دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : یہاں تین بحثیں ہیں : اول ظاہر یہ ہے کہ تطہیر سے نجاست حکمیہ کا ازالہ مراد ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میت کو تیمم کرایا جاتا ہے جب پانی نہ ملے یا میت عورتوں کے درمیان کوئی مرد ، یا مردوں کے درمیان کوئی عورت یا کوئی مراہق خنثی ہو مطلقًا۔ اسے کوئی محرم تیمم کرائے گا ، وہ نہ ہو تو اجنبی کسی کپڑے کے ذریعے تیمم کرائے گا۔ یہ سب درمختار میں ہے اور تفصیلی ذکر آگے آئیگا اور عامہ مشائخ نے یہ فرمایا ہے کہ موت سے میت نجاست حقیقیہ کے ساتھ نجس ہوجاتی ہے اور یہ ظاہر تر ہے ، بدائع--  یہی صحیح ہے ، کافی----  یہی زیادہ قرین قیاس ہے ، فتح القدیر۔

 

عــہ  لان الاٰدمی حیوان دموی فیتنجس بالموت کسائر الحیوان[1]  فتح اقول :  ویرد علیہ ان لوکان کذالم یمکن تطہیرہ بالغسل الاتری الجیفۃ لوغسلت الف مرۃ لم تطھر وانما یطھر منھا الجلد بالدباغ

اس لئے کہ آدمی ، خُون رکھنے والا جاندار ہے تو یہ بھی ایسے دوسرے جانداروں کی طرح موت سے نجس ہوجائیگا ، فتح القدیر۔ اقول : اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ اگر ایسا ہوتا تو غسل سے اس کی تطہیر ممکن نہ ہوتی۔ دیکھ لیجئے کہ مردار کو اگر ہزار بار بھی غسل دیا جائے تو پاك نہ ہوگا ، ہاں دباغت سے صرف

اقول :   ای غیر الانبیاء فانھم(۱)

اقول : مراد غیر انبیاء ہیں اس لئے کہ

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

وجلد الانسان لایحتملہ ولعل قولی ھذا اولی من قول القائلین بالحدث اذقالوا نجاسۃ الحدث تزول بالغسل لانجاسۃ الموت لقیام موجبھا بعدہ فغسل المسلم لیس لنجاسۃ تحل بالموت بل للحدث لان الموت سبب الاسترخاء و زوال العقل ولما کان یرد علیہ ان ھذا سبب الوضوء دون الغسل قالوا بل ھو سبب الغسل وکان ھو القیاس فی الحی وانما اقتصر فیہ علی الوضوء دفعا للحرج لتکرر سبب الحدث منہ بخلاف المیت[2] اھ اذیرد علیہ مافی الفتح ان قیام الموت مشترك الالزام فان سبب الحدث ایضا قائم بعد الغسل [3] اھ۔

اس کی جلد پاك ہوجاتی ہے ، اور انسان کی جلد میں اس کا احتمال نہیں۔ امید ہے کہ میری مذکورہ عبارت حدثِ میت کے قائل حضرات کی اس عبارت سے بہتر ہوگی جس میں انہوں نے یہ کہا کہ “ حدث ہی کی نجاست ہے جو غسل سے دُور ہوتی ہے نہ کہ موت کی نجاست ، اس لئے کہ اس نجاست کا سبب (موت) تو بعد غسل بھی قائم وباقی رہتا ہے۔ تو مسلم کا غسل کسی ایسی نجاست کی وجہ سے نہیں جو موت سے اس میں حلول کرجاتی ہے بلکہ حدث کی وجہ سے ہے ، اس لئے کہ موت اعضاء کے ڈھیلے پڑنے اور عقل کے زائل ہونے کا سبب ہے “ اس پر جو اعتراض وارد ہوتا تھا کہ یہ تو وضو کا سبب ہے غسل کا نہیں ، تو اس کے جواب میں ان حضرات نے کہا : “ بلکہ یہ غسل ہی کا سبب ہے اور زندہ شخص میں بھی قیاس کا تقاضا یہی تھا کہ اس سے غسل لازم ہو ، مگر دفع حرج کیلئے اس میں صرف وضو پر اکتفا کا حکم ہوا کیونکہ اس سے یہ سبب باربار پایا جاتا ہے بخلاف میت کے ، کہ اس میں ایسا نہیں “ ۔ اھ۔ اس عبارت پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو فتح القدیر میں ہے کہ “ سبب کے قائم وباقی رہنے کا الزام تو دونوں ہی صورتوں میں مشترك ہے کیونکہ حدث کا سبب بھی تو غسل کے بعد قائم وباقی رہتا ہے “ اھ۔  (باقی برصفحہ آیندہ)

صلوات الله تعالٰی وسلامہ علیھم

حضرات انبیاء صلوٰت الله تعالٰی وسلامہ علیہم۔

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

واقول :  بل لیس(۱) مشترکا فان الموت تبقی النجاسات متشربۃ فی البدن ولاتزول بالغسل والاسترخاء یوجب خروج ریح وبزوال العقل لایتنبہ لہ کالنوم فکان سببا بالعرض وھما قدعرضا للمیت وھو حی فتوجہ الیہ الخطاب وثبتت النجاسۃ الحکمیۃ فاذا غسل زالت ولاتعود لانھا حکمیۃ وقد انھی الموت توجہ الخطاب والتکلیف۔

اما اعتذارھم بان الغسل جعل مطھرا لہ تکریما کما فی الفتح فاقول : التکریم ان(۲) لایجعل جیفۃ لاان یحکم بانہ جیفۃ خبیثۃ ثم یحکم بطھارتہ بالغسل مع

واقول : (میری عبارت کے برخلاف قائلین حدث کی عبارت پر یہ اعتراض ہے اگرچہ میرے نزدیك اس کا جواب بھی ہے کہ) یہ الزام دونوں قول (نجاست وحدث) میں مشترك نہیں اس لئے کہ موت ، بدن میں نجاستوں کو پیوست رہنے دیتی ہے اور وہ غسل سے دُور نہیں ہوتیں۔ اور اعضاء ڈھیلے پڑنا ہوا خارج ہونے کا سبب ہوتا ہے اور آدمی عقل زائل ہونے کی وجہ سے اس پر متنبہ نہیں ہوتا ، جیسے نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ تو یہ بالعرض سبب ہوا ، اور دونوں امر (اعضاء ڈھیلے پڑنا اور زوالِ عقل) میت کو حالتِ حیات ہی میں عارض ہوئے تو اس کی جانب خطاب متوجہ ہوا ، اور نجاست حکمیہ ثابت ہوئی ، جب اسے غسل دے دیاگیا تو زائل ہوگئی اور دوبارہ لَوٹنے والی نہیں اس لئے کہ یہ حکمیہ ہے اور موت کی وجہ سے اس کی جانب خطاب کا متوجہ ہونا اور اس کا مکلّف ہونا ختم ہوگیا۔

اب رہا ان (قائلینِ نجاست) کا یہ عذر کہ “ تکریمًا اس کے لئے غسل کو مطہّر قرار دیا گیا ہے “ جیسا کہ فتح القدیر میں ہے فاقول : تکریم تو یہ ہے کہ اسے مردار نہ قرار دیا جائے۔ یہ نہیں کہ اس کے مردار خبیث ہونے کا حکم دیا جائے پھر منافی

(بقیہ صفحہ آئندہ پر)

طیبون طاھرون احیاء وامواتا بل

حیات وممات ہر حالت میں طیب وطاہر ہیں بلکہ ان کیلئے

 (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

قیام المنافی وقدقال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان المومن لاینجس [4] رواہ الستۃ عن ابی ھریرۃ واحمد والخمسۃ الا الترمذی عن حذیفۃ والنسائی عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عن ابی مُوسٰی رضی الله تعالٰی عنہ وزاد الحاکم من حدیث ابی ھریرۃ حیا ومیتا قال فی الفتح ان صح وجب ترجیح انہ للحدث [5] اھ۔

اقول :  ولولم یصح لکنی اطلاق الصحاح علی انہ قدصح ولله الحمد قال فی الحلیۃ قد اخرج الحاکم عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتنجسوا موتاکم فان المؤمن فلاینجس حیا ولامیتا قال صحیح علی شرط البخاری ومسلم وقال الحافظ ضیاء الدین

قائم رہنے کے باوجود غسل سے اس کے پاك ہوجانے کا حکم دے دیا جائے حالانکہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے : “ یقینا مومن نجس نہیں ہوتا “ ۔ یہ حدیث صحاح ستّہ میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور حضرت حذیفہ سے امام احمد اور ترمذی کے علاوہ پانچوں حضرات نے روایت کیا ہے اور حضرت ابن مسعود سے نسائی نے اور حضرت ابوموسٰی سے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمطبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حاکم کے الفاظ یہ ہیں کہ (مومن) “ حیات وموت کسی بھی حالت میں “ (نجس نہیں ہوتا) فتح القدیر میں ہے : “ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس قول کی ترجیح لازم ہے کہ غسل حدث کی وجہ سے ہے “ اھ۔

 



[1]   ایضًا

[2]   فتح القدیر   فصل فی الغسل  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۲ / ۷۰

[3]   فتح القدیر   فصل فی الغسل  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۲ / ۷۰

[4]   صحیح البخاری کتاب الغسل ۱ / ۳۹

[5]   فتح القدیر فصل فی الغسل ۲ / ۷۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن