30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا اجتماع ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ معذور ہے پانچویں وہ کہ گھر سے باہر قدم رکھنے کی مطلقًا عادی نہیں جس طرح بحمدالله تعالٰی بریلی میں شریف زادیوں کا دستور ہے یہ ہر طرح معذور ہے اور کیونکر اُسے مجبور کیا جائے گا حالانکہ اس نے کُنواں دیکھا تك نہیں ، نہ اس تك راہ جانتی ہے نہ کسی سے پوچھ سکے گی نہ اُس کے قدم اُٹھیں گے لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- [1] (اور خدا کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت)
عادت چھُڑانے میں حرج ہے خصوصًا وہ نیك عادت کہ کمال حیا پر مبنی ہو اور حیا جتنی زائد ہو اُسی قدر بہتر رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : الحیاء خیر کلہ [2] حیا سراسر بہتر ہے رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد والنسائی عن عمران بن حصین رضی الله تعالٰی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا(اسے بخاری ، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے خدا اُن سے اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو۔ ت) اُوپر گزرا کہ شریعتِ مطہرہ نے ہمارے ایك پیسے کا لحاظ فرمایا کہ پانی بیچنے والا پیسے کی جگہ دو مانگتا ہو نہ دو اور تیمم کرلو ان شریف زادیوں کو اگر کوئی دس روپے بلکہ باعتبار حیثیت ہزار روپے دے اور کہے کنویں سے پانی بھر لاؤ ان سے ہرگز نہ ہوسکے گا
عــہ اقول : اس کی نظیر یہ ہے کہ پانی پینے کی سبیل سے وضو کی اجازت نہیں اگر صرف وہی پانی ہو تیمم کرے اور اگر کوئی شخص ظلم وغصب کا عادی ہو تو اسے بھی تیمم کا حکم ہوگا یہ نہ فرمایا جائے گا کہ تو تو غاصب ہے اسے غصبًا لے کر وضو کر ۱۲ منہ (م)
ولله الحمد تو یہ اس پر کیونکر مجبور کی جائیں۔ یہ ہے وہ جو براہِ تفقہ ذہنِ فقیر میں آیا ،
ولااقول : انہ حکم الله عزوجل بل ارجوان یکون حکمہ تعالی فلینظر فیہ العلماء الذین عـــہ لھم اعین یبصرون بھا ولھم قلوب یفقھون بھا والله یھدی السبیل وھو حسبی ونعم الوکیل۔
اما قولی انھا اذا وجدت الماء لا تعید فلان المانع الحیاء والحیاء من المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فالمانع من جھۃ صاحب الحق عزجلا لہ کما استظھر الفاضلان الرحمتی ثم الشامی فی مسألۃ نمرۃ ٥٤ ومثلھا٥٥ قائلین ان العذر لم یأت من قبل المخلوق فان المانع لھا الشرع والحیاء وھما من الله تعالٰی کما قالوا (۱) لوتیمّم لخوف العدو فان توعدہ علی الوضوء اوالغسل یعید لان العذر ا تی من غیر صاحب الحق ولو
اور میں یہ نہیں کہتا کہ یہی الله عزوجل کا حکم ہے بلکہ مجھے امید ہے کہ یہ رب تعالی کا حکم ہو۔ تو اس میں وہ علما نظر فرمائیں جن کے پاس بصیرت والی نگاہیں اور فقاہت والے دل ہیں۔ اور خدا ہی صحیح راستے کی طرف ہدایت فرمانے والا ہے ، اور وہی مجھے کافی اور کیا ہی عمدہ کارساز ہے۔ (ت)
لیکن یہ جو میں نے کہا کہ “ پانی پانے پر اسے اعادہ کی بھی حاجت نہیں “ ۔ تو اس لئے کہ اس کیلئے پانی سے مانع چیز حیا ہے۔ اور حیا مولٰی سبحٰنہ مثل ۵۵ میں اظہار کیا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : “ عذر مخلوق کی جانب سے نہ آیا اس لئے کہ اس عورت کے لئے مانع شریعت اور حیا ہے وتعالٰی کی جانب سے ہے۔ تو مانع خود صاحبِ حق عزّجلالہ کی طرف سے ہے جیسا کہ فاضل رحمتی پھر شامی نے مسئلہ ۵۴ میں اور اسی کے دونوں ہی الله تعالٰی کی جانب سے ہیں۔ جیسا کہ علماء نے فرمایا ہے کہ اگر دشمن کے خوف سے تیمم کیا ، تو اگر یہ صورت ہے کہ دشمن نے وضو یا غسل کرنے پر کوئی دھمکی دی ہے تو اعادہ کرے گا اس لئے کہ عذر صاحب حق (مولٰی تعالٰی) کی جانب سے نہیں۔
عـــہ احتراز عن بعض ابناء الزمان الذین تسموا بالعلم ومالھم من العلم الا الاسم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ ایسے بعض ابنائے زمانہ سے احتراز ہے جنہوں نے اپنے ساتھ علم وعلماء کا نام چسپاں کرلیا ہے اور حقیقت میں ان کے پاس علم نہیں صرف علم کا نام ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
خاف بدون توعد من العدو فلا لان الخوف اوقعہ الله تعالٰی فی قلبہ فقد جاء العذر من صاحب الحق فلا تلزمہ الاعادۃ[3] اھ وانت تعلم ان الامر فی مسألتنا ھذہ اظھر من تلك فلیس ھھنا شیئ من قبل العباد اما تلك فقال المحقق الحلبی فی الحلیۃ الاشبہ الاعادۃ تفریعا علی
ظاھر المذھب فی الممنوع من ازالۃ الحدث بصنع العباد [4] اھ ورأیتنی کتبت علی قول الرحمتی المذکور مانصہ۔
اقول : وباللّٰہ(۱) التوفیق محل(۲) المسألۃ انما ھو حیث کان ممنوعا عن التحول الٰی موضع ستر والا لم یجز لہ الکشف ولا التیمم قطعا فھذا المنع اما ان یکون من قبل القوم کأن حبسوہ اوقالوا لہ لوتحولت قتلناك اوسلبناك فان المال شقیق النفس
اور اگر دشمن کے ڈرائے بغیر یہ خوفزدہ ہوا (اورتیمم کرلیا) تو اعادہ نہیں۔ اس لئے کہ خدائے تعالٰی نے ہی اس کے دل میں خوف ڈال دیا تو یہ عذر صاحبِ حق کی جانب سے ہی آیا لہذا اس پر اعادہ لازم نہیں “ ۔ اھ (ت)
اور معلوم ہے کہ ہمارے زیر تحریر مسئلہ میں معاملہ اُس سے زیادہ ظاہر اور واضح ہے۔ اس لئے یہاں بندوں کی جانب سے کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ اور اُس مسئلہ میں تو محقق حلبی نے حلیہ میں یہ لکھا ہے کہ “ جو شخص بندوں کے فعل کی وجہ سے ازالہ حدث نہ کرسکے اس کے متعلق ظاہر مذہب میں یہی حکم ہے کہ اعادہ کرے “ تو ظاہر مذہب میں تفریع کرتے ہوئے یہاں بھی زیادہ مناسب اعادہ ہی ہے “ اھ میں نے دیکھا کہ رحمتی کے قول مذکور پر خود میں نے کبھی درج ذیل عبارت تحریر کی تھی :
اقول : وبالله التوفیق (میں کہتا ہوں ، اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے) یہ مسئلہ اُسی صورت میں ہے جب کسی پردہ کی جگہ چلے جانے سے رکاوٹ ہو ورنہ اس کیلئے نہ ستر کھولنا جائز ہوگا نہ ہی تیمم کرنا جائز ہوگا۔ اب یہ رُکاوٹ یا۱ تو لوگوں کی جانب سے ہے۔ مثلا اسے قید کردیا ہے یا اس سے کہا ہے کہ یہاں سے ہٹے تو ہم تجھے قتل کردیں گے یا تیرا مال چھین لیں گے۔ مال بھی جان کا بھائی ہے۔ یا لوگوں کی جانب سے
اولا کمریض ومن سفینۃ فی لجۃ بحر علی الاول لاشك ان المنع جاء من قبل العباد فیتیمّم ویعید وعلی الثانی لقائل ان یقول لابدلہ ان یسألھم تحویل الدبر اوغض البصر فان فعلوا فبھا والا فقد تسببوا فی المانع وان لم یکن نفس المانع من قبلھم کالخوف فانہ من قبل الله تعالٰی ومع ذلك اذا نشأ بتسبب العبد بالایعاد یعد من العبد ویؤمر بالاعادۃ فادن الاشبہ ماذکر المحقق الحلبی مع ان فیہ الخروج عن العھدۃ بیقین فعلیہ فلیکن التعویل والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
رکاوٹ نہیں ہے۔ مثلًا بیمار ہے یا سمندر کی گہرائی میں کشتی پر سوار ہے۔ پہلی صورت میں رکاوٹ بلاشبہ بندوں کی جانب سے ہے تو تیمم کرے گا پھر اعادہ کرے گا۔ اور دُوسری صورت میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہے پیٹھ پھیر لیں یا نگاہ بند کرلیں ، اگر وہ ایسا کرلیں تو ٹھیك ورنہ وہ رکاوٹ کا سبب بن گئے اگرچہ اصل مانع ان کی طرف سے نہیں۔ جیسے خوف کا معاملہ ہے کہ دراصل یہ الله تعالٰی کی جانب سے ہے ، اس کے باوجود جب خوف اس سبب سے پیدا ہوا کہ کسی بندے نے دھمکی دی ہے تو وہ بندے کی جانب سے شمار ہوتا ہے اور اعادہ کا حکم دیا جاتا ہے اس تفصیل کی روشنی میں اشبہ (زیادہ مناسب) وہی ہے جو محقق حلبی نے فرمایا۔ ساتھ ہی اس میں احتیاط کا پہلو بھی ہے کیونکہ اعادہ کرلے تو یقینی طور پر سبکدوش اور عہدہ برآ ہوجائے گا اس لیے انہی کے قول پر اعتماد ہونا چاہئے ، والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۶۸ تا ۷۰) اقول : یوں ہی اگر پانی لادینے والا اُجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اُجرت مثل سے زیادہ کا طالب [5] علی وزان مامر فی ۳۵ ، ۳۶ ، ۳۷ عن البحر والدر (اسی طور پر جیسا کہ نمبر ۳۵ ، ۳۶ ، ۳۷ میں بحررائق اور درمختار کے حوالہ سے بیان ہوا ہے۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع