دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

(۹) فتح القدیر میں ہے :

الحاصل بعد ازالۃ الجرم کالحاصل قبل الذلك فی الرقیق[1]۔

جرم کو زائل کر نے کے بعد وہی چیز حاصل ہوگی جو رقیق میں جرم کو زائل کئے بغیر ہوتی ہے۔ (ت)

(۱۰) غنیہ میں ہے :

عمل ابو یوسف باطلاقہ الا انہ استثنی الرقیق کما قال المصنف (وان لم یکن لھا جرم کالبول والخمر فلابد من الغسل) بالاتفاق [2]۔

ابو یوسف  نے اس کے اطلاق پر عمل کیا البتہ انہوں نے رقیق کا استثنا ء کیاجیسا کہ مصنف  نے فرمایا (اور اگر اس کا جرم نہ ہو جیسےپیشاب اور شراب تو اس کا دھونا لازم ہے) بالاتفاق۔ (ت)

(۱۱) اُسی میں حدیث مطلق نقل کرکے قید لھا جرم کی تعلیل میں فرمایا :

قال فی الکفایۃ وغیرھا خرجت النجاسۃ الرقیقۃ من اطلاق الحدیث بالتعلیل[3] الخ

کفایہ وغیرہ میں ہے رقیق نجاست حدیث کے اطلاق سےتعلیل کی وجہ سےنکل گئی الخ (ت)

(۱۲) اُسی میں ہے :

من اصاب نعلہ النجاسۃ الرقیقۃ اذا استجسد بالتراب اوالرمل لومسحہ یطھر[4] ۔

جس کے جُوتے کو رقیق نجاست لگی پھر مٹی یا ریت کی وجہ سےمتجسد ہوگئی اب اگر وہ اس کو رگڑے تو پاك ہو جائے گی۔ (ت)

(۱۳) اُسی میں ہے :

المختار للفتوی الطھارۃ بالدلك فی الخف ونحوہ سواء کانت ذات جرم من نفسھا اوبغیرھا کالرقیقۃ المستجسدۃ بالتراب رطبۃ کانت اویابسۃ[5] ۔

فتوٰی کے لئے مختار موزہ وغیرہ کی طہارت میں یہ ہے کہ اس کو رگڑ لیا جائے چاہے خود اُس کا اپنا جرم ہو یا کسی اور کی وجہ سےجیسےوہ جو مٹی میں مل جا نے کی وجہ سےجسم والی ہوجائے خواہ تر ہو یا خشک۔ (ت)

(۱۴) حلیہ میں اسےمسئلہ اصابتہ نجاسۃ لھا جرم پر حدیث سےاستدلال کرکے فرمایا :

ھذا الاطلاق حجۃ لابی یوسف فی مساواتہ بین الرطب والیابس نعم علی ابی یوسف ان یقول بالطھارۃ فی الرقیق ایضا لان الاطلاق یتناولہ کما یتناول الکثیف مطلقًا[6]۔

یہ اطلاق ابو یوسف کی حجت ہے وہ رطب ویابس میں فرق  نہیں کرتے  ہیں ، اس کے علاوہ ابویوسف پر لازم ہے کہ وہ رقیق میں بھی طہارت کا قول کریں کیونکہ اطلاق کثیف کی طرح اس کو بھی شامل ہے۔ (ت)

(۱۵) اُسی میں اس جواب اور اُس پر بحث نقل کرکے فرمایا :

علی ان فی البدائع ان ابایوسف فی روایۃ عنہ سوی فی طھارتہ بین ان تکون مستجسدۃ اومائعۃ[7]۔

علاوہ ازیں بدائع میں ہے کہ ابویوسف کی ایك روایت میں ہے کہ انہوں نے جسم والی اور مائع میں مساوات رکھی ہے۔ (ت)

رابعًا صریح تفسیر۔

(۱۶) تنویر میں تھا :

عفی عن قدردرھم فی کثیف [8]

(ایك درہم کی مقدار کثیف میں معاف ہے۔ ت)

درمختار میں اس کی تفسیر کی لہ جرم [9](جس کیلئے جرم ہو۔ ت)ردالمحتار میں ہے :

قولہ لہ جرم تفسیر الکثیف[10]

(ان کا قول لہ جرم کثیف کی تفسیر ہے۔ ت)

(۱۷) جامع الرموز میں ہے : الکثیف مالہ جرم والرقیق مالاجرم لہ [11] (کثیف وہ ہے جس کاجرم ہو اور رقیق وہ ہے جس کا جرم نہ ہو۔ ت)شامی میں حلیہ سےہے :

عدمنہ(ای ممالہ جرم) فی الھدایۃ الدم وعدہ قاضیخان ممالیس لہ جرم ووفق فی الحلیۃ بحمل الاول علی

شمار کیاگیا ہے اس سے(یعنی اس سےجس کاجرم ہو) ہدایہ میں ہے خون کو ، اور اس کو قاضیخان  نے اس میں شمار کیا جس کا جرم نہ ہو۔ اور حلیہ میں اسی طرح توفیق

مااذا کان غلیظا والثانی علی مااذا کان رقیقا اھ وھذا یؤدی مؤدی التفسیر وان لم یکن سوقہ لہ [12]۔

 



[1]   فتح القدیر  باب الانجاس  نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۷۲

[2]   غنیۃ المستملی  الشرط الثانی الطہارۃ سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۷۸

[3]   غنیۃ المستملی  الشرط الثانی الطہارۃ سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۷۸

[4]   غنیۃ المستملی  الشرط الثانی الطہارۃ سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۷۸

[5]   غنیۃ المستملی  الشرط الثانی الطہارۃ سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۷۹

[6]   حلیہ

[7]   حلیہ

[8]   درمختار ، باب الانجاس ، مجتبائی دہلی ، ۱ / ۵۴

[9]   درمختار  باب الانجاس  مجتبائی دہلی۱ / ۵۴

[10]   ردالمحتار  باب الانجاس  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۲۳۳

[11]   جامع الرموز فصل یطہر الشیئ  اسلامیہ گنبد ایران ۱ / ۱۵۲

[12]   ردالمحتار باب الانجاس  مطبعۃ مصطفی البابی  مصر ۱ / ۲۳۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن