دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول :  (الفاظ مذکورہ کے اضافہ کے ساتھ حاکم کی جو روایت ہے) اگر صحیح نہ بھی ہوتی تو صحاح ستّہ کی روایت کا مطلق ہونا ہی کافی ہوتا (مومن نجس نہیں ہوتا ، مطلق فرمانے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حیات وموت کسی حالت میں نجس نہیں ہوتا) مگر بحمدالله روایت حاکم کی صحت ثابت ہے۔ حلیہ میں فرمایا : “ حاکم نے حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے : “ اپنے مردوں کو

 (باقی برصفحہ آیندہ)

لا(۱) موت لھم الا اٰنیا تصدیقا للوعد ثم ھم

                      موت محض آنی تصدیق وعدہ ، الٰہیہ کے لئے ہے پھر وہ                  (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

فی کتابہ اسنادہ عندی علی شرط الصحیح فترجح الاول [1]اھ۔

اقول :  وبہ اندفع لانہ لمن تامل تاویل(۱) الغنیۃ ان المراد لاینجس بالجنابۃ لسیاق حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔

اماقول ش المراد نفی النجاسۃ الدائمۃ والالزم ان لواصابہ نجاسۃ خارجیۃ لاینجس [2] اھ۔

اقول :   وقد ظھرلك دفعہ(۲)  بما قررنا فبون بین بین ان تصیبہ نجاسۃ من خارج فتزال وان یجعل جیفۃ خبیثۃ نجسا کل جزء جزء منہ ظاھرا وباطنا وھذا ھو حقیقۃ النجس بخلاف من اصاب جلدہ نجاسۃ من خارج فلایصح علیہ حقیقۃ انہ نجس انما النجس مااصابہ النجاسۃ من بشرتہ ،                

نجس نہ قرار دو اس لئے کہ مومن حیات وموت کسی حالت میں نجس نہیں ہوتا “ ۔ اور کہا کہ یہ صحیح برشرط بخاری ومسلم ہے۔ اور حافظ ضیاء الدین نے اپنی کتاب میں فرمایا : اس کی سند میرے نزدیك برشرط صحیح ہے تو اول کو ترجیح حاصل ہوگئی اھ۔

اقول : تامل کرنے والے کیلئے اسی سے غنیہ کی یہ تاویل بھی دفع ہوجاتی ہے کہ : “ حدیث ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سیاق کی روشنی میں اس ارشاد کی مراد یہ ہے کہ مومن جنابت کی وجہ سے نجس نہیں ہوجاتا “ ۔ رہا علّامہ شامی کا یہ قول کہ “ اس سے دائمی نجاست کی نفی مراد ہے ورنہ لازم آئے گا کہ اسے کوئی خارجی نجاست لگ جائے تو بھی نجس نہ ہو “ ۔ اھ

اقول :  ہماری تقریر سابق سے اس کا جواب بھی ناظر پر ظاہر ہے۔ بڑا نمایاں فرق ہے اس میں کہ اسے خارج سے کوئی نجاست لگ جائے پھر دور کردی جائے اور اس میں کہ اسے مردار خبیث ، اور ظاہرًا باطنًا اس کے ہر ہر جز کو نجس قرار دیا جائے۔ یہی نجس کی حقیقت ہے۔ اس کے برخلاف جس کی جلد پر خارج سے کوئی نجاست لگ گئی ہو ، اس پر حقیقی طور سے یہ بات راست نہیں آتی کہ وہ نجس ہے نجس تو صرف اس کی ظاہری جلد کا وہ حصہ ہے جس پر نجاست لگی ہے۔  (باقی برصفحہ آیندہ)

احیاء ابدا بحیاۃ حقیقۃ دنیاویۃ روحانیۃ جسمانیۃ کما ھو معتقد اھل السنۃ والجماعۃ ولذا لایورثون ویمتنع تزوج نسائھم صلوات الله تعالی وسلامہ علیہم بخلاف الشھداء(۱) الذین نص الکتاب العزیز انھم احیاء ونھی ان یقال لھم اموات فعلی قول العامۃ یکون ھذا التیمم مطھرا

ہمیشہ حیات حقیقی ودنیاوی روحانی وجسمانی کے ساتھ زندہ ہیں جیسا کہ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے اسی لئے کوئی ان کا وارث نہیں ہوتا اور ان کی عورتوں کا کسی سے نکاح کرنا ممتنع ہے صلوات الله تعالٰی وسلامہ علیہم بخلاف شہداء کے جن کے بارے میں کتاب مجید نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اس سے نہی فرمائی ہے کہ انہیں مردہ کہا جائے (مگر ان کی میراث تقسیم ہوگی ، ان کی ازواج کا دوسرا نکاح ہوسکتا ہے) تو عامہ مشائخ  (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

فثبت(۲) ولله الحمد ان الحدیث ینفی تنجس المسلم بالموت فوجب کما قال المحققان ترجیح ان غسلہ للحدث وقد قال فی البحر انہ الاصح اما(۳) فرعا فساد صلاۃ حاملہ قبل الغسل والماء(۴) القلیل بوقوعہ فمبنیان علی قول العامۃ کما جوزہ ش اقول ونعمل بھما اخذا بالاحتیاط اما الکافر فجیفۃ خبیثۃ قطعا فالحکمان فیہ قطعیان والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)

تو بحمدالله یہ ثابت ہوگیا کہ حدیث پاك سے موت کی وجہ سے مسلمان کے نجس ہونے کی نفی ہوتی ہے تو دونوں محققوں کے فرمان کے بموجب اس کی ترجیح ضروری ہے کہ غسلِ میت حدث کی وجہ سے ہے۔ اور بحر میں فرمایا ہے کہ “ یہی اصح ہے اب رہے یہ دو۲ جزئیے کہ اگر کوئی غسل دئے بغیر مُردہ کو نماز میں لیے ہوئے ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے (اور مردہ آبِ قلیل میں پڑ جائے تو وہ پانی فاسد ہوجاتا ہے “ ۔ تو یہ دونوں مسئلے عامہ مشائخ کے قول کی بنیاد پر ہیں ، جیسا کہ علّامہ شامی نے بطور تجویز واحتمال اسے کہا ہے (یعنی یہ کہ ہوسکتا ہے کہ یہ قول عامہ کی بنیاد پر ہو ، اور حقیقۃً یہ انہی کے قول پر مبنی ہے) اقول : اور احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے ہمارا عمل مذکورہ دونوں مسئلوں پر ہوگا۔ لیکن کافر قطعًا مردار خبیث ہے تو اس کے بارے میں دونوں حکم قطعی ہیں والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عن خبث۔

اقول :  و ربما یترجح بہ قول من قال ان الموت حدث وافاد فی طھارۃ البحر الرائق انہ الاصح فان التیمم لم یعرف الامطھرا عن نجاسۃ

حکمیۃ قال تعالٰی اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا [3] الاٰیۃ الا ان یقال ان المولٰی عــہ سبحٰنہ وتعالٰی جعل ھذا المسح بالصعید مزیلا للخبث  عن جمیع بدن المیت عند امتناع الغسل تفضلا منہ وتکرما تعبدا غیر معقول المعنی کما جعل المسح بالحجر مزیلا لہ فی الاستنجاء والله تعالٰی اعلم۔                                         

کے قول پر یہ تیمم میت اسے خبث سے پاك کرنے والا ہوگا۔

اقول : اس سے ان حضرات کے قول کی ترجیح سمجھ میں آتی ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ موت حدث ہے ، اور البحرالرائق کے باب طہارت میں افادہ فرمایا ہے کہ یہی اصح ہے اس لئے کہ تیمم نجاستِ حکمیہ سے مطہّر ہونے کی حیثیت سے ہی جانا پہچانا گیا ہے ارشادِ باری تعالٰی ہے : “ تم میں کا کوئی پاخانہ سے آئے یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو اور پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو “ ۔ مگر یہ کہا جائے کہ مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی نے غسل نہ ہوسکنے کی صورت میں جنسِ زمین سے اس مسح کو پُورے بدنِ میت سے خبث دُور کرنے والا قرار دیا ہے محض ازراہِ فضل وکرم ، ایسا حکم تکلیفی جس کا معنی عقل کی دسترس میں نہیں ، جیسے استنجاء میں پتھّر سے مسح کو خبث دُور کرنے والا قرار دیا ہے والله تعالٰی اعلم۔

 

عــــہ :  ولابد للقائلین بالحقیقیۃ ایضا الالتجاء الی مثل ھذا فقد نصوا ان المیت تکفی فیہ غسلۃ واحدۃ وانما التثلیث سنۃ ولوکانت حقیقیۃ لوجب التثلیث فاجابوا بان ھذا من تکریم الله سبحٰنہ وتعالٰی عبدہ المسلم المیت جعل تطھیرہ بمرۃ واحدۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)               

نجاست حقیقیہ ماننے والوں کیلئے بھی اس طرح کی بات سے مفر نہیں کیوں کہ انہوں نے بھی یہ تصریح کی ہے میت کے بدن کو ایك بار دھونا ہی کفایت کرتا ہے اور تین بار دھونا فقط سنّت ہے۔ اگر نجاست حقیقیہ ہوتی تو تین بار دھونا واجب ہوتا۔ اس کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ الله سبحانہ وتعالٰی کی جانب سے اپنے بندہ مسلم کی میت کی تکریم ہے کہ ایك بار سے ہی اس کی تطہیر کا حکم فرمادیا ۱۲ منہ (ت)

الثانی  :  یؤمر الصبی العاقل بالوضوء والصلاۃ فان کان مریضا اوعلٰی سفر ولم یجد ماء تیمّم ولایخرج تیممہ من التیمم الشرعی کوضوئہ وصلاتہ مع انہ لایحدث عندہ کمابیناہ فی الطرس المعدل فیراد فیہ صورۃ التطھیر وان لم یکن تطہیرا حقیقۃ لعدم النجاسۃ الحکمیۃ فکان کقول الخانیۃ الصبی العاقل اذا توضأ یرید بہ التطھیر ینبغی ان یصیر الماء مستعملا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ [4] اھ تامل۔

 



[1]   حلیہ

[2]   رد المحتار باب صلوۃ الجنائز دار  احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۷۳

[3]   القرآن ۴ / ۴۳

[4]   فتاوٰی قاضیخان ، آخر فصل فی الماء المستعمل۔ ۱ / ۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن