ اگر ان کی مراد وہ
یصح الحصر فیھما لمکان العیدین۔
اما الاستدلال(۱) بصیغۃ الامر فاقول منقوض بصلاۃ الخسوف بل وصلوات(۲) الریح الشدیدۃ والصواعق والزلزلۃ والمطر والثلج الدائمین والظلمۃ بالنھار والضوء الھائل باللیل وامثال ذلك الاھوال اعاذنا المولٰی سبحٰنہ وتعالی واھل السنۃ جمیعا منھا دنیا واخری اٰمین فانھا مستحبۃ اجماعا والامر یشملھا جمیعا۔
وقد(۳) قال ملك العلماء نفسہ اما صلاۃ خسوف القمر فحسنۃ لما روینا عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذارأیتم من ھذہ الافزاع شیأ فافزعوا الی الصّلاۃ [5] اھ ثم قال وکذا تستحب الصلاۃ فی کل فزع کالریح الشدیدۃ والزلزلۃ والظلمۃ والمطر الدائم لکونھا من الافزاع والاھوال [6] اھ
ہوتی تو دو میں حصر درست نہ ہوتا اس لئے کہ ان دونوں کے علاوہ عیدین بھی جماعت سے ادا ہوتی ہیں۔
اب رہا صیغہ امر سے وجوب پر استدلال ، فاقول : خسوف (چاند گہن) کی نماز ، بلکہ آندھی ، صاعقے ، زلزلے ، دائمی ابرباری وبرف باری ، دن میں تاریکی ، رات میں خوفناك تا بانی ، اور اس طرح کی دوسری ہولناك چیزیں مولٰی سبحانہ وتعالٰی ہمیں اور تمام اہل سنت کو ان سے دنیا اور آخرت میں پناہ میں رکھے۔ آمین سب سے متعلق نمازوں سے اس استدلال پر نقض وارد ہوتا ہے کیونکہ یہ سب بالاجماع مستحب ہیں۔ اور امر سب کو شامل ہے۔ خود ملك العلماء فرماتے ہیں : نماز خسوف حسن (پسندیدہ وعمدہ) ہے اس لئے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت ہے : “ جب تم ان خوف وپریشانی والی چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز کی پناہ لو “ ۔ پھر فرمایا : “ اسی طرح ہر فزع ، گھبراہٹ اور پریشانی کی چیز میں نماز مستحب ہے جیسے آندھی ، زلزلہ ، تاریکی ، دائمی بارش ، کیونکہ یہ سب ہَول وفزع والی چیزیں ہیں اھ “ (ت)
تو ظاہر ہوا کہ نوافل کا سنن اور خسوف کا کسوف پر قیاس مع الفارق ہے۔
وبالله التوفیق الا ان یقال
وبالله التوفیق ، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں
ان الحاجۃ ھنا تکثیر ابواب الخیرات ارادۃ لافاضۃ کرمہ عزوجل الا یری انہ اباح التنفل علی الدابۃ بالایماء لغیر القبلۃ مع فوات الشروط والارکان فیھا ولاضرورۃ الا لحاجۃ القائمۃ بالعبد لزیادۃ الاستکثار من فضلہ
[1] فتح القدیر باب صلٰوۃ الکسوف نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۵۱
[2] بدائع الصنائع کیفیۃ صلٰوۃ الکسوف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۲
[3] فتح القدیر باب صلٰوۃ الکسوف نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۵۱
[4] حاشیۃ سعدی افندی مع الفتح صلٰوۃ الکسوف نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۶
[5] بدائع الصنائع کیفیۃ الکسوف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۲
[6] بدائع الصنائع کیفیۃ الکسوف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع