30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلالہ کمن یولج وجھہ وکفیہ فی الرمل بنیۃ التیمم وعلیہ الفرع الرابع اوعط امرارك الصعید علی عضویك کان تأخذ قطعۃ حجر فتمرھا علی وجھك وذراعیك ناویا مستوعبا وبالجملۃ تفعل مابنفسہ یقع المساس بین الصعید والمحل۔
واقول : وھذا الوجہ الاخیر الذی زدتہ وان لم یذکروہ معلوم اجزاؤہ قطعا لوجود امتثال قولہ عزوجل فتیمّموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ ھذا کلہ فی الثانی اما الاول اعنی وجد انہ متصلا ففیہ صورتان:
الاولی : ان تجدہ علی عضویك فقط لاورائھما کغبارساکن وقع علیہما بالقاء ریح کما فی الفرع الاول اوبفعل منك کھدم اوکنس اوکیل اوذر اوضرب بہ اونفض ثوب کما فی الفرع الثانی والسادس والتاسع والعاشر کل ذلك اذا اردت التیمّم بما بقی منہ علی عضویك بعد سکونہ اولم یثر غبارا فی الذربل نزل علی العضو فسکن۔
داخل کردے۔ مثلًا کوئی شخص بہ نیتِ تیمم اپنے چہرے اور ہاتھوں کو ریت میں داخل کرے ، اس پر جزئیہ ۴ ہے۔ ب۔ یا صعید کو اعضاء پر گزارے۔ مثلًا پتھر کا کوئی ٹکڑا لے کر بہ نیت تیمم چہرے اور ہاتھوں پر پورے طور سے پھیرلے۔ مختصر یہ کہ ایسا فعل ہو کہ خود اسی فعل سے صعید اور اعضائے تیمم باہم مَس ہوجائیں۔
اقول : یہ آخری صورت جس کا میں نے اضافہ کیا اگرچہ اسے علماء نے ذکر نہیں کیا مگر اس کا جواز تیمم کیلئے کافی ہونا قطعی طور پر معلوم ہے اس لئے کہ ارشادِ باری عزّوجلّ : “ تو پاك صعید کا قصد کرکے اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو “ کی بجا آوری پائی جاتی ہے۔ یہ کلام برتقدیر ثانی تھا۔ اب پہلی تقدیر لیجئے یعنی صعید کو اعضاء سے متصل پانا۔ اس میں دو صورتیں ہیں : (۱) تیمم کرنے والا صرف چہرے اور ہاتھوں پر صعید پائے اور کسی عضو پر نہ پائے مثلًا دونوں عضووں پر غبار ہوا کے اڑا کر ڈال دینے سے پڑا ہو۔ جیسا کہ جزئیہ ۱ میں ہے یا خود متیمم کے کسی فعل سے ان اعضاء پر گرد آئی ہو جیسے دیوار گرنا ، جھاڑودینا ، غلّہ ناپنا یا مٹّی چھڑکنا یا اس پر ہاتھ مارنا ، یا غبار آلود کپڑا جھاڑنا ، ایسا کوئی فعل جس کے باعث گرد آکر اعضائے تیمم پر بیٹھ گئی جیسا کہ جزئیہ ۲ ، ۶ ، ۹ ، ۱۰ میں ہے۔ ان ساری صورتوں میں یہ ہو کہ جب گرد اعضاء پر بیٹھ گئی اس کے بعد اعضائے تیمم پر بیٹھی ہوئی گرد سے تیمم کا ارادہ کیا ، یا چھڑکنے کی صورت میں غبار نہ اڑایا بلکہ جو مٹّی چھڑکی وہ عضو پر گر کر بیٹھ گئی۔
والثانیۃ : ان تجد لہ ثخنا کثیرا حول اعضائك کأن تکون مختبیا فی رمل اویھجم غبار بھبوب ریح اواثارۃ منك بھدم وغیرہ ولوبذر مثیر فتجد غبارا ثائرا مرتفعا غیر منقطع احاط بعضویك فترید التیمم بہ قبل سکونہ کما فی الفرع الخامس ومنہ السابع والثامن۔
ففی ھاتین وان وجد الاتصال بین الصعید والعضوین لکن لیس بفعلك للتیمّم بل امّا لا فعل لك فیہ کما فی القاء الریح وارتفاع الغبار بانھدام الجدار اوکان فعلك فی تحریکہ ثم وصولہ الی عضویك بطبعہ کمافی الھدم والکنس والکیل والذر وضرب الید ونفض الثوب اووصل بفعلك لاللتیمّم کمافی صورۃ الاختباء والشرط وجود فعل ناو یقع بنفسہ امساس العضوین بالصعید۔
ففی الصورۃ الثانیۃ حیث ان للصعید ثخنا حول اعضائك یکفیك
(۲) متیمم اپنے اعضاء کے گرد صعید کی کافی دبازت پائے مثلًا ریت میں چھُپا ہوا ہو ، یا آندھی چلنے ، یا دیوار گرانے وغیرہ سے خواہ غبار انگیز چھڑکاؤ ہی کی وجہ سے غبار کی وافر مقدار ہوگئی ہے جس کے باعث اپنے اعضاء کے گرد نہ ختم ہونے والا بلند اڑتا ہوا غبار پارہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے ٹھہرنے سے پہلے اس سے تیمم کرلے۔ جیسا کہ جزئیہ۵ میں ہے۔ اسی سے متعلق جزئیہ۷ ، ۸ بھی ہے۔
ان دونوں صُورتوں میں اگرچہ صعید اور اعضاء کے درمیان اتصال پایا گیا لیکن یہ اتصال تیمم کیلئے متیمم سے ہونے والے فعل کے ذریعہ نہ ہوا بلکہ اس میں یا تو متیمم کا سرے سے کوئی فعل ہی نہیں ، جیسے اس صورت میں کہ آندھی نے اعضاء پر غبار ڈال دیا ، یا دیوار گرنے سے غبار اٹھا ، یا متیمم کا فعل تو ہوا لیکن یہ فعل صرف اتنا تھا کہ غبار کو حرکت دی ، برانگیختہ کیا ، پھر اعضاء تك غبار کا پہنچنا خود غبار کی فطرت وطبیعت کے تحت پایا گیا ، جیسے اس صورت میں کہ متیمم نے دیوار گرائی ، جھاڑو دیا ، غلّہ ناپا ، مٹّی چھڑکی ، غبار پر ہاتھ مارا ، کپڑا جھاڑا ، یا غبار متیمم کے فعل ہی سے پہنچا لیکن یہ فعل تیمم کیلئے نہ تھا جیسے اس صورت میں کہ متیمم ریت میں چھُپا ہوا تھا۔ اور شرط یہ ہے کہ بہ نیتِ تیمم ایسا فعل پایا جائے کہ خود اسی فعل سے اعضاء کو صعید سے مس کرنا متحقق ہو۔
دُوسری صورت میں چونکہ اعضائے متیمم کے گرد صعید کی دبازت موجود ہے اس لئے بہ نیتِ تیمم
تحریك عضویك بنیۃ التیمّم لانہ یقع بہ الاتصال والامساس بغیرما اتصل اولا فيحصل الفعل المقصود وھذا مافی الخلاصۃ والبحر فی الفرع الخامس۔
لکن فی الصورۃ الاولی لا تجد صعیدا وراء عضویك فمھما حرکتھما لم یحصل امساس بشیئ جدید فلا یکفی ولابد من ان تمر یدك علیہ ناویا فیقع امساس لم یکن وھذا ما فی الفتح والبحر والظھیریۃ والھندیۃ فی الفرع الاول والخلاصۃ والدرر والبزازیۃ وابن کمال وکتاب الصلاۃ فی الفرع الثانی والخانیۃ والخلاصۃ والخزانۃ والایضاح والجوھرۃ فی الفرع السادس والمحیط والھندیۃ فی الفرعین التاسع والعاشر فذھب القلق٭واسفر الفلق٭ولله الحمد وظھر(۱) بھذا التقریر المنیر٭فوائد مھمۃ نفعھا غزیر٭
منھا۱ انہ لاخلف بین اکتفاء الخلاصۃ والبحر بالتحریك واشتراط الدرر والجلۃ الغرر المسح کما توھم الفاضل(۱) الخادمی اس کا اپنے چہرے اور ہاتھوں کو حرکت دے لینا ہی کافی ہے کیونکہ پہلے جس سے اتصال تھا اس کے علاوہ فعل (فعل تحریک) کی وجہ سے صعید سے اتصال اور مس کرنا پالیا جاتا ہے تو فعل مقصود کا حصول ہوجاتا ہے۔ یہی صورت جزئیہ ۵ کے تحت خلاصہ اور بحر میں ہے۔
لیکن پہلی صورت میں چونکہ اعضائے متیمم کے گرد صعید موجود نہیں ہے اس لئے اگر وہ چہرے اور ہاتھوں کو حرکت دے تو کسی نئی چیز سے مس کرنا حاصل نہ ہوگا اس لئے یہاں تحریك اعضاء تیمم کیلئے کفایت نہیں کرسکتی۔ ضروری ہے کہ بہ نیتِ تیمم صعید پر ہاتھ پھیرے کہ اعضاء کو صعید سے مس کرنے کا عمل حاصل ہو جو پہلے حاصل نہ تھا۔ یہی صورت جزئیہ ۱ کے تحت فتح القدیر ، بحرالرائق ، ظہیریہ اور ہندیہ میں ہے ، اور جزئیہ۲ کے تحت خلاصہ ، درر ، بزازیہ ، ابنِ کمال اور کتاب الصّلاۃ میں ہے جزئیہ۶ کے تحت خانیہ ، خلاصہ ، خزانہ ، ایضاح اور جوہرہ میں ہے۔ اور جزئیہ ۹ ، ۱۰ کے تحت محیط اور ہندیہ میں ہے۔ اس تفصیل وتحقیق سے اضطراب دُور ہوگیا ، اور صبح کا جمال روشن ہوگیا ولله الحمد۔ اور اس تقریر منیر سے چند اہم فوائد بھی ظاہر ہوئے جو بہت نفع بخش ہیں ، کچھ فوائد کا بیان درج ذیل ہے :
ف۱ : خلاصہ اور بحر نے صرف تحریك اعضاء کے ذکر پر اکتفاء کیا مگر درر اور دیگر کتبِ معتمدہ نے مسح کی شرط لگائی دونوں میں کوئی اختلاف وتعارض نہیں جیسا کہ فاضل خادمی کو وہم ہوا۔ اس لئے۔
فالاول فی الغبار المرتفع والثانی فی المنقطع۔
ومنھا۲ ان لیس المسح فی مسألۃ الدرر فی الفرع الثانی بمعنی یشمل التحریك کمازعم(۱) ایضا فان التحریك لایکفی فیہ بل لابدمن امرار الید۔
ومنھا۳ ان لا تھافت بین کلام الخلاصۃ فی الفرع الخامس وکلامہ فی الثانی والسادس لعین مامر فی الدرر۔
ومنھا۴ مثلہ للبحر فی الخامس والاول۔
ومنھا۵ ان الذرفی الفرع السادس مالا یثیر نقعا وترید التیمم بعد ماوقع وسکن فلذا شرطوا المسح وفی الفرع السابع مایثیر وترید التیمم وھو مرتفع فاکتفی البزازی بتحریك المحل لما علمت ان التحریك لاینفع بعد السکون۔
ومنھا۶ ان القیام فی مھب الریح
اوّل اس صورت میں ہے جب اعضاء کے گرد اٹھتا ہوا غبا رموجود ہو ، اور ثانی اس صورت میں ہے جب غبار منقطع ہوچکا ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع