دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اس کا کوئی مقررہ وقت نہیں جیسے نوافل۔ اس کیلئے پانی کی موجودگی میں تیمم جائز نہیں اس لئے کہ کوئی عذر نہیں دوسری قسم وہ جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وقت مقرر ہے لیکن فوت ہونے کے بعد اس کی قضا ہوسکتی ہے جیسے نمازِ جمعہ اور پنجگانہ فرائض۔ اس کیلئے بھی تیمم جائز نہیں کیونکہ کامل تر طہارت کے ساتھ بدل کے ذریعہ اس کا تدارك ہوسکتا ہے۔ تیسری قسم وہ جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے اور کوئی بدل نہیں جیسے نمازِ جنازہ اور عید اس کیلئے تیمم جائز ہے ، بخلاف امام شافعی کے بندہ ضعیف -- خدا اس کی مغفرت فرمائے کہتا ہے : اس قائل پر لازم آتا ہے کہ نماز کسوف اور سنن رواتب کیلئے بھی تیمم کا جواز مانے کیونکہ یہ بھی ایسی فوت ہونے والی نمازیں ہیں کہ ان کا کوئی بدل نہیں ، خصوصًا اس قول پر کہ نمازِ عید سنّت ہے جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے “ ۔ اھ (ت)

اور پُر ظاہر کہ نفل مطلق سنّت راتبہ کے حکم میں نہیں شرع اُن کا مطالبہ فرماتی ہے اور اس کا نہیں تو یہ اُن سے کیونکر ملحق کیا جائے مطالبہ شرع۱  ہی وہ چیز ہے جو اس صورت میں جوازِتیمم کی راہ دیتا ہے ظاہر ہے کہ پانی موجود اور استعمال پر قدرت ہو توتیمم باطل اگر کرے تو نماز بے طہارت ہو اور نماز بے طہارت حرام قطعی ہے ہاں جب صاحبِ حق عز جلالہ خاص اس عبادت کا اس وقتِ خاص میں اس سے مطالبہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی حکم ہے کہ یہ وقت نکل گیا تو اس مطالبہ سے برأت کی کوئی صورت نہیں اس کا بدل بھی نہ ہوسکے گا اور وقت میں تنگی ہے کہ وضو نہیں کرسکتا لاجرم اس ادائے مطالبہ کیلئے پانی پر قادر نہ ہونا ثابت ہوا اورتیمم کی راہ ملی جس نماز کا شرع مطالبہ ہی نہیں فرماتی اُس میں کون سی عہدہ برائی کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز ہوجائے گا مطالبہ شرعیہ پر۱  یہاں بنائے کار کی یہ حالت ہے کہ نماز جنازہ کیلئے جوازِتیمم میں بھی شُبہ ہوا کہ وہ تو فرض کفایہ ہے ہر شخص سے مطالبہ کب ہے اور علماء کو اس جواب کی حاجت ہُوئی کہ فرض کفایہ میں بھی مطالبہ سب سے ہے ولہذا سب ترك کریں تو سب گنہگار ہیں اگرچہ بعض کا فعل سب پر سے مطالبہ ساقط کردیتا ہے۔

فتح القدیر وغنیہ میں ہے :

منعہ (ای التیمم لصلاۃ الجنازۃ) الشافعی لانہ تیمّم مع عدم شرطہ قلنا مخاطب بالصلاۃ عاجز عن الوضوء لھا فیجوزا ماالاولی فلان تعلق فرض الکفایۃ علی العموم غیر انہ یسقط بفعل البعض واما الثانیۃ فبفرض المسألۃ[1] ۔

امام شافعی نماز جنازہ کے لئے تیمم کا جواز نہیں مانتے۔ اس لئے کہ یہ ایساتیمم ہوگا جس کی شرط مفقود ہے ، ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ (شرط موجود ہے اس لئے کہ) اس شخص سے بھی ادائے نماز کا خطاب ہے جو اس کیلئے وضو سے عاجز ہے توتیمم کا جواز ہوگا۔ پہلی بات اس لئے ہے کہ فرض کفایہ کا تعلق بطور عموم سبھی سے ہے ، اتنا ہے کہ بعض کے ادا کرلینے سے ساقط ہوجاتا ہے۔ دوسری بات کی تفصیل مسئلہ کی مفروضہ صورت سے ظاہر ہے۔ (ت)

نماز چاشت ونماز تہجد کا مطالبہ کب ہے یوں ہی چاند گہن کی نماز صرف مستحب ہے بخلاف نماز کسوف۲  کہ اس مرتبہ کی سنّت ہے جسے امام دبوسی نے واجب کہا اور اسی کو امام ملك العلماء نے بدائع میں ترجیح دی اور دلائل سنیت سے جواب دیا ہاں مختار جمہور سنیت ہے اقول : بلکہ وہ کتاب مبسوط میں محرر مذہب امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا نص ہے کماسیأتی مناتحقیقہ فانقطع النزاع (جیسا کہ اس کی تحقیق ہمارے قلم سے عنقریب آرہی ہے تو اس نص سے اختلاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ت) بدائع میں فرمایا :

صلاۃ الکسوف واجبۃ ام سنۃ ذکر محمد رحمہ الله تعالٰی فی الاصل ما یدل علی عدم الوجوب فانہ قال ولا تصلی نافلۃ فی جماعۃ الا قیام رمضان وصلاۃ الکسوف وروی الحسن بن زیاد

نمازِ کسوف واجب ہے یا سنّت؟ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اصل (مبسوط) میں جو تحریر فرمایا ہے اس سے عدمِ وجوب کا پتا چلتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : “ قیامِ رمضان اور نمازِ کسوف کے علاوہ کوئی نمازِ نفل باجماعت نہ ادا کی جائے گی “ ۔ اور حسن بن زیاد

عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ انہ قال فی کسوف الشمس ان شاؤا صلوا رکعتین وان شاؤا اربعا وان شاؤا اکثر والتخییر یکون فی النوافل وقال بعض مشائخنا انھا واجبۃ لماروی ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ (فذکر حدیث الکسوف وفیہ قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم) صلوا حتی تنجلی وفی روایۃ ابی مسعود الانصاری رضی الله تعالٰی عنہ فاذا رأیتموھا فقوموا وصلوا ومطلق الامر للوجوب وتسمیۃ محمد رحمہ الله تعالٰی ایاھا نافلۃ لاینفی الوجوب لان النافلۃ عبارۃ عن الزیادۃ وکل واجب زیادۃ علی الفرائض الموظفۃ الا تری انہ قرنھا بقیام رمضان وھو التراویح وانھا سنۃ مؤکدۃ وھی فی معنی الواجب وروایۃ الحسن لاتنفی الوجوب لان التخییر قد

یجری بین الواجبات کمافی قولہ تعالٰی فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ  

نے امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ انہوں نے سورج گہن کے بارے میں فرمایا ہے کہ “ لوگ اگر چاہیں تو دو۲ رکعت پڑھیں ، چاہیں تو چار پڑھیں اور چاہیں تو زیادہ پڑھیں “ اور تخییر نوافل ہی میں ہوتی ہے اور ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ نماز کسوف واجب ہے اس لئے کہ حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے (اس کے بعد حدیثِ کسوف ذکر کی ہے رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ ارشاد ہے) نماز اداکرو یہاں تك کہ سورج روشن ہوجائے۔ اور حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت میں یہ الفاظ ہیں : “ تو جب تم اسے دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو “ ۔ اور مطلق امر وجوب کیلئے ہوتا ہے۔ اور امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا اسے نفل کے نام سے ذکر کرنا وجوب کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ نفل کا معنی “ زائد “ ہے ، اور ہر واجب مقررہ فرائض سے زائد ہی ہے۔ دیکھ لیجئے کہ انہوں نے نمازِ کسوف کو قیامِ رمضان کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ نماز تراویح ہے جو سنّتِ مؤکدہ ہے اور سنّتِ مؤکدہ واجب کا معنٰی رکھتی ہے اور حسن بن زیاد کی روایت سے بھی وجوب کی نفی نہیں ہوتی اس لئے کہ تخییر واجبات میں بھی ہوتی ہے جیسے باری تعالٰی کے اس ارشاد میں ہے : “ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو اس میں سے متوسط قسم کا کھانا یا دس مسکینوں کو کپڑا دینا یا ایك بردہ رَقَبَةٍؕ- [2]  اھ کلامہ قدس سرہ ، ۔

وما ارادبہ دفعہ فی العنایۃ بقولہ بعد ایراد الحدیث فان قیل ھذا امر والامر للوجوب فکان ینبغی ان تکون واجبۃ قلنا قدذھب الی ذلك بعض اصحابنا واختارہ صاحب الاسرار والعامۃ ذھبت الٰی کونھا سنۃ لانھا لیست من شعائر الاسلام فانھا توجد بعارض لکن صلاھا النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فکانت سنۃ والامر للندب [3] اھ۔

فاقول :  حاصلہ ان ھذا لیس بشعار وکل واجب شعار فھذا لیس بواجب والکبرٰی(۱) ممنوعۃ فرب واجب لیس من الشعائر ککفارۃ الیمین والظھار والصّیام وکذا(۲) الصغری ممنوعۃ ودلیلھا ان ھذا لعارض وما کان لعارض لم یکن شعارا فیہ ایضا الکبری ممنوعۃ وای دلیل علیھا وقد قال فی الاسرار     

آزاد کرنا “ ۔ ملك العلماء قدس سرہ کا کلام ختم ہوا۔

عنایۃ میں اس کا جواب حدیث ذکر کرنے کے بعد اس طور پر دینا چاہا ہے : “ اگر کہا جائے کہ یہ امر ہے اور امر وجوب کیلئے ہوتا ہے تو نمازِ کسوف کو واجب ہونا چاہئے۔ تو ہم کہیں گے ہاں اس طرف ہمارے بعض اصحاب گئے ہیں ، اسی کو صاحبِ اسرار نے بھی اختیار کیا ہے۔ مگر عامہ علماء کا مذہب یہ ہے کہ نمازِ کسوف سنّت ہے اس لئے کہ یہ شعارِ اسلام نہیں کیونکہ اس کا وجود عارضی طور پر ہوتا ہے لیکن نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے نمازِ کسوف پڑھی ہے اس لئے سنّت ہوئی اور امر ندب کیلئے ہے “ ۔ اھ (ت)

 



[1]   غنیۃ المستملی   فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۱

[2]   بدائع الصنائع صلٰوۃ الکسوف  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۰

[3]   عنایۃ مع الفتح باب صلٰوۃ الکسوف نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۵۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن