30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فاقول : اس اعتراض کی بنیاد پر تو رکنیت مسح جس کو خود بحر نے بھی حق مانا ہے مسترد ہوجائے گی۔ مسح بھی رکنِ تیمم قرار نہ پاسکے گا۔
لکنی اقول : وبربی استعین (لیکن میں کہتا ہوں اور اپنے رب ہی سے مدد چاہتا ہوں) ایک شیئ کو دوسری شیئ سے مسح کرنے کا معنی یہ ہے کہ ایک کو دوسری پر گزار دیا جائے اور اسے اس سے مس کیا جائے۔ طبرانی نے معجم صغیر میں بروایت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کیا ہے : “ زمین سے مسح کرو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ نیک سلوک کرنیوالی ہے “ ۔ تیسیر میں فرمایا : اس طرح کہ زمین پر بغیر کسی حائل کے نماز ادا کرتے ہوئے اس سے اپنی جلد کو مس کرو ، اور کہا گیا کہ اس حدیث میں مسحِ زمین سے مراد تیمم ہے“۔ اھ نہایہ ، دُرنثیر اور مجمع البحار میں ہے : “ اس سے مراد تیمم ہے۔ اور کہا گیا کہ بغیر کسی حائل کے سجدہ کرتے ہوئے پیشانیوں سے زمین کی مٹی کو استعمال کرنا اور جلد کو اس سے مس کرنا مراد ہے او ریہ امر مندوب ہے واجب نہیں “ ۔ اھ
اقول : سیاقِ کلام اور تعلیل سے یہی آخری معنی ظاہر ہوتا ہے اس لئے یہی مراد لینا بہتر ہے جیسا کہ تیسیر میں کیا ہے۔ نہایہ ابن اثیر اور تلخیص نہایہ للسیوطی اور مجمع البحار میں ہے : “ مسحھم کا معنی ہے
مراخفیفا لم یقم فیہ عندھم[1] اھ
وفی الاخیر حدیث یمسح مناکبنا ای یضع یدہ علیھا لیسویھا [2] اھ ای عند اقامۃ الصفوف وفی القاموس تماسحا تبایعا فتصافقا[3] اھ
وفی التاج ماسحہ صافحہ والتقوا فتماسحوا تصافحوا [4] اھ وقال المجد ھو یتمسح بہ ای یتبرك بہ لفضلہ [5] فقال التاج کأنہ یتقرب الی الله تعالٰی بالدنومنہ ویتمسح بثوبہ ای یمرثوبہ علی الابدان فیتقرب بہ الی الله تعالی قیل وبہ سمی المسیح عیسٰی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام قالہ الازھری[6] اھ
ان کے پاس سے ایسی سبك روی سے گزر گیا کہ ان کے پاس ٹھہرا نہیں “ ۔ مجمع البحار میں ہے : “ حدیث میں ہے یمسح مناکبنا ، یعنی (صفیں سیدھی کرتے وقت) سرکار ہمارے کاندھوں کو برابر کرنے کیلئے ان پر اپنا ہاتھ رکھتے “ ۔ قاموس میں ہے : “ تماسحا تبایعا فتصافقا اھ (تماسحا کا معنی یہ ہے کہ باھم خریدوفروخت کرکے ایك نے دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا) تاج العروس میں ہے : “ ماسحہ کا معنی ہے اس سے مصافحہ کیا التقوا فتماسحوا یعنی باہم ملے تو ایك دوسرے سے مصافحہ کیا “ اھ۔ قاموس میں مجدالدین نے لکھا : “ ھویتمسح بہ ای یتبرك بہ لفضلہ “ (وہ اس سے مسح کرتا ہے یعنی اس کی فضیلت کی وجہ سے اس سے برکت حاصل کرتا ہے “ ۔ اس پر تاج العروس میں کہا : “ گویا وہ اس کے قُرب کے ذریعہ خدا کی نزدیکی حاصل کررہا ہے۔ اور یتمسح بثوبہ کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کے کپڑے کو اپنے بدن پر گزار کر اس سے خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس وجہ سے حضرت عیسٰی علی نبینا وعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو مسیح کہا گیا۔ یہ ازہری نے کہا ہے “ ۔ اھ
اقول : (۱) فقول المجد المسح امرار الید علی الشیئ السائل[7] لیس السیلان لازمہ ولذا لم یزدہ الراغب فی مفرداتہ وھذا ربنا تبارك وتعالٰی یقول فی الصعید فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ-[8] ولا الید(۲) قیدا فیہ لحدیث تمسحوا عــہ بالارض فی وضع الجباہ علیھا بلاحائل ولاالامرار بمعنی التحریك علیہ لحدیث یمسح مناکبنا وقدنص ائمتنا ان ضرب الکفین بل ووضعھما علی الارض ناویا یطھرھما فلایمسحھما بعد وسیأتیك بعض نصوصہ ان شاء الله تعالٰی وانما امر المولی سبحنہ وتعالٰی
اقول : ان تصریحات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ مجدالدین نے قاموس میں مسح کے معنٰی میں سیال چیز پر ہاتھ گزارنا جو لکھا ہے اس میں (شیئ کے ساتھ سیال کی قید نہ ہونا چاہئے کیونکہ) سیلان اس مفہوم کیلئے لازم شیئ نہیں۔ اسی لئے مفردات میں امام راغب نے اس قید کا اضافہ نہ کیا۔ قرآن مجید میں باری تعالٰی کاارشاد ہے : فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ- (اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کو مسح کرو) اس میں ہاتھ مفہوم مسح کی قید نہیں ، کیوں کہ حدیث میں زمین پر بغیر حائل کے پیشانی رکھنے کیلئے بھی لفظ مسح وارد ہے جیسا کہ گزرا تمسحوا بالارض۔ اسی طرح ہاتھ پھیرنا یعنی عضو پر اسے حرکت دینا اور گزارنا یہ بھی مفہوم مسح کی قید نہیں کیونکہ حدیث میں وارد ہے یمسح مناکبنا۔ جبکہ یہاں کاندھوں پر صرف ہاتھ رکھنا ہوتا تھا (جیسا کہ مجمع البحار کے حوالے سے بیان ہوا) اس کا دوسرا ثبوت یہ بھی ہے کہ ہمارے ائمہ کرام نے تصریح فرمائی کہ اگر تیمم کی نیت سے دونوں
عــہ وفی النھایۃ والدر النثیر ومجع البحار تحت حدیث حماد المعتدۃ فی الجاھلیۃ تاخذ طائرا فتمسح بہ فرجھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
نہایہ ، دُرِنثیر اور مجمع البحار میں حدیثِ حماد کے تحت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں معتدہ عورت پرندہ پکڑتی تو اسے اپنی شرمگاہ پر لگاتی ۱۲ منہ غفرلہ غفرلہ (ت)
بالمسح فلولا ان امساسھما بالارض مسحھما بھا لمااغنی۔
اذا علمت ھذافاعلم(۱) ان ھھنا صورتین تعود اربعا وذلك لانك حین ترید التیمم اما ان تجد الصعید متصلا باعضائك اومنفصلا عنھا علی الثانی لك وجھان احدھما ان تمسہ کفیك فتمسح بھما عضویك وذلك ھو المعھود المعروف والوارد فی الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ والاٰخر عط امرارك عضویك علی الصعید أما مسحا من فوقہ کما فی الفرع الھادی عشر للاشل وفی الثالث للصحیح وھی واقعۃ سیدنا عمّار بن یاسر رضی الله تعالٰی ولم ینکر علیہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بمعنی انہ لم ینف طھورہ بہ وان ارشد الی ماکان یکفی الغاء للزائد علی الحاجۃ واما ادخالا فی
_________ کفِ دست کو زمین پر مارا بلکہ اس نیت سے دونوں کو زمین پر صرف رکھ دیا تو دونوں پاك ہوگئیں بعد میں دونوں ہتھیلیوں کا مسح نہیں کرے گا۔ اس سلسلہ میں کچھ نصوص ان شاء الله تعالٰی عنقریب آئیں گے حالانکہ مولائے کریم سبحانہ وتعالٰی نے “ مسح “ کا حکم دیا ہے اگر زمین سے دونوں ہتھیلیوں کو مَس کرنا ہی ان دونوں کا مسح نہ ہوتا تو بعد میں الگ سے ان کا مسح ضروری ہوتا۔ اور پہلی بار دونوں کا زمین پر مَس کرنا ان دونوں کے مسح سے بے نیاز نہ کرتا۔
یہ سب واضح ہوجانے کے بعد یہ جاننا چاہئے کہ یہاں دو۲ صورتیں ہیں جو چار ہوجاتی ہیں۔ اس لئے کہ جب تیمم کا ارادہ ہو متیمم اس وقت صعید کو یا تو اپنے اعضائے تیمم سے متصل(۱) پائے گا یا منفصل(۲)۔ برتقدیر ثانی دو۲ صورتیں ہیں (۱) صعید سے ہتھیلیاں مس کرکے ہتھیلیوں کو اعضا پر پھیرلے۔ یہی صورت معہود ومعروف اور قولی وفعلی احادیث میں مذکور ہے۔ (۲) ا۔ اعضائے تیمم کو صعید پر گزارے۔ خواہ اس طرح کہ صعید کے اوپر اعضاء کو پھیرے جیسے جزئیہ ۱۱ میں اعضاء شل ہوجانے والے شخص کیلئے بیان ہوا اور جزئیہ ۳ میں تندرست کیلئے ذکر ہوا۔ یہی سیدنا عماربن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا واقعہ بھی ہے جس پر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انکار نہ فرمایا یعنی ان کی طہارت کی نفی نہ فرمائی ، اگرچہ قدر حاجت سے زائد کو لغو بنانے کیلئے قدر کافی کی ہدایت ورہنمائی فرمائی ، خواہ اس طرح کہ اعضائے تیمم کو صعید کے اندر
[1] النہایۃ لابن اثیر باب المیم مع السین المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۴ / ۳۲۷
[2] مجمع البحار لفظ مسح نولکشور لکھنؤ ۳ / ۲۹۸
[3] القاموس باب الحاء فصل المیم مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۸
[4] تاج العروس فصل المیم من باب الحاء احیاء التراث العربی مصر ۲ / ۲۲۶
[5] القاموس المحیط باب الحاء فصل المیم مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۸
[6] تاج العروس فصل المیم من باب الحاء احیاء التراث العربی مصر ۲ / ۲۲۶
[7] القاموس المحیط باب الحاء فصل المیم مصطفی البابی مصر $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع