30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے گرمی حاصل کرسکے نہ تاپنے کو الاؤمل سکتا ہے اور اس سردی میں نہانے سے مرض کا صحیح خوف ہے تو تیمم کرسکتا ہے اگرچہ شہر میں ہو [1]درمختار۔ سردی کے باعث وضو نہیں چھوڑ سکتا وھو الصحیح کما فی الخانیہ والخلاصۃ بل ھو بالاجماع ، مصفی [2] (یہی صحیح ہے۔ خانیہ ، خلاصہ بلکہ یہ بالاجماع ہے۔ مصفی۔ ت) ہاں اگر اُس سردی میں وضو سے بھی صحیح خوف حدوث مرض ہو جب بھی تیمم کرے[3] ش عن الامداد (شامی بحوالہ امداد الفتاح۔ ت) خالی وہم کا اعتبار نہانے میں بھی نہیں وضو تو وضو (۴۱) مریض کو پانی سے طہارت تو مضر نہیں مگر جنبش مضر ہے (۴۲) ضرر تو کچھ نہیں مگر وضو نہیں کرسکتا اور دوسرا کرانے والا نہیں اور اگر ہے تو مثلًا غلام یا نوکر یا اولاد جن پر اس کی اطاعت وخدمت لازم ہے تو بالاتفاق تیمم نہیں کرسکتا اور اگر اُس پر خدمت لازم تو نہیں مگر اس کے کہنے سے وضو کرادے گا جیسے دوست یا زوج یا زوجہ تو معتمدیہ کہ اب بھی تیمم جائز نہیں [4]
(۴۳)دوسرا ہے مگر وہ اجرت مانگتا ہے اور یہ قادر نہیں (۴۴) قادر بھی ہے مگر وہ اُجرت مثل سے زیادہ مانگتا ہے[5] الکل فی البحر والدر (یہ سب بحررائق اور درمختار میں ہے۔ ت) (۴۵) اقول : یہاں بھی وہ صورت آئیگی کہ وہ اُجرت مثل ہی مانگتا ہے اور یہ دے بھی سکتا ہے مگر یہاں نہیں اور وہ اُدھار پر راضی نہیں (۴۶ تا ۴۸) سفر میں پانی پاس موجود ہے اور استعمال پر قدرت بھی اور مرض کا بھی اندیشہ نہیں مگر اس سے طہارت کرتا ہے تو اب۱ یا بعد کو یہ یا۲ اور کوئی مسلمان یا۳ اس کا جانور اگرچہ وہ کُتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا (۴۹) یا(۴۹) آٹا گوندھنے کو پھر پانی نہ ملے گا (۵۰) یا(۵) بدن یا بقدر ستر عورت کے کپڑے پر نجاست ہے جس سے نماز نہ ہوگی اور اگر وضو یا غسل کرلیا تو اتنی نجاست پاك کرنے کو جس سے وہ مانع نماز نہ رہے پانی نہ ملے گا ، یہ پانچوں صورتیں ہمارے رسالہ النور والنورق فصل اول نمبر ۳۱ میں مشرح ہیں (۵۱) راہ میں سبیل کا پانی موجود ہے مگر وہ پینے کیلئے وقف ہے غسل ووضو کیلئے نہیں۔ اس کا نہایت مفصل مکمل بیان ہمارے اسی رسالے نمبر ۲۹ میں ہے (۵۲) طہارت ہی کیلئے وقف ہے مگر ایك قوم خاص یا وصف خاص پر اور یہ اُن میں نہیں اس کا بیان نمبر ۳۰ میں ہے۔
(۵۳) پانی دوسرے کی مِلك ہے اور اس کیلئے اجازت نہیں اس کا بیان نمبر ۳۲ وغیرہ میں ہے (۵۴) نہانے کی حاجت ہے اور وہاں کچھ لوگ ہیں کہ نہ وہ ہٹتے ہیں نہ اُسے آڑ ملتی ہے نہ کچھ باندھ کر نہانے کو ہے تیمم کرے اگرچہ مرد صرف مردوں ہی میں ہو یا عورت صرف عورتوں میں [6] علی مااستظھر فی الحلیۃ والغنیۃ خلافا لما فی القنیۃ والدر (یہ اس بنیاد پر ہے جسے حلیہ اور غنیہ میں ظاہر کہہ کے بیان کیا اس کے برخلاف جو قنیہ اور درمختار میں ہے۔ ت)
اقول : ومازدت من القیود ظاھر (اور میں نے جن قیدوں کا اضافہ کیا ہے وہ ظاہر ہیں۔ ت) پھر بعد کو نماز کا اعادہ کرے یا نہ کرے اس کا ذکر نمبر ۶۷ میں آتا ہے وبالله التوفیق۔ (۵۵) اقول : یونہی اگر عورت کو وضو کرنا ہے اور وہاں کوئی نامحرم مرد موجود ہے جس سے چھپا کر ہاتھوں کا دھونا اور سر کا مسح نہیں کرسکتی تیمم کرے (۵۶) محبوس کو پانی نہیں ملتا (۵۷) کفار معاذ الله پکڑ کرلے گئے اور غسل یا وضو نہیں کرنے دیتے (۵۸) ظالم ڈراتا ہے کہ پانی سے طہارت کی تو مار ڈالوں گا یا کوئی عضو کاٹ دوں گا اور ایسا ہی خوف جس سے اکراہ ثابت [7] ہو۔ الکل فی الذخیرۃ وشرح الوقایۃ والفتح والدرر وغیرھا (یہ سب ذخیرہ ، شرح وقایہ ، فتح القدیر ، درر وغیرہا میں ہے۔ ت)
اقول : ومازدت من القطع وسائر مایصح بہ الاکراہ ظاھر (میں نے عضو کاٹنے اور ہر اس چیز کا جس سے اکراہ ثابت ہو اضافہ کیا ، یہ ظاہر ہے۔ ت) (۵۹) پانی میل بھر سے کم دُور ہے مگر نوکر یا مزدور کو آقا یا مستاجر جانے کی اجازت نہیں دیتا [8] بحر عن المبتغی (بحر بحوالہ مبتغی) (۶۰) اقول : ریل میں ہے
اور اس درجے میں پانی نہیں اور دروازہ بند ہے تیمم کرے لانہ کالمحبوس فی معنی العجز (اس لئے کہ وہ عاجز ہونے میں قیدی کی طرح ہے۔ ت) مگر ۵۶ سے یہاں تك ان پانچوں صورتوں میں جب پانی پائے طہارت کرکے نماز پھیرے لان المانع من جھۃ العباد (اس لئے کہ مانع بندوں کی طرف سے ہے۔ ت) اور اگر اُتر کر پانی لانے میں مال جاتے رہنے کا خوف ہو تو اعادہ بھی نہیں اور یہ نمبر ۳۴ ہے اور اگر ریل چلے جانے کا اندیشہ ہو تب بھی تیمم کرے اور اعادہ نہیں یہ نمبر آیندہ کے حکم میں ہے (۶۱) پانی میل سے کم مگر اتنی دُور ہے کہ اگر یہ وہاں جائے تو قافلہ چلا جائے گا اور اس کی نگاہ سے غائب ہوجائے گا (۶۲) اقول : یا اگرچہ ابھی نگاہ سے غائب نہ ہوگا مگر یہ ایسا کمزور ہے کہ مل نہ سکے گا۔
قال فی البحر عن ابی یوسف اذا کان بحیث لو ذھب الیہ وتوضأ تذھب القافلۃ وتغیب عن بصرہ فھو بعید ویجوزلہ التیمم واستحسن المشائخ ھذہ الروایۃ کذا فی التجنیس وغیرہ[9] اھ۔
اقول : والمختار فی تقدیر البعد وان کان المیل لکن ھذا عذر صحیح معتبر لاشك ولذا استحسنہ المشائخ فیجب اعتبارہ مستقلا لا من حیث تقدیر البعد بہ۔
بحر میں فرمایا : امام ابویوسف سے روایت ہے کہ “ جب یہ حالت ہو کہ پانی تك جاکر وضو کرے تو قافلہ چلا جائے گا اور اس کی نظر سے غائب ہوجائے گا تو وہ پانی سے دور ہے اور اس کیلئے تیمم جائز ہے “ ۔ مشائخ نے یہ روایت بنظرِ استحسان دیکھی ، اسے پسند کیا ، ایسا ہی تجنیس وغیرہ میں ہے اھ۔ (ت)
اقول : دوری کی تحدید میں مختار اگرچہ میل ہی ہے لیکن اس میں شك نہیں کہ یہ ایك صحیح او رمعتبر عذر ہے اسی لئے مشائخ نے اسے پسند کیا تو مستقل طور پر اس کا اعتبار ضروری ہے اسی لحاظ سے نہیں کہ یہی دوری کی حد مان لی گئی ہے۔ (ت)
(۶۳ تا ۶۶) اقول : عورت۱ کے پاس پانی نہیں نہ باہر نکلنے کو چادر نہ بیٹا وغیرہ لادینے والا یا۲ اجیر اجرت مثل سے زیادہ مانگتا ہے یا۳ یہ مفلس ہے یا۴ مال غائب اور وہ ادھار پر راضی نہیں تیمم کرے اور اعادہ نہیں لان المنع من جھۃ الشرع (اس لئے کہ رکاوٹ شریعت کی جانب سے ہے۔ ت)
(۶۷) اقول شریف زادی پردہ نشین کہ باہر نکلنے کی قطعًا عادی نہیں اگر گھر میں پانی نہ رہے نہ باہر سے کوئی لادینے والا ہو تو رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی رحمت سے امید ہے کہ اُسے اجازت تیمم ہو اور پانی پانے پر اعادہ کی بھی حاجت نہ ہو تفصیل۱ اس کی یہ کہ عورات چند قسم ہیں ایك وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع