دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

کچھ مٹّی چپك جائے بلکہ سنّت یہ ہے کہ پھونك کر اور جھاڑ کر اسے دُور کردیا جائے۔ اسے تعریف دوم کے تحت بدائع کے حوالے سے ہم نقل بھی کرچکے ہیں۔ بدائع میں یہ بھی ہے کہ “ حکمِ شرع یہ آیا ہے کہ جو ہتھیلی مٹّی سے مس ہوچکی ہے اسے دونوں عضووں پر پھیرا جائے یہ حکم نہیں کہ اس سے دونوں کو آلودہ کیا جائے “ ۔ اھ

اور کافی میں ہے “ اپنے دونوں ہاتھوں کو ایك بار جھاڑلے گا۔ اور امام ابویوسف سے روایت ہے کہ دوبار۔ اور درحقیقت کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ اگر ایك ہی بار جھاڑنے سے ہتھیلی پر چپکی ہوئی مٹی جھڑ جائے تو اسی پر اکتفاء کرے ورنہ دوبار جھاڑے کیونکہ واجب یہی ہے کہ جو ہتھیلی زمین پر رکھی جاچکی ہے اس سے مسح کرے یہ واجب نہیں کہ مٹّی کو استعمال کرے یہ تو مثلہ ہے “ ۔ اھ اسی کے مثل کافی کے حوالہ سے برجندی میں نقل ہے ، اور حلیہ وغیرہا میں اس کے ہم معنی عبارت تحریر ہے۔ اور دوہی بار جھاڑنے کی بھی کوئی پابندی نہیں بلکہ یہاں تك جھاڑے کہ مٹّی جھڑ جائے۔ کیونکہ ہدایہ میں یہ فرمایا ہے : “ اپنے ہاتھوں کو اس قدر جھاڑے گا کہ مٹّی جھڑ جائے تاکہ مثلہ نہ ہو اھ  تو جو شخص کسی سنگِ مرمر کے فرش پر بیٹھا ہوا تھا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس پر ٹیك دیتے ہوا

ثم بعد زمان اراد ان یتیمّم فاجتزاء بذلك المس الذی وقع بین الرخام وکفیہ عند القیام فمتی تیمّم صعیدا طیبا للطھور حین کان الصعید بکفیہ لم یقصد وحین قصد لاصعید وانما ورد القصد علی کفين صفرین فالظاھر ان الصواب فیہ مع السید الامام ابی شجاع وقد علمت قوۃ مالہ من التصحیحات وکثرتھا سواء(۱) قلنا برکنیۃ الضربتین اولالان المساس الواقع بین الکفین والتراب لایصیر مطھرا الا اذا کان منویا۔

نعم ان(۲) التصق بکفیہ تراب کاف للتیمم ونوی الاٰن جاز لصدق قصدہ الی صعید طیب للتطھیر وکم لہ فی الفروع المارۃ من نظیر فان حملنا علیہ قول التجویز کان توفیقا وبالله التوفیق والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

کھڑا ہوا پھر کچھ دیر بعد تیمم کرنا چاہا تو کھڑے ہوتے وقت اس کی ہتھیلیوں اور سنگِ مرمر کے درمیان جو مس پایا اسی پر اکتفا کرلیا تو اس نے طہارت کے لئے پاك صعید کا قصد کب کیا؟ جب صعید اس کی ہتھیلیوں سے متصل تھی اُس وقت قصد نہ کیا۔ اور جب قصد کیا اس وقت صعید نہیں۔ بس خالی ہتھیلیوں پر قصد کا عمل پایا گیا۔ تو ظاہر یہ ہے کہ اس مسئلہ میں صواب ودرستی سید امام ابوشجاع کے ساتھ ہے۔ اور ان کی تصحیحات کی قوت اور کثرت بھی معلوم ہے خواہ ہم یہ کہیں کہ دونوں ضربیں رکنِ تیمم ہیں یا نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ہتھیلیوں اور مٹی کے درمیان پایا جانے والا عمل مس اسی وقت مطہر ہوتا ہے جب مقصد ونیت کے ساتھ ہو۔

ہاں اگر اس کی ہتھیلیوں سے اتنی مٹّی لگی ہُوئی موجود ہو جو تیمم کیلئے کافی ہے اور اب نیت کرلی تو جائز ہے کیونکہ اب یہ بات صادق آگئی کہ اس نے تطہیر کیلئے پاکیزہ صعید کا قصد کیا۔ گزشتہ جزئیات میں اس کی بہت سی نظیریں بھی آچکی ہیں۔ زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد پائی جانیوالی نیت سے تیمم جائز قرار دینے والے قول کو اگر اس معنٰی پر محمول کرلیا جائے تو دونوں قولوں میں تطبیق بھی ہوجائے گی (جواز کا قول اس صورت میں ہے جب ہاتھوں پر بقدر کافی پاك صعید موجود ہو اور عدمِ جواز کا قول اس صورت میں ہے جب ایسا نہ ہو۔ م۔ ا) والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

الثامن :  اظھر(۱) منہ الامر فی ثمرۃ الخلاف الاخری فان(۲) التراب بامساس الکفین بہ للطھور یکسبھما باذن الله تعالٰی وصف التطھیر حتی انہ بنفسہ یخرج من البین وان کان لہ بقیۃ تزال بنفض الیدین ومستحیل ان یکون نجس مطھرا فاذا ضرب ثم احدث قبل المسح فقد صارکفاہ غیر طاھرتین فکیف تبقیان مطھرتین۔

وما استدلوا(۳)بہ للسید الامام انہ علی الرکنیۃ یقع الحدث فی خلال التیمم۔

فاقول :  حاصل علی کل حال لما قدمنا اٰنفا من ان الکفین قد طھرتا بالضرب حتی لایمسحھما علی الصحیح فالحدث الواقع بعد الضرب لایقع الا وقد اتی بعض التیمم وان لم تکن الضربۃ رکنا اماحدیث من ملأ کفیہ

بحث۸ : عــہ اختلاف کے ثمرہ دیگر کا معاملہ اس سے زیادہ روشن ہے۔ اس لئے کہ ہتھیلی کو طہارت کیلئے جب مس کیا جاتا ہے تو مٹّی باذنِ الٰہی ان ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی جاتی ہے۔ یہاں تك کہ خود مٹی درمیان سے نکل جاتی ہے۔ اگر کچھ باقی رہ بھی گئی تو ہاتھوں کو جھاڑ کر دُور کردی جاتی ہے۔ اور یہ محال ہے کہ کوئی نجس مطہِّر ہو۔ تو جب اس نے زمین پر ہاتھ مارے پھر مسح سے پہلے اسے حدث عارض ہوگیا تو اب اس کی ہتھیلیاں تو بے طہارت ہوگئیں جپھر وہ خود غیر طاہر ہوکر مطہّر کیسے رہ جائیں گی؟اب وہ بات رہی جس سے سید امام ابوشجاع کی حمایت میں استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے رکنیت ضرب کے قول پر یہ لازم آرہا ہے کہ حدث درمیان تیمم میں واقع ہوا۔

فاقول :  یہ تو بہرحال لازم ہے کیونکہ ابھی ہم بتا چکے کہ ضرب سے ہتھیلیاں پاك ہوگئیں اب قولِ صحیح کی بنیاد پر ، ان پر دوبارہ مسح نہ کیا جائے گا۔ تو ضرب کے بعد پایا جانے والا حدث اسی حالت میں واقع ہورہا ہے جب کہ کچھ تیمم ہوچکا ہے اگرچہ ضرب رکن تیمم نہ ہو (عدمِ رکنیت ضرب کے قول پر حدث بھی ضرب مذکور سے اگلا مسح درست

عــہ  بحث سابق سے معلوم ہوا کہ ضرب کفایت نیت کی بات کسی قول پر بھی راست نہیں آتی اور اسے ضرب کی رکنیت اور عدمِ رکنیت میں اختلاف کا ثمرہ شمار کرانا کسی طرح درست نہیں۔ اب حضرت مصنف نے تعریف ہشتم کے بعد ذکر شدہ پہلے ثمرہ اختلاف پر کلام کیا ہے وہ ثمرہ یہ بیان کیا گیا تھا کہ بعد ضرب اگر متیمم کو حدث عارض ہوا تو قولِ رکنیت پر یہ ضرب تیمم کے لئے کافی نہ ہوگی اور قولِ دیگر پر کافی ہوگی ۱۲ م۔ الف)

ماء فاحدث کان لہ ان یستعملہ [1]۔

فاقول :  یجب عــہ ان یکون فی اول مااغترف قبل ان یغسل شیئا من الاعضاء

ہونے کے ثبوت میں) یہ جو کہا گیا تھا کہ کسی نے اپنی ہتھیلیوں میں پانی لیا پھر اسے حدث ہوا تو بھی وہ اس پانی کو وضو کیلئے استعمال کرسکتا ہے (ایسے ہی ضرب کے بعد حدث ہوا تو بھی وہ اس سے تیمم کرسکتا ہے)

فاقول : ضروری ہے کہ یہ اس وقت ہو جب اس نے پہلی بار چلّو میں پانی لیا اور ابھی کوئی عضو

  

عـــہ وکتبت ھھنا فیما علقت علی ردالمحتار اقول المراد من ملأ کفیہ ماء اول الوضوء لیغسل بہ یدیہ الی رسغیہ لانہ لم یزد ھذا الحدث الاملاقاۃ الماء کفا ذات حدث وقد کان ھذا حاصلا قبل ھذا الحدث لکونہ محدثا من قبل فکما جاز للمحدث ان یملأ کفیہ ماء یغسل بہ یدیہ ولا یکون بہ مستعملا للماء المستعمل لان الاستعمال بعد الانفصال فکذا اذا احدث بعد الاغتراف امامن غسل یدیہ ثم اغترف للوجہ فاحدث لم یجز لہ ان یغسل بہ وجھہ         

میں نے اس مقام پر حاشیہ ردالمحتار (جدالممتار) میں لکھا ہے اقول مراد یہ ہے کہ جس نے شروع وضو میں گٹوں تك ہاتھوں کو دھونے کیلئے اپنی ہتھیلیوں میں پانی بھرا ، اس لئے کہ اس حدث سے صرف یہی بات زیادہ ہوئی کہ حدث والی ہتھیلی سے پانی کا اتصال ہوا ، اتنی بات تو اس سے پہلے وہ محدث وبے وضو تھا تو جیسے محدث کو اپنی ہتھیلیوں میں ہاتھوں کو دھونے کیلئے پانی بھر لینا جائز ہے ، اور اس سے وہ مائے مستعمل کو استعمال کرنے والا نہیں قرار پاتا کیوں کہ پانی پر مستعمل ہونے کا حکم اس وقت ہوتا ہے جب وہ عضو سے جُدا ہوجائے۔ تو یہی بات اُس صورت میں بھی ہوگی جب وہ چلّو لینے کے بعد حدث کرے۔ لیکن وہ شخص جس نے اپنے ہاتھوں کو دھو لیا پھر چہرے کیلئے چُلّو میں پانی لیا اور اب اسے حدث ہوگیا تو اس کیلئے اس پانی سے(باقی برصفحہ آیندہ)

والالکان حدثا فی خلال الوضوء وحینئذ(۱) لامانع من ان یصرفہ فی غسل یدیہ لانھما کانتا محدثتین عند الغرف وقد لاقامھما الماء وبقی سائغ الاستعمال لعدم الانفصال فالحدث بعد الغرف لایزیدہ شیئا فوق ذلك والمطھر ھو الماء لایداہ بخلاف ماھنا(۲) فان کفیہ ھما اعتبرتا مطھرتین بعد الضراب لا التراب الذی لاحاجۃ الیہ بل لوکان ازیل۔

نہ دھویا ہو ورنہ یہ حدث درمیان وضو میں ہوگا۔ اور شروع ہی میں جو پانی لیا اور حدث ہوگیا تو اس پانی کو اپنے ہاتھوں کے دھونے کے عمل میں صرف کرنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ یہ دونوں ہاتھ تو چُلّو لینے کے وقت بھی محدث وبے طہارت تھے اب ان سے پانی کا اتصال ہوا اور اسے استعمال کرنا جائز رہا کیوں کہ ابھی پانی ہاتھ سے جُدا نہ ہوا (اور پانی جب تك عضو سے جدا نہ ہو وہ مستعمل اور غیر مطہر قرار نہیں پاتا) چلّو لینے کے بعد حدث پایا گیا تو یہ حدث ہاتھوں کی حالت میں سابقہ حالت سے زیادہ کوئی اضافہ تو نہیں کررہا ہے (پہلے بھی پانی محدث ہاتھوں میں ہی تھا اور اب بھی محدث پانی ہاتھوں میں ہی ہے) اور مطہّر پانی ہی ہے اس کے دونوں ہاتھ مطہر نہیں ہیں بخلاف تیمم والی صورت کے ، کیوں کہ یہاں تو اس کی دونوں ہتھیلیاں ہی ضرب کے بعد مطہّر مانی گئی ہیں ، نہ کہ وہ مٹی جس کی اب کوئی ضرورت نہ رہی بلالکہ اگر ہاتھ پر لگی بھی ہو تو وہ جھاڑ دی جائے گی۔

 

 



[1]   فتح القدیر  باب التیمم  نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۱۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن