دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

(کہ کسی بدنی عمل کے سارے اجزاء وارکان عمرو ادا کرے اور وہ زید کا عمل ہوجائے؟ یا ایک ہی فریضہ بدنیہ کا ایک جزء زید ادا کرے اور دوسرا جز عمرو بجالائے ، پھر دونوں مل کر سب زید کے حصّہ میں آجائے اور اس کے سر سے فرض اُتر جائے؟ ۱۲ محمد احمد اصلاحی) یہ سب نامعقول اور ناقابل قبول ہے۔

بحث۳ : حضرت محقق نے جو افادہ فرمایا کہ ماموربہ صرف مسح ہے ، اس کی تحقیق یہ ہے کہ قرآن حکیم نے تو یہی حکم دیا ہے کہ پاکیزہ صعید کا قصد کرکے اس سے مسح کرو ، یہ کام ضرب پر موقوف نہیں ، ضرب کا اس کی حقیقت میں داخل ہونا درکنار۔ اس لئے کہ مثلًا جس کے چہرے اور ہاتھوں پر آندھی سے گرد پڑ گئی اس سے یہ ہوسکتا ہے کہ اسی گرد سے مسح کا قصد کرکے اس پر اپنا ہاتھ پھیرلے اسے زمین پر ضرب کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں جس کے اعضاء پر گردنہ ہو اسے کسی زمین یا دیوار سے مٹی کے قصد کی ضرورت ہے اور یہ بات رکنیت کیا ، شرط کی بھی مقتضی نہیں۔ کیونکہ تیمم میں صعید پر

کمثل الاغتراف من الاناء فی الوضوء فمن وقف فی المطر اغناہ عن الاغتراف نعم اذالم یجدہ الاباخذ وصب احتاج الیہ ولیس لاحد ان یقول ان الاغتراف من ارکان الوضوء اومن شرائطہ۔  وھذا شیئ واضح جدا لاینبغی الارتیاب فیہ فلایحمل کلام الشارع صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولاکلام صاحب المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ علی خلافہ۔

الرابع :  اتینا علی التاویل فاولہ ان الکلام انما جاء علی الغالب المعھود فان من النادر جدا وجد ان الغبار علی العضوین وکذا لم یعہد فی صفۃ التیمم ادخال الراس فی موضع الغبار اوالوقوف فی مثارہ وتحریک العضوین وانما المعروف المعھود ھو طریقۃ الضرب وبھا وردت الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ ولما تمعک عمار رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال لہ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان کان یکفیک ان تضرب بیدیک ثم تنفخ ثم تمسح بھا وجھک وکفیک[1] رواہ الستۃ۔        

ضرب کی حیثیت و ہی ہے جو وضو میں برتن میں چُلّو کے ذریعہ پانی لینے کی ہے ، جو بارش میں کھڑا ہو اسے چُلّو لینے کی کوئی ضرورت نہیں بارش ہی کافی ہے۔ ہاں جب ہاتھ سے پانی لئے اور بہائے بغیر وضو نہ ہوپائے تو اس کی ضرورت ہوگی۔ اور یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چُلّو سے پانی لینا وضو کے ارکان یا شرائط میں داخل ہے۔ یہ چیز بالکل واضح اور روشن ہے جس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ تو اس کے خلاف کسی بات پر نہ شارع عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کے کلام کو محمول کیا جاسکتا ہے نہ صاحبِ مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کلام کو۔

بحث۴ : اب ہم (کلام شارع اور کلام صاحب مذہب کی) تاویل پر آئے تو پہلی بات یہ ہے کہ یہ اکثری اور معروف حالت کے لحاظ سے ہے ، اس لئے کہ چہرے اور ہاتھوں پر پڑی ہُوئی گرد ملنا بہت ہی نادر ہے یوں ہی غبار کی جگہ سر داخل کرنا ، یا گرد اُڑنے کی جگہ کھڑا ہونا اور اعضائے تیمم کو حرکت دینا صفتِ تیمم میں معہود ومعروف نہیں۔ معروف ومعہود وہی ضرب کا طریقہ ہے اسی سے متعلق قولی اور فعلی حدیثیں وارد ہیں۔ جب حضرت عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تیمم کیلئے زمین پر لوٹ پوٹ کیا تھا تو ان سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ تمہارے لئے یہ کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں سے زمین پر مارتے پھر پھونک دیتے ، پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلیتے “ ۔ یہ حدیث صحاح ستّہ میں آئی ہے۔

اقول :  (۱)لکن یرد علیہ ماقدمنا عن ملک العلماء من اجماع ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم علی رکنیۃ الضربتین وبہ یصعب الامر علی القول الثانی فاذن یفزع الی تاویل المحقق الثانی وسیأتی الکلام علیہ۔

الخامس :  کما سلک المحقق بالحدیث مسلکین ذھب ایضا بتلک الفروع الاٰتیۃ علی خلاف القول الاول مذھبین ولم یتأت فیھا المسلک الاول ان الکلام علی الغالب فان الرکنیۃ توجب اللزوم فجعل المسلک الاوّل فیھا قصرھا علی القول الثانی ای فتکون تلک الفروع ایضا من ثمرات الخلاف وبہ جزم البحر وتبعہ ش۔

اقول : لیکن اس پر اُس سے اعتراض وارد ہوگا جو ہم نے ملک العلماء سے (تعریف سادس کے بعد) نقل کیا کہ رکنیتِ ضربین پر ہمارے تینوں ائمہ کا اجماع ہے اسی سے دوسرے قول (عدم رکنیت ضرب) پر بھی معاملہ دشوار ہوگا۔ تو اس وقت حضرت محقق کی تاویل ثانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور اس پر کلام عنقریب آنے والا ہے۔

بحث ۵ : حضرت محقق نے حدیث کی تاویل میں دو۲ طریقے اختیار کئے ہیں (ایک یہ کہ چوں کہ تیمم اکثر ضربوں ہی کے ذریعہ ہوتا ہے اس لئے یہ احادیث یہاں غالب واکثر کے طور پر آئی ہیں ، دوسرا یہ کہ ضرب اس سے عام ہے کہ زمین پر ہو یا عضو پر بطور مسح ہو ۱۲ فتح ۱ / ۱۱۱) اسی طرح وہ جزئیات جو قول اول (رکنیتِ ضربین) کے برخلاف آئے ہیں ان میں تاویل کے دو۲ طریقے اختیار کئے ہیں (پہلا طریقہ یہ کہ جزئیات صرف ان حضرات کے قول پر ہیں جو ضرب کی عدمِ رکنیت کے قائل ہیں ، دوسرا یہ کہ لفظ ضرب سے زمین پر ضرب اور عضو پر مسح دونوں سے اعم معنی مراد ہے) حدیث میں ایک طریقہ تاویل یہ اختیار کیا تھا کہ یہ بلحاظ غالب واکثر ہے وہ تاویل یہاں نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ جب ضربوں کو رکنِ تیمم مان لیا گیا تو تیمم کیلئے ضرب کا وجود تو لازم ہوگیا کہ رکن کے بغیر شیئ کا ثبوت وتحقق ممکن ہی نہیں۔ اس لئے یہاں پہلا طریقہ تاویل یہ رکھا کہ یہ جزئیات صرف ان لوگوں کے قول پر ہیں جو ضرب کی عدمِ رکنیت کے قائل ہیں تو یہ

اقول :  فیہ اولًا مااشرت الیہ ان الفروع سیقت فی الکتب جمیعا مساق المتفق علیہ لم یؤم احد الی خلاف فیہا۔

ثانیا :  (۱) لوکانت مبنیۃ علی القول الثانی لکانت مخالفۃ لاجماع ائمتنا فکیف یسوغ المیل الیھا فضلا عن الجزم بھا من دون اشارۃ اصلا الی خلاف فیھا۔

ثالثا : (۲)اکثرتلک الفروع فی الخلاصۃ ومصنفھا الامام طاھر قدصحح القول الاول فکیف یمشی فيھا طرا علی خلاف ماھو الصحیح عندہ بل قد افاد انھا متفق علیھا کماھو قضیۃ صنیعھم جمیعا ولذا جزم بھا الدرمع تصریحہ

جزئیات بھی اختلاف مذہبین (رکنیت ضرب وعدم رکنیت) کا ثمرہ ہوں گی (جن کے نزدیک ضرب رکنِ تیمم نہیں ان کے یہاں جواز تیمم کی وہ صورتیں اور وہ جزئیات ہوں گے اور جن کے یہاں ضرب رکنِ تیمم ہے ان کے نزدیک ان صورتوں میں تیمم نہ ہوگا) اسی تاویل پر بحر نے جزم کیا ہے اور علامہ شامی نے بھی ان کا اتباع کیا ہے۔ (ت)

اقول : یہ تاویل درست مان لینے میں چند اعتراضات لازم آئیں گے اولًا وہ جس کی طرف میں نے پہلے اشارہ کیا کہ یہ جزئیات تمام کتابوں میں اس طرح بیان کیے گئے ہیں کہ کسی نے اختلاف کی طرف کوئی اشارہ بھی نہ کیا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام حضرات کے نزدیک متفق علیہ ہیں اور یہ صرف بعض کے قول پر نہیں۔

ثانیا : اگر یہ جزئیات قول ثانی (عدم رکنیت ضربین) کی بنیاد پر ہوتے تو ہمارے ائمہ کے اجماع کے خلاف ہوتے۔ پھر ان کی جانب میلان کیونکر روا ہوتا۔ اور ان سے متعلق کسی اختلاف کا کوئی اشارہ کیے بغیر ان پر جزم کرلینا تو بدرجہ اولٰی ناروا ہوتا۔

ثالثا :  ان جزئیات میں سے زیادہ تر خلاصۃ الفتاوٰی میں مذکور ہیں اور خلاصہ کے مصنّف امام طاہر قولِ اوّل (رکنیتِ ضربین) کو صحیح قرار دے چکے ہیں۔ پھر ان تمام جزئیات میں وہ اپنے صحیح مذہب کے خلاف کیسے چلیں گے؟ بلکہ انہوں نے تو یہ بھی افادہ کیا کہ یہ جزئیات متفق علیہ ہیں جیسا کہ دوسرے تمام حضرات کے طرزِ عمل کا بھی یہی مقتضی ہے اسی لئے درمختار میں ان جزئیات پر جزم کیا حالانکہ

باحوطیۃ القول الاول وتصحیحہ۔

رابعا :   (۱) تقدم عن البدائع اجماع ائمتنا علی رکنیۃ الضربتین وھم المصرحون فی کتاب الصلوۃ بالفرع الثانی وھذا یقطع النزاع۔

السادس :   اما مسلکہ الثانی المشترک فيہ الحدیث وتلک الفروع ان المراد بالضربتین اعم من الضرب علی الارض وعلی العضو ففیہ۔

 



[1]   سنن ابی داؤد  باب التیمم  مجتبائی لاہور ۱ / ۴۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن