30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاصح عندہ لزوم النزول لو وجد اجنبیا یطیعہ فعلی ھذا لاخلاف فی لزوم النزول لمن وجد معینا یطیعہ ولم یکن(۱) مریضا یلحقہ بنزولہ زیادۃ مرض وفی المنیۃ المرأۃ اذا لم یکن لھا محرم تجوز صلاتھا علی الدابۃ اذا لم تقدر علی النزول [1] اھ۔
نزدیك اصح یہ ہے کہ اترنا لازم ہے اگر ایسا کوئی اجنبی مل جائے جو اس کی بات مان لے۔ تو اس بنیاد پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس شخص کیلئے اترنا لازم ہے جسے کوئی ایسا مددگار مل جائے جو اس کی بات مان لے اور ایسا بیمار نہ ہو کہ اترنے سے مرض بڑھ جائے اور منیہ میں ہے کہ : “ عورت کے ساتھ جب محرم نہ ہو تو اس کیلئے سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ اترنے پر قدرت نہ ہو اھ۔ (ت)
(۸۶) اقول : اگر زخم ہے کہ اُترنے سے جاری ہوجائے گا اور نماز طہارت سے نہ مل سکے گی نہ اُترے اورتیمم سے پڑھے یہ مسئلہ بھی علماء نے نماز میں افادہ فرمایا ہے کہ اگر کھڑے ہونے سے زخم جاری ہوتا ہو بیٹھ کر پڑھے دُرمختار۲ میں ہے قدیتحتم القعود کمن یسیل جرحہ اذاقام اویسلس بولہ[2] (اس کیلئے بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب ہے جس کا زخم قیام سے بہنے لگتا ہو یا جسے کھڑے ہونے سے پیشاب آنے لگتا ہو۔ ت)
(۸۷) ہر عبادت فرض یا واجب یا سنّت کہ پانی سے طہارت کرے تو فوت ہوجائے گی اور اس کا عوض کچھ نہ ہوگا اُس کیلئے تیمم کرسکتا ہے مگر یہ تیمم۳ صرف اسی عبادت کیلئے طہارت ہوگا نہ اور کیلئے کہ اُسی کی ضرورت سے اجازت ہوئی تھی تو اس تیمم سے کوئی اور عبادت کہ بے طہارت جائز نہ ہوجائز نہ ہوگی اس۴ فوت بلاعوض کی بہت صورتیں ہیں مثلًا نماز۱ جنازہ قائم ہے یا قائم ہونے کو ہے اس کے وضو کا انتظار نہ ہوگا جب تك وضو کرے چاروں تکبیریں ہوچکیں گی اگرچہ سلام پھیرنا باقی رہے کہ نماز۵ جنازہ تکبیروں پر ختم ہوجاتی ہے اُن کے بعد ملنے کا محل نہیں اگرچہ ابھی سلام نہ ہوا ہو کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) یا۲ عیدین کا وقت نکل جائےگا یا ان کا امام معین سلام پھیر دے گا[3]۔
اقول : جبکہ دوسرے امام معین کے پیچھے نہ ملیں کماقالوا فی الفاسق لایقتدی بہ فی الجمعۃ ایضا اذا تعددت فی المصرلانہ بسبیل من التحول [4] کما فی الفتح وغیرہ (جیسے علما نے فرمایا ہے کہ جمعہ میں بھی فاسق کی اقتداء نہ کی جائے گی اگر شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوتا ہو کیوں کہ ایسے امام کو چھوڑ کو دُوسری جگہ جانے کی راہ موجود ہے ، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ت) یہ اس لئے کہ عیدین(۱) کی نماز کی نماز مثل جمعہ ہر امام کے پیچھے نہیں ہوسکتی سوا سلطانِ اسلام یا اس کے نائب یا ماذون کے ، اور وہ نہ ہوں تو بضرورت جسے مسلمان امامِ جمعہ مقرر کرلیں یا سورج(۴)گہن ہوچکے گا صلاۃ الجنازۃ والعیدین من مسائل المتون و زاد الکسوف کالرواتبةالاٰتیۃ [5] فی الحلیۃ بحثا واقرہ فی البحر والنھر والدر وحواشیہ (نماز جنازہ اور عیدین کا مسئلہ تو متون میں ذکر ہے اور کسوف کا مسئلہ یوں ہی سنن رواتب سے متعلق آنے والا مسئلہ حلیہ میں بطور بحث زیادہ کیا جسے بحررائق ، نہرفائق ، دُرمختار اور اس کے حواشی میں برقرار رکھا گیا۔ ت)
اقول : اور اگر کسوف باقی رہے اور جماعت ہوچکے گی توتیمم کی اجازت نہیں کہ اگرچہ کسوف۲ میں بھی ہر شخص امامت نہیں کرسکتا خاص امامِ جمعہ ہی اس کا امام ہوسکتا ہے کما فی الدر [6] وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اس۳ میں جماعت ضروری نہیں تنہا بھی ہوسکتی ہے نہ مثل۴ جنازہ تکرار ممنوع ہے ،
لتصریحھم بجواز ان یصلیھا کل بحیالہ فی بیتہ [7] کما فی شرح الطحاوی ومشی علیہ فی الدر او فی مساجد ھم علی مافی الظھیریۃ وعزاہ فی المحیط الی شمس الائمۃ [8] ش عن مفتی دمشق اسمٰعیل نعم الجماعۃ مستحبۃ اذاحضر امام الجمعۃ[9] کمافی الدر۔
اس لئے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز کسوف ہر شخص اپنے گھر میں انفرادی طور پر ادا کرسکتا ہے۔ جیسا کہ شرح طحاوی میں ہے اس راہ پر صاحبِ درمختار بھی گئے ہیں یا لوگ اپنی اپنی مسجدوں میں بھی ادا کرسکتے ہیں جیسا کہ ظہیریہ میں ہے اور محیط میں اسے شمس الائمہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ شامی از مفتی دمشق شئخ اسمٰعیل۔ ہاں جب امامِ جمعہ موجود ہو تو جماعت مستحب ہے۔ جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔ (ت)
تو اُس کا فوت۱ یوں ہی ہوگا کہ گہن چھُوٹ جائے ، ردالمحتار میں ہے لوانجلت لم تصل بعدہ[10] (اگر سورج روشن ہوگیا تو اس کے بعد نماز کسوف نہ پڑھی جائے گی۔ ت) یا ظہر۵ وجمعہ۶ ومغرب۷ وعشا۸ کے فرضوں کے بعد وضو جاتا رہا اور اب وضو کرتا ہے تو بعد کی سنتیں نہ ملیں گی وقت نکل جائےگا۔ اقول : یونہی۹ ظہر یا جمعہ۱۰ کی پہلی سنتیں اگر قیام جماعت کے سبب نہ پڑھ سکا اور بعد فرض یا بعد سنّتِ بعد یہ وضوجاتا رہا اور اب وضو کرے تو وقتِ عصر آجائےگا لانھا وان فاتت عن وقتھا فانھا تقضی فی الوقت ثم لاقضاء فقضاؤھا یفوت لا الی بدل [11] (اس لئے کہ یہ سنتیں اگرچہ اپنے مقررہ وقت سے ہی فوت ہوئیں مگر ان کی قضا وقت کے اندر ہی ہوسکتی ہے بعدِ وقت قضا نہیں تو بعد ظہر وجمعہ اگر ان کی قضا فوت ہوجاتی ہے تو پھر اس کا کوئی بدل نہیں۔ ت) یا صبح ۱۱ کے وقت پانی وضو کیلئے منگایا کسی نے دینے کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کرے تو وضو کرکے صرف فرض پائے گا یوں کہ یا تو سُنّتوں کے قابل وقت ہی نہ رہے گا یا سنتیں پڑھے تو جماعت فوت ہونا چار سنتیں چھوڑنی ہوں گی تو جب تك پانی آئے تیمم کرکے سنتیں پڑھ لے پھر وضو کرکے فرض [12] کمافی ش وغیرہ (جیسا کہ شامی وغیرہ میں ہے۔ ت) یا۱۲ صبح کی نماز نہ ہوئی تھی اور اب زوال تك اتنا وقت نہیں کہ وضو کرکے دو۲ رکعتیں پڑھ سکیں تو تیمم کرکے سنتیں پڑھ لے کہ بعد زوال نہ ہوسکیں گی پھر وضو کرکے وقتِ ظہر آنے پر صبح کے فرض پڑھے ذکرہ ش عن شئخہ قال وذکرلھا ط صورتین اخریین [13] اھ (اسے شامی نے اپنے شیح کے حوالہ سے ذکر کیا اور فرمایا کہ طحطاوی نے اس کی دو۲ صورتیں اور ذکر کی ہیں۔ ت)
اقول : بل اولھما ھی ھذہ التی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع