دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

وھذا مع شدۃ وضوحہ ربما یزیدہ ایضاحا ان من قام عن نومہ فجعل یمسح النوم عن وجھہ وامر کفیہ علی ذراعیہ رفعا للکسل اوتوضأ فمسح الماء عن وجھہ وذراعیہ لیس لاحدان یتوھم ان قدتحق ارکان التیمم فی الخارج فثبت عــہ ان الضربتین من الشرائط                    

جاچکی ہے “ ۔ اور بدائع کے حوالے سے گزرا کہ “ شرط یہ ہے کہ رُوئے زمین پر مارے ہوئے ہاتھ سے چہرے اور ہاتھوں کو مس کیا جائے “ اھ تو جب ضرب ہی نہ ہو تو دونوں (صعید حقیقی سے مسح اور صعید حکمی سے مسح) میں سے کسی کا تحقق نہ ہوگا تو اس شرط کے بغیر تیمم معہود کے ارکان کا وجود ہی نہ ہوگا۔ بہت واضح ہونے کے باوجود اس کی مزید وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص نیند سے اُٹھ کر اثر دُور کرتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کلائیوں پر بھی سُستی دُور کرنے کیلئے ہتھیلیاں پھیر لیں ، یا کسی کو وضو کرنا ہوا تو اپنے چہرے اور کلائیوں پر پانی سے مسح کیا ان صورتوں میں کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ خارج میں تیمم کے ارکان متحقق ہوگئے تو ثابت ہوا کہ دونوں ضربیں ایسی شرطوں میں سے ہیں کہ

 

عــہ  اقول :  وکان یمکن ان یرجع الی ھذا قول السید ط لماذکر الدر الصعید من شرائط التیمم قال ھو جزء الحقیقۃ لانھا مسح الوجہ والیدین علی الصعید لکنہ رحمہ الله تعالی زاد بعدہ ولیس بشرط فجعلہ             

اقول : درمختار کی عبارت “ صعید شرائط تیمم سے ہے “ پر سید طحطاوی نے فرمایا صعید حقیقت تیمم کا جز ہے اس لئے کہ وہ صعید پر ہاتھ اور چہرے پھیرنے کا نام ہے۔ سید طحطاوی کی اس عبارت کو بھی اسی طرف پھیرا جاسکتا تھا کہ شرط کو جز وحقیقت (رکن) کہہ دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بعد ہی یہ کہہ کر کہ “ وہ (صعید) شرط نہیں “ اپنی عبارت کو   (باقی برصفحہ آیندہ)

التی لاتحقق التیمم المعھود فی الاعیان ایضا الابھما فناسب ان تسمیا رکنین۔

اما التیمم الغیر المعھود فلا یتوقف علیھما بل یتحقق بادخال المحل فی موضع الغبار وبتحریکہ فيہ وبامرار الید علی النقع الواقع علی المحل وبامرار الصعید علیہ کمامر تقریر کل ذلک۔ فظھر ولله الحمد ان مراد ائمتنا بالضرب امساس الکف بالصعید وبالرکن الشرط الذی لاتصور المشروط بدونہ وبالتیمّم التیمم المعھود وھو کلام حق لاغبار علیہ۔

اما الفروع العشرۃ فکلھا فی التیمم الغیر المعھود فعدم الضرب فیھا لاینافی رکنیتہ للتیمم المعھود وبھذا التحقیق الانیق الحقیق بالقبول٭ تلتئم کلمات الائمۃ الفحول٭وتندفع الشبھات عن الفروع و                                               

ان کے بغیر خارج میں بھی تیمم معہود کا تحقق نہیں ہوسکتا اس لئے انہیں رکن کا نام دینا مناسب ہوا۔

لیکن تیمم غیر معہود ان دو ضربوں پر موقوف نہیں ، وہ یوں بھی متحقق ہوجاتا ہے کہ اعضائے تیمم کو غبار کی جگہ داخل کردے ، یا اس میں ان اعضاء کو جنبش دے لے یا اعضاء پر پڑے ہوئے غبار پر ہاتھ پھیرلے یا جنسِ زمین سے کوئی چیز اٹھا کر ان اعضا پر پھیرلے۔ جیسا کہ ان سب کی تقریر گزرچکی۔ تو بحمدلله ظاہر ہوا کہ ضرب سے ہمارے ائمہ کی مراد صعید سے ہتھیلی کو مس کرنا ، اور رکن سے مراد ایسی شرط جس کے بغیر مشروط کا تصور نہیں ہوتا ، اور تیمم سے مراد تیمم معہود اور یہ بالکل بے غبار اور برحق کلام ہے۔

رہ گئے وہ دسوں۱۰ جزئیات تو وہ سب تیمم غیر معہود سے متعلق ہیں ان میں ضرب کا نہ ہونا تیمم معہود میں رکنیت ضرب کے منافی نہیں۔ اس دلکش ، لائق قبول تحقیق سے ائمہ فحول کے کلمات میں مطابقت وموافقت ہوجاتی ہے ، اور فروع و (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

مفسّرا بغیر قابل للتاویل وعلی(۱) ھذا یلزم ان یکون الوجہ والیدان ایضا اجزاء حقیقۃ التیمم والبصر جزء حقیقۃ العمی وھو کماتری۱۲منہ غفرلہ۔ (م)

مفسَّر ناقابل تاویل بنادیا اور اس پر یہ لازم آئے گا کہ چہرا اور دونوں ہاتھ بھی حقیقت تیمم کا جز ہوں اور بصر حقیقت عمی کا جز ہو ، اس کی خامی وکمزوری ہر ناظر پر عیاں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

الاصول٭ویرتفع النزاع المستمر من الف سنۃ بین الخیار العدول٭ھکذا ینبغی التحقیق٭والحمدلله علی حسن التوفیق٭وصلی الله تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا واٰلہ وصحبہ٭وابنہ وحزبہ٭اجمعین ابد الاٰبدین٭والحمدلله ربّ العٰلمین٭

الثانی عشر :  ظھرلك من ھذہ المباحث ان احسن ھذہ الحدود الستۃ ازواجھا دون اوتارھا وان السادس مختص بالتیمم المعھود والثانی والرابع یعمان کل تیمّم بیدان الرابع مقتصر علی حقیقتہ فقدادی حق الحد والثانی زادہ ایضاحا بزیادۃ قصد التطہیر۔

اصول سے شبہات کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ ا ور عادلانِ برگزیدہ کے مابین “ ہزار سال سے جاری رہنے والے اختلاف “ کاخاتمہ ہوجاتا ہے تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے اور حسنِ توفیق پر خدا کا شکر ہے اور الله تعالٰی کا درود ہو ہمارے سردار اور آقا پر اور ان کی آل ، اصحاب ، فرزند ، جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ۔ اور ساری خُوبیاں الله کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

بحث۱۲ : ان مباحث سے ظاہر ہوا کہ مذکور عــہ چھ تعریفوں میں بہتر وہ ہیں جو جفت نمبر پر آئی ہیں ، وہ نہیں جو طاق ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چھٹی تعریف تیمم معہود سے خاص ہے اور دوسری ، چوتھی ہر تیمم کو عام ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ چوتھی تعریف میں حقیقتِ تیمم کے بیان پر اکتفا کیا ہے تو اس نے تحدید کا حق ادا کیا اور دوسری نے “ قصد تطہیر “ کا اضافہ کرکے مزید وضاحت کردی ہے۔

عــہ  مذکورہ چھ۶ تعریفیں یوں ہیں :
(
۱) تطہیر کیلئے پاك صعید کا قصد۔

(۲) دو مخصوص عضووں پر تطہیر کے قصد سے مخصوص شرطوں کے ساتھ صعید کا استعمال یا زمین کے کسی جز کا بقصدِ تطہیر اعضائے مخصوصہ پر استعمال۔

(۳) مطہّر صعید کا قصد اور ادائے قربت کے لئے مخصوص طور پر اس کا استعمال۔
(
۴) پاك صعید سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح۔
(
۵) وہ طہارت جو پاك صعید کو دو مخصوص عضووں میں بقصدِ مخصوص استعمال کرنے سے حاصل ہو۔
(
۶) دو۲ ضربیں ، ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب کہنیوں تك ہاتھوں کیلئے۔ ۱۲ محمد احمد مصباحی

اقول :  وفیہ ثلٰثۃ مباحث الاوّل الظاھر ان المراد بالتطھیر ازالۃ النجاسۃ الحکمیۃ لکن ربما ییمم(۱) المیت اذالم یوجد ماء اوکان رجلا بین نساء اوامرأۃ بین رجال اوخنثی مراھقۃ مطلقًا فانہ ییمہ المحرم فان لم یکن فالاجنبی بخرقۃ [1]  الکل فی الدر ویأتی مفصلا وقد(۲) قال عامۃ المشائخ ان المیت یتنجس بالموت نجاسۃ حقیقۃ وھو الاظھر [2]  بدائع وھو الصحیح[3] کافی وھو الاقیس عــہ فتح [4]۔                   

 



[1]   الدرالمختار    باب صلاۃ الجنائز  مطبوعہ مجتبائی دہلی  ۱ / ۱۱۹

[2]   بدائع الصنائع  فصل فی وجوب غسل المیت  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۲۹۹

[3]   کافی

[4]   فتح القدیر    فصل فی الغسل  نُوریہ رضویہ سکھّر  ۱ / ۷۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن