30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۷) تالاب کا پانی اُوپر سے بوجہ برف جم گیا ہے اور اس کے پاس کوئی آلہ نہیں کہ اُسے توڑ کر نیچے سے پانی نکال سکے یا برف کو پگھلا سکے بحر عن المبتغی [1] (بحر نے مبتغی کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ ت)
اقول : اگر بلا آلہ ہوا سے پگھلا سکے جب بھی تیمم روانہ ہوگا مگر یہ کہ اتنی دیر میں پگھلے کہ وقت جاتا رہے گا تو تیمم کرکے پڑھ لے۔
وھل ھو علی قول زفر المفتی بہ من جواز التیمم لخوف فوت وقتیۃ فیعمل بہ ثم یعید متطھرا بالماء عملا باصل المذھب ام علی قول الکل۔
اقول : الظاھر الثانی لانہ عادم للماء حقیقۃ بخلاف مسألۃ زفر فیسوغ التیمم فان کان یجدہ بعد الوقت بالذوبان الا تری ان راجیہ آخر الوقت لایجب علیہ التاخیر فکیف من
کیا یہ حکم امام زفر کے مفتی بہ قول پر ہے کہ اگر نماز وقتیہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم جائز ہے۔ لہذا اس پر عمل کرلے ، پھر اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے پانی سے وضو کرکے نماز کا اعادہ کرے؟ یا یہ سب کے قول پر ہے؟
اقول : ظاہر یہ ہے کہ سب کے قول پر ہے۔ اس لئے کہ حقیقۃً وہ پانی پانے والا نہیں بخلاف مسئلہ امام زفر کے تو تیمم اس کیلئے جائز ہے اگرچہ وقت کے بعد پگھلنے سے وہ پانی پالے گا دیکھئے کہ جسے آخر وقت میں پانی ملنے کی
لایرجوہ فی الوقت اصلا والله تعالٰی اعلم۔
امید ہو اس پر تاخیر واجب نہیں ، پھر اس کا کیا حکم ہوگا جسے وقت میں پانی ملنے کی بالکل امید نہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۸) پانی کے پاس شیر بھیڑیا وغیرہ درندہ یا سانپ یا آگ ہے کہ پانی لے نہیں سکتا (۹) رہزن ہے کہ لوٹ لے گا (۱۰) دشمن ہے جس سے حملہ کا صحیح اندیشہ ہے (۱۱) فاسق ہے کہ عورت یا امرد کو اس سے اندیشہ بدکاری ہے (۱۲) قرضخواہ ہے اور یہ مفلس وہ مطالبہ میں حبس کرلے گا الکل فی البحر والدر[2] (یہ سب البحرالرائق اور دُرمختار میں ہے۔ ت)
اقول : یہ ایك شرعی مسئلہ ہے کہ ان بلاد میں جاری نہیں یہاں قرضخواہ نالش کے سوا خود حبس کا اختیار نہیں رکھتا تو یہ یہاں یوں عذر نہیں بلالکہ اس طرح کہ اُس نے گرفتاری جاری کرائی ہے اگر وہاں جاتا یا باہر نکلتا ہے گرفتار ہوجائے گا (۱۳) جو وارنٹ کے سبب پانی کے پاس نہیں جاسکتا (۱۴) جو پولیس سے رُوپوش ہے وقد ذکروا (۱) فی الجمعۃ ان الاختفاء من السلطان الظالم مسقط [3] فتح وھندیۃ (علماء نے جمعہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ ظالم بادشاہ کے خوف سے رُوپوشی کے سبب جمعہ ساقط ہوجاتا ہے۔ فتح ، ہندیہ۔ ت)
(۱۵) اقول : یہ دونوں صورتیں کہ فقیر نے زائد کیں ظاہر ہیں اور مسئلہ مدیون سے بدلالۃ النص ثابت تیسری صورت اور ہے کہ عزّت دینی والا عالم دین جسے اعزاز دین وعلم دین کیلئے کچہریوں سے احتراز ہے مخالف نے ایذار سانی کیلئے اُسے شہادت میں لکھا دیا یا اور کسی طرح طلب کرایا سمن جاری ہے اُس کے خوف سے باہر نہیں جاسکتا ظاہرًا یہ بھی اِنْ شَآءَاللہ العزیز عذر صحیح ہے کہ آخر یہ مضرت ایك پیسے کے نقصان سے جس کیلئے شرع نے تیمم جائز فرمایا جس کا ذکر عنقریب آتا ہے کہیں زیادہ ہے فلیحرر ولیتأمل والله تعالٰی اعلم (اس کی توضیح اور اس میں تأمل کی ضرورت ہے والله تعالٰی اعلم۔ ت)یہ تین تین صورتیں بڑھیں گی کہ اُجرت پر لادینے والا اجرت مثل سے زائد مانگتا ہے یا یہ اُجرت دینے پر قادر نہیں یا اس وقت پاس نہیں
(۱۶ تا ۳۲) اقول : ۱۰ سے ۱۵ تك ہر صورت میں یہ بھی شرط ہے کہ کوئی پانی لادینے والا غلام خادم بیٹا وغیرہ نہ ملے اور ہر ایك میں بدستور اور وہ ادھار پر راضی نہیں۔ (۳۴) مال پاس ہے اپنا خواہ امانت اور پانی پر ساتھ لے جانے کا نہیں نہ یہاں کوئی محافظ اگر پانی لینے جائے تو اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے [4]بحر ودر جبکہ وہ مال ایك درم سے کم نہ ہو [5] علی مااستفاد ش من فرع التاترخانیۃ المذکور والمسألۃ تحتاج بعد الی زیادۃ تحریر (یہ اس بنیاد پر ہے جو علامہ شامی نے تاتارخانیہ کے مذکورہ جزئیہ سے استفادہ کرتے ہوئے کہا مگر یہ مسئلہ اب بھی مزید توضیح کا محتاج ہے۔ ت)
(۳۵) پانی ملتا ہے مگر دو چند قیمت کو یعنی اُس جگہ بازار کے بھاؤ سے اتنے پانی کی جو قیمت ہے بیچنے والا اُس سے دو چند مانگتا ہے[6] بحر عن البدائع والنھایۃ والنوادر وقدمہ فی الخانیۃ فکان ھو الاظھر الاشھر (بحر بحوالہ بدائع ونہایہ ونوادر ، اور خانیہ میں اسے مقدّم رکھا تو یہی اظہر واشہر ہے۔ ت)
(۳۶) قیمت(۱) مثل ہی کو ملتا ہے مگر یہ مفلس ہے یعنی حاجت سے زائد اتنا مال نہیں رکھتا [7] کمافی الدر (جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔ ت) (۳۷) مال تو رکھتا ہے مگر یہاں نہیں اور بیچنے والا اُدھاردینے پر راضی نہیں ہاں(۲) راضی ہو تو خریدنا واجب اور اگر کوئی (۳) اُتنے دام اسے قرض دینا چاہے تو لینا لازم نہیں تیمم کرسکتا ہے لان الاجل لازم ولامطالبۃ قبل حلولہ بخلاف القرض[8] ش عن البحر (اس لئے کہ ادھار کی صورت میں مقررہ میعاد لازم ہوگی اور اس سے پہلے مطالبہ نہیں ہوسکتا ، اور قرض کا حکم اس کے برخلاف ہے۔ شامی بحوالہ بحر۔ ت)
تنبیہ : شریعتِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی رحمت دیکھیے ہمارے ایك ایك پیسے پر لحاظ فرمایا گیا نہانے کی حاجت ہے اور وہاں قابلِ غسل پانی کی قیمت ایك پیسہ ہو اور جس کے پاس ہے دو۲ پیسے مانگتا ہے پیسہ زیادہ نہ دو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لو ایسی رحمت والی شریعت کے کسی حکم کو کرّا سمجھنا یا شامتِ نفس سے بجا نہ لانا کیسی ناشکری وبے حیائی ہے مولٰی عزوجل صدقہ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی رحمت کا اس فقیر عاجز اور سب اہل سنّت کو کامل اتباع شریعت کی توفیق بخشے اور اپنی رحمت محضہ سے قبول فرمائے آمین وصلی الله تعالٰی علٰی سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین (۳۸) مریض ہے پانی سے طہارت کرے تو مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا اور یہ بات ظاہر علامت۴ یا تجربہ سے ثابت ہو[9] ش عن الغنیۃ (شامی بحوالہ غنیہ)یا
طبیب حاذق مسلم مستور ایسا کہے درو ش وقیل عدالتہ شرط [10] غنیۃ (درمختار وشامی ، اور کہا گیا کہ اس کا عادل ہونا شرط ہے۔ غنیہ۔ ت)
اقول : فیہ مافیہ من الحرج وماشرع التیمّم الا لدفعہ(اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس میں حرج ہے حالانکہ تیمم دفع حرج ہی کیلئے مشروع ہوا۔ ت)(۳۹) یوں ہی اگر فی الحال مرض نہیں مگر تجربہ وغیرہ دلائل معتبرہ شرعیہ مذکورہ سے ثابت ہے کہ اس وقت پانی سے طہارت کی تو بیمار ہوجائے گا[11] ش عن القھستانی (شامی از قہستانی۔ ت) (۴۰) سردی شدید ہے اور حمام نہیں یا اُجرت دینے کو نہیں نہ پانی گرم کرسکتا ہے نہ ایسے کپڑے میں کہ نہا کر اُن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع