دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

فیہ اولاان الحاکم لم یثن علیہ بل سکت عن تصحیحہ وعن تصحیح اسنادہ قال المحقق فی الفتح تبعا للامام الزیلعی المخرج سکت عنہ الحاکم وقال لااعلم احدا اسندہ عن عبیداللّٰہ غیر علی بن ظبیان وھو صدوق[1]  اھ

اقول :  (۱) الثناء علی(۲)  الراوی لیس ثناء علی(۳) الروایۃ وکونہ صادقا فی نفسہ لاینافی کونہ ضعیفا فی حدیثہ کیف(۴) وقد تظافرت کلمات                           

رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے (اس کے بعد وہ الفاظ حدیث ہیں جو پہلے ہم نے تعریف ششم کے بعد ہی ذکر کیے ہیں فرمایا)

اسے حاکم نے روایت کیا اور اس کی ستائش کی۔ اور ان ہی میں سے وہ بھی ہے جو حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے ، فرمایا : جب رخصت نازل ہوئی میں لوگوں کے درمیان موجود تھا ، سرکار نے ہمیں دو۲ ضربوں کاحکم دیا ایک چہرے کیلئے ، پھر دوسری ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کیلئے۔ بزار نے اس حدیث کی بسندِ حسن تخریج کی اھ “ اس عبارت میں حلیہ پر چند کلام ہیں :

اوّلا :  حاکم نے اس کی ستائش نہ کی ، اس کی تصحیح سے بلالکہ اس کی اسناد کی تصحیح سے بھی سکوت اختیار کیا۔ نصب الرایہ میں اس کی تخریج فرمانے والے امام زیلعی کی تبعیت میں محقق علی الاطلاق نے بھی فتح القدیر میں فرمایا : “ حاکم نے اس سے سکوت اختیار کیا اور فرمایا کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے اس حدیث کو عبیداللہ سے مُسند روایت کیا ہو ، سوائے علی بن ظَبیان کے ، اور یہ صَدُوق (راست گو) ہیں اھ “ ۔

اقول : راوی کی تعریف وستائش ، روایت کی تعریف وستائش نہیں۔ اور راوی کا فی نفسہٖ صادق ہونا ، حدیث میں اس کے ضعیف ہونے کے منافی نہیں۔ پھر راوی مذکور حدیث میں ضعیف کیسے نہ ہوں؟ جبکہ

ائمۃ الشان علی تضعیفہ بل قال ابوحاتم ثم النسائی متروک بل بالغ ابن معین فيما روی عنہ فقال کذاب واغتربہ المناوی فی التیسیر فقال فيہ کذاب۔

اقول : (۱) ولیس کذلک بل الرجل خیر دین فقیہ ضعیف عند المحدثین فی الحدیث لاجرم ان قال فی التقریب[2] ضعیف۔

وثانیا :  (۲) العجب استنادہ الی ھذا وترکہ حدیث جابر الصحیح الاسناد وتواردہ علیہ الامام السیوطی فی الجامع الصغیر۔

وثالثا :  حدیث (۳) عمار رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انما فیہ الامر بضربتین ولیس کل یؤمربہ رکنا وابعد منہ حدیث البزار عن امّ المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فلفظہ علی ضعف اسنادہ فی التیمم ضربتان [3] اھ                                     

ائمہ فن انہیں بیک زبان ضعیف کہتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ابوحاتم پھر نسائی نے تو “ متروک “ بھی کہا ہے۔ بلالکہ اس سے بھی بڑھ کر ابن معین نے۔ جیسا کہ ان سے روایت کی گئی ہے۔ کذّاب کہا جس سے دھوکا کھاکر تیسیر میں مناوی نے “ کذاب “ لکھ ڈالا۔

اقول : حالانکہ ایسا نہیں۔ آدمی پسندیدہ ، دین دار ، فقیہ ہیں۔ یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک حدیث میں ضعیف ہیں لاجرم تقریب میں کہا : ضعیف ہیں۔

ثانیا : یہ بھی عجیب بات ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے تو استناد کیا مگر حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی صحیح الاسناد حدیث کو چھوڑ دیا ، جامع صغیر میں امام سیوطی سے بھی یہی ہوا ہے۔

ثالثا : اب حضرت عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث لیجئے اس میں صرف اتنا ہے کہ “ ہمیں دو ضربوں کا حکم ہُوا۔ “ اور ایسا نہیں کہ جس چیز کا بھی حکم دیا جائے وہ رکن ہو۔ اس سے بھی زیادہ بعید نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے حضرت اُمّ المومنین صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی روایت سے مُسند بزار کی حدیث ہے۔ ایک تو اس کی سند ضعیف ہے ، دوسرے یہ کہ متن میں بس یہ ہے : “ فی التیمّم ضربتان

(تیمم میں دو۲ ضربیں ہیں) اھ

ورابعا (۱) بل لیست العبارۃ التیمّم ضربتان(۲)  صریحۃ فی الرکنیۃ وقد تقدم عن المحقق انہ خرج مخرج الغالب[4] وسیأتی تحقیقہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

اقول :  بل روی مسلم عن معٰویۃ بن الحکم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان ھذہ الصّلاۃ لایصلح فیھا شیئ من کلام الناس انما ھی التسبیح والتکبیر وقراء ۃ القراٰن [5]  ولیس التسبیح ولا التکبیر من ارکانھا وقال ملک العلماء فی البدائع صلاۃ الجنازۃ دعاء للمیت[6]  اھ ومعلوم ان لیس ارکانھا الا التکبیرات الاربع۔

الثانی : (۱) الوظائف البدنیۃ المحضۃ لاتجری فيھا النیابۃ فلایصلی احد عن احد ولایتوضؤ احد عن احد کذا لایتیمّم احد عن احد وقد جوزنا                          

رابعا : بلالکہ “ التیمّم ضربتان “ (تیمم دو ضرب ہے) یہ عبارت بھی رکنیت کے بارے میں صریح نہیں۔ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے فرمایا ہے یہ بیان غالب واکثر کے لحاظ سے وارد ہے ، عنقریب اس کی تحقیق آرہی ہے۔

اقول : بلالکہ امام مسلم نے حضرت معاویہ بن الحکم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی یہ حدیث روایت کی ہے : “ لوگوں کی بات چیت میں سے کچھ بھی اس نماز کے اندر ہونے کے لائق نہیں ، نماز تو بس تسبیح وتکبیر اور قرآن کی قرأت ہے “ ۔ حالانکہ نہ تسبیح نماز کے ارکان میں سے ہے نہ تکبیر (اسی طرح “ تیمم “ دو ضرب ہے۔ یہ بھی محمول کو موضوع کا رکن بتانے کے معاملے میں صریح نہیں) ملک العلماء نے بدائع الصنائع میں فرمایا ہے : “ نمازِ جنازہ میت کیلئے دُعا کرنا ہے “ اھ جیسا کہ معلوم ہے کہ ارکان نماز جنازہ ، چاروں تکبیروں کے سوا اور کچھ نہیں۔

بحث ۲ : جو محض بدنی اعمال ہیں ان میں نیابت نہیں چلتی۔ کوئی شخص دوسرے شخص کی طرف سے نماز نہیں پڑھ سکتا نہ کوئی دوسرے کی جانب سے وضو کرسکتا ہے ، اسی طرح ایک شخص کی طرف سے تیمم بھی نہیں کرسکتا۔ اور یہ جائز رکھا گیا ہے

ان ییمّم زیدا عمروفاذن الضربتان لاتقومان الابعمرو فلوکانتا جمیع ارکان التیمّم فقد تیمّم عمرو وطھر بہ زید ولوکانتا بعض ارکانہ فقد قام بعض التیمم بزید وبعضہ بعمرو وھل لہ نظیر فی الشرع ثم قدحصل کلہ لزید وھذا کلہ غیر معقول ولامقبول۔

الثالث :  تحقیق ماافاد المحقق بقولہ ان المأموربہ مسح لاغیر ان الکتاب العزیز انما امر بقصد الصعید الطیب فالمسح منہ وھذا لاتوقف لہ علی الضرب فضلا عن دخولہ فی فسخ حقیقتہ (۱) فان من القت الریح الغبار علی عضویہ مثلا یتأتی لہ قصدہ للمسح منہ بامراریدہ علیہ من دون حاجۃ الی الضرب علی الارض نعم من لایجدہ علی اعضائہ یحتاج الی قصدہ من ارض اوجدار وذلک لایقتضی الرکنیۃ بل ولا الشرطیۃ فانما مثل الضرب علی الصعید في التیمم

کہ زید کو عمرو تیمم کرادے۔ اس صورت میں دونوں ضربیں مارنے کا عمل صرف عمرو سے صادر ہوا۔ بلفظ اصطلاحی دونوں ضربیں صرف عمرو کے ساتھ قائم ہیں۔ اب اگر یہی دو۲ ضربیں تمام تر ارکانِ تمیم ہیں تو لازم آیا کہ عمرو نے تیمم کیا اور زید پاک ہوا۔ اور اگر یہ دونوں ضربیں ، بعض ارکانِ تیمم ہیں تو لازم آیا کہ کچھ تیمم زید کے ساتھ لگا ہوا ہے او رکچھ عمرو کے ساتھ۔ پھر یہ دونوں مل کر سارا تیمم زید ہی کا ہوگیا۔ کیا شریعت میں اس کی کوئی نظیر ہے؟



[1]   فتح القدیر  باب التیمم  سکھر ۱ / ۱۱۰

[2]   تقریب التہذیب  دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ  ص۲۴۷

[3]   کشف الاستار عن زوائد البزار  باب التیمم  مؤسسۃ الرسالۃ بیروت  ۱ / ۱۵۹

[4]   فتح القدیر  باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۱۱

[5]   الصحیح لمسلم باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ الخ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ / ۲۰۳

[6]   بدائع الصنائع  کیفیۃ صلٰوۃ الجنازۃ کراچی ۱ / ۳۱۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن