دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اولا :  کما (۲) اقول قد حقق المحقق ان حقیقۃ التیمّم ھو المسح وان الضرب علی الارض لیس منھا فی شیئ فلا وجہ للتعمیم فی الضرب الرکن بل انما یقال ان المراد بالضربتین ھما المسحتان وحینئذ لایلائمہ قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ثم قول صاحب المذھب ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین اذلو ارید ھذا لقیل ضربۃ علی الوجہ واخری علی الیدین۔

وہ قول اول (رکنیت) کے احوط اور صحیح ہونے کے تصریح کرچکے ہیں۔

رابعا :  رکنیت ضربین پر ہمارے ائمہ کا اجماع بدائع کے حوالہ سے بیان ہوا مگر اس کے باوجود خود ہی کتاب الصلاۃ میں جزئیہ دوم کی تصریح بھی کررہے ہیں۔ یہ بات فیصلہ کن اور قاطع نزاع ہے (اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جزئیات صرف عدم رکنیت ماننے والوں کے قول پر مبنی نہیں بلکہ متفق علیہ ہیں)

بحث۶ : اب رہی امام محقق کی دوسری تاویل جو حدیث اور مذکورہ جزئیات میں مشترک ہے کہ ضرب سے مراد ضرب علی الارض یا ضرب علی العضو سے اعم ہے۔ تو اس پر چند اعتراضات ہیں :

اولا : اقول : حضرت محقق خود تحقیق فرماچکے ہیں کہ تیمم کی حقیقت بس مسح ہے۔ اور ضرب علی الارض کا حقیقتِ تیمم میں کوئی دخل نہیں ۔ تو وہ ضرب جو تیمم کا رکن اور اس کی حقیقت میں داخل قرار دی گئی ہے اس کی تعمیم کرکے ضرب علی الارض کو بھی اس کے تحت لانے اور حقیقت تیمم میں داخل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ دونوں ضربوں سے مراد دونوں کا مسح (چہرے کا مسح اور ہاتھوں کا مسح) ہے۔ اور اس صورت میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد پھر صاحب مذہب کا قول : ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین (ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب ہاتھوں کیلئے) تاویل مذکور کے مطابق نہ ہوگا اور موافق بھی نہ ہوگا کیونکہ

وثانیًا :  کما اقول : (۱) ایضا علی ھذا یرتفع الخلاف وتذھب ثمراتہ المذکورۃ عن اٰخرھا والقوم ومنھم المحقق نفسہ علی اثباتھا۔

وثالثًا :  کما قال البحر انہ لایمشی فی فرعی الخلاصۃ اذلا ضرب فيھا علی الارض ولاعلی العضو[1]  اقول لکن(۲) مرجعہ الی مؤاخذۃ علی اللفظ فلوقال المحقق ان المراد بالضربتین المسحتان لم یرد انہ لاضرب ھھنا اصلا۔

ورابعا :   کما ابدی البحر ایضا ان لیس ثمہ مسح ایضا وبہ اخذ الخادمی علی الدرر بل(۳) وعلی جلۃ العمائد الغرر کالظھیریۃ والخانیۃ والخلاصۃ وخزانۃ المفتین والجوھرۃ والایضاح والفتح والبحر وابن کمال حتی کتاب الصلاۃ لصاحب صاحب المذھب اذصرحوا جمیعا              

اگر اس سے مراد ہوتا تو یوں ارشاد ہوتا ضربۃ علی الوجہ واخری علی الیدین (ایک ضرب چہرے پر اور ایک ضرب ہاتھ پر)

ثانیًا : اقول : اس تاویل کی بنیاد پر ضرب کی رکنیت وعدم رکنیت کا اختلاف ہی اٹھ جائیگا اور اس کے تمام مذکورہ ثمرات بھی باقی نہ رہیں گے حالانکہ علماء جن میں خود حضرت محقق بھی ہیں اس اختلاف اور ثمرات کو ثابت مانتے ہیں۔

ثالثًا : البحرالرائق کا اعتراض کہ یہ تاویل خلاصہ میں مذکور ان دو۲ جزئیوں میں جاری نہیں ہوسکتی (جن میں غبار کی جگہ اعضائے تیمم کو داخل کرکے بہ نیت تیمم حرکت دے لینے کو کافی قرار دیا ہے) کیوں کہ ان میں نہ زمین پر ضرب ہے نہ عضو پر۔ اقول : مگر اس اعتراض کا مآل صرف لفظ پر گرفت ہے اگر حضرت محقق نے فرمایا ہوتا کہ دونوں ضرب سے مراد دونوں مسح ہے تو یہ اعتراض وارد نہ ہوتا کہ یہاں سے تو سرے سے ضرب ہی نہیں۔

رابعًا : بحر ہی نے یہ اعتراض بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں (موضع غبار میں تحریک اعضا والی صورت میں) مسح بھی تو نہیں۔ اسی بنیاد پر محشی درر خادمی نے درر پر بلالکہ اکثر کتب معتمدہ جیسے ظہیریہ ، خانیہ ، خلاصہ ، خزانۃ المفتین ، جوہرہ ، ایضاح ، فتح القدیر ، البحرالرائق اور ابن کمال یہاں تک کہ صاحب مذہب کے شاگرد کی کتاب الصلٰوۃ پر بھی گرفت کی ہے۔ اس لئے کہ جیسا کہ گزر چکا ان تمام حضرات نے تصریح

کماتقدم بانہ اصاب الغبار وجہہ و ذراعیہ لایجوز مالم یمسح بنیۃ التیمّم[2]  فقال فيہ مافيہ لماعرفت انفا من الخلاصۃ والبحر (ای من کفایۃ تحریک الاعضاء قال) الا ان یقال المراد من المسح اعم مما ھو حقیقۃ اوحکما فیشمل نحو تحریک الرأس [3]  اھ۔

واقول : اولا(۱) ذھب عنہ ان الخلاصۃ والبحر ایضا من المصرحین بانہ ان لم یمسح لم یجز کماقدمنا عنھما فی الفرعین الاولین والسادس۔

وثانیا : (۲) لونظر الی ماصرحوا فیہ بعدم الاجزاء الا بالمسح والخلاصۃ والبحر باجزاء التحریک لعرف الفرق وعلم ان لااخذ علی الدرر والجلۃ الغرر کماسینکشف لک سر ذلک ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

وثالثا :   نعود الی البحر                           

فرمائی ہے کہ “ اگر صرف اتنا ہوا کہ چہرے اور ہاتھوں پر غبار پہنچ گیا تو تیمم نہ ہوگا جب تک کہ بہ نیت تیمم اس پر ہاتھ نہ پھیرے “ ۔ خادمی نے کہا : “ فیہ مافیہ اس میں وہ خامی ہے جو اس میں ہے کیونکہ ابھی خلاصہ اور بحر کے حوالہ سے معلوم ہوا (کہ تحریکِ اعضا بھی کافی ہے) مگر یہ کہا جائے کہ مسح سے مراد وہ ہے جو حقیقۃً اور حکمًا دونوں مسح سے اعم ہے۔ اس طور پر لفظ مسح تحریک سر وغیرہ والی صورت کو بھی شامل ہوجائیگا “ ۔ اھ۔

اقول : اولا خادمی کو یہ خیال نہ رہا کہ خلاصہ اور بحر میں بھی یہ تصریح موجود ہے کہ اگر ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا جیسا کہ جزئیہ ۱ ، ۲ ، ۶ میں ان سے ہم نے نقل کیا ہے۔

ثانیا جس صورت میں حضرات علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ہاتھ پھیرے بغیر تیمم نہ ہوگا اور جس صورت میں خلاصہ اور بحر نے تحریکِ اعضاء کو کافی قرار دیا ہے دونوں میں اگر فاضل خادمی نے غور کیا ہوتا تو فرق واضح ہوجاتا اور انہیں معلوم ہوتا کہ درر اور کتب معتمدہ پر مؤاخذہ کی گنجائش نہیں جیسا عنقریب اِنْ شَآءَاللہ اس کی حقیقت واضح ہوگی۔

ثالثا :  اب ہم بحر کی طرف رجوع کرتے ہیں

فاقول :  علی(۱) ھذا یندفع مااعترف بہ البحر ایضا انہ الحق وھو رکنیۃ المسح۔

لکنی اقول : (۲) وبربی استعین انما مسح شیئ بشیئ امرار ھذا علیہ وامساسہ بہ روی الطبرانی فی الصغیر عن سلمان الفارسی رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم تمسحوا بالارض فانھا بکم برۃ [4]

قال فی التیسیر بان تباشروھا بالصلاۃ بلاحائل وقیل اراد التیمم [5]  اھ وقال فی النھایۃ والدر النثیر ومجمع البحار ارادبہ التیمم وقیل اراد مباشرۃ ترابھا بالجباہ فی السجود من غیر حائل والامر ندب لاایجاب [6]  اھ۔

اقول :  (۳)وھو ظاھر السوق والتعلیل فکان ھو الاولی کما فعل فی التیسیر وفی ابن اثیر وتلخیصہ للسیوطی والمجمع مسحھم مربھم

 



[1]   بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۴۵

[2]   خلاصۃ الفتاوٰی نوع فيما یجوزبہ التیمم  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶

[3]   درر شرح الغرر لابی سعید خادمی  باب التیمم مطبع عثمانیہ بیروت  ۱ / ۲۸

[4]   المعجم الصغیر باب من اسمہ حملۃ  دار الکتب العلمیۃ بیروت  ۱ / ۱۴۸

[5]   التیسیر جامع صغیر  حرف التاء مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیۃ  ۱ / ۴۵۶ ، مجمع بحار الانوار  تحت لفظ مسح منشی نولکشور لکھنؤ ۳ / ۲۹۶

[6]   النہایۃ لابن اثیر  باب المیم والسین  المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۴ / ۳۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن