30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برادر محقق نے النہرالفائق میں اور مدقق علائی نے دُرِمختار میں ان کی پیروی کی ہے ان دونوں حضرات نے فرمایا : “ مراد یہ ہے کہ ضرب ہو یا وہ جو اس کے قائم مقام ہو “ ۔ اور درمختار کی عبارت یہ بھی ہے : “ دو ضربوں سے ، اگرچہ یہ دوسرے شخص سے صادر ہوں ، یاایسے فعل سے جو دونوں ضربوں کے قائم مقام ہو کیونکہ خلاصہ وغیرہا
لوحرک راسہ او ادخلہ فی موضع الغبار بنیۃ التیمّم جاز والشرط وجود الفعل منہ[1] اھ
اقول : (۱) والعجب ان السید ط قال فاشار الشارح بقولہ اوما یقوم مقامھما الی اختیار ماقالہ الکمال [2] اھ ثم قال علی قولہ وجود الفعل منہ اعم من ان یکون مسحا اوضربا اوغیرہ کمافی البحر [3] اھ فاین ھذا مما اختار الکمال الا ان یقال ان المراد اختیار خروج الضرب عن مسمی التیمّم وان لم یتابع المحقق علی رکنیۃ المسح بخصوصہ بل فعل مامنہ کتحریک الرأس اوادخالہ فی موضع الغبار ثم اعترض علی ھذا ایضا بقولہ وفیہ انھم اکتفوا بتیمّم الغیر لہ ولافعل منہ[4] اھ واجاب العلامۃ ش بان فعل غیرہ بامرہ
میں ہے کہ : “ اگر تیمم کی نیت سے اپنے سر کو حرکت دی یا اسے غبار کی جگہ داخل کیا تو جائز ہے اور شرط یہ ہے کہ اس سے فعل پایا جائے “ ۔ اھ
اقول : حیرت ہے کہ سید طحطاوی لکھتے ہیں کہ “ شارح نے اپنی عبارت “ اومایقوم مقامھما (یا وہ فعل جو دونوں ضربوں کے قائم مقام ہو) سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کا مختار وہ ہے جو کمال ابنِ ہمام نے فرمایا “ ۔ اھ۔ پھر شارح کی عبارت “ وجود الفعل منہ “ (اس سے فعل پایا جانا شرط ہے) کے تحت فرمایا : “ عام اس سے کہ وہ فعل مسح ہو یا ضرب ہو اور کچھ ہو جیسا کہ بحر رائق میں ہے “ ۔ اھ۔ تو یہ وہ کہاں رہا جو کمال ابن ہمام نے اختیار فرمایا! مگر یہ کہا جائے کہ مطلب یہ ہے کہ شارح نے بھی یہی اختیار کیا ہے کہ ضرب حقیقت تیمم سے خارج ہے اگرچہ انہوں نے اس سلسلہ میں محقق علی الاطلاق کی متابعت نہیں کی ہے کہ “ خاص مسح رکنِ تیمم ہے “ بلالکہ کوئی بھی فعل جو اس سے پالیا جائے جیسے سر کو حرکت دینا یا غبار کی جگہ داخل کرنا۔ پھر سید طحطاوی نے اس پر بھی یوں اعتراض کیا ہے : “ اس میں یہ خامی ہے کہ دوسرے کا اسے تیمم کرادینا بھی کافی مانا گیا ہے جب کہ خود اس کا کوئی فعل نہ پایا گیا “ اھ ۔ علامہ شامی نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس کے حکم سے دوسرے کا فعل خود اسی کے فعل کے
قائم مقام فعلہ فھو منہ فی المعنی[5] اھ وقال قبلہ ای الشرط فی ھذہ الصورۃ وجود الفعل منہ وھو المسح اوالتحریک وقد وجد فھو دلیل علی ان الضرب غیر لازم کمامر [6] اھ
اقول : (۱) ای خصوصیۃ لھذہ الصورۃ فان الفعل منہ موجود فی الضرب والمسح والتحریک والادخال جمیعا الا ان یرید بھذہ الصورۃ مااذاتیمّم بنفسہ اما لویممّہ غیرہ فلایشترط وجود الفعل منہ فح یکون ھذا مسلکا اخر فی الجواب وکان اذن حقہ ان یقول اونقول فعل غیرہ بامرہ الخ
اقول : وبقی ان یقول امرہ من فعلہ ھکذا جری القیل والقال٭ وللعبد الضعیف لطف بہ مولاہ اللطیف عدۃ ابحاث فی ھذا المقال٭ ثم تحقیق وتوفيق یزول بہ الاشکال٭ بتوفیق الملک المھیمن المتعال٭
قائم مقام ہے تو وہ معنیً اسی کا ہے “ اھ۔ اور اس سے پہلے فرمایا کہ : “ اس صورت میں “ اس سے فعل پایا جانا شرط ہے۔ وہ مسح ہے یا حرکت دینا۔ اور یہ پالیا گیا۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ضرب ضروری نہیں ، جیسا کہ گزر چکا “ اھ۔
اقول : اسی صورت کی کیا خصوصیت ہے فعل تو اس سے ضرب ، مسح ، اِدخال ، تحریک سبھی صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر یہ کہا جائے کہ اس صورت سے ان کی مراد یہ ہے کہ جب خود تیمم کرے لیکن اگر اس کو کوئی اور تمیم کرائے تو فعل اس سے پایا جانا شرط نہیں۔ تب یہ جواب کا ایک دوسرا طریقہ ہوگا اور اِس وقت انہیں یوں کہنا چاہئے تھا : اونقول فعل غیرہ بامرہ الخ (یاہم یہ کہیں کہ اس کے حکم سے دوسرے کا فعل)۔
اقول : اب بھی کہنے کی ایک بات رہ گئی ، وہ یہ کہ اس کا حکم دینا ہی اس کا فعل ہے۔ اسی طرح یہاں قیل وقال جاری ہے۔ اس مقام پر بندہ ضعیف اب ۔ لطیف اسے لطف سے نوازے۔ کی چند بحثیں ہیں پھر ایک ایسی تحقیق اور تطبیق ہے جس سے اشکال دُور ہوجاتا ہے۔ یہ سب خدائے بلالند ونگہبان کی توفیق سے ہے۔
مباحث المصنّف ابحاثِ مصنّف
فاقول : وبہ استعین۔
الاوّل احادیث کثیرۃ قولیۃ وفعلیۃ وردت بذکر الضرب فی التیمم بل ھو المعھود فی جل ماجاء فی صفتہ ولولا خشیۃ الاطالۃ لسردتھا ولا اقول کما قال(۱) فی غایۃ البیان ان الضرب لم یذکر فی الاٰیۃ ولافی سائر الاٰثار وانما جاء فی بعضھا [7] اھ اراد بہ الاخذ علی قول الامام النسفی فی المستصفی انھم انما اختارو الفظ الضرب وانکان الوضع جائزا لما ان الاٰثار جاء ت بلفظ الضرب[8] اھ
ومن تتبع الاحادیث تبین لہ صدق کلام المستصفی فالاخذ لاوجہ لہ وان اقرہ علیہ البحر فھذا فی نفس ذکر الضرب امارکنیتہ فلا اعلم فیہ حدیثین صحیحین ولاحدیثا واحدا صریحا فضلا عن احادیث فقول الحلیۃ بہ قال اکثر العلماء لاحادیث صریحۃ بہ منھا ماعن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما (فذکر ماقدمنا
فاقول : اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔
بحث۱ : بہت سی قولی وفعلی حدیثیں ہیں جن میں تیمم کے اندر ضرب کا ذکر آیا ہے بلالکہ کیفیتِ تیمم سے متعلق بیشتر احادیث میں یہی معہود ومعروف ہے اگر تطویل کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یہاں ان تمام احادیث کو ذکر کرتا ، اور میں اس طرح نہیں کہتا جیسے غایۃ البیان میں کہا ہے کہ : “ ضرب آیت میں مذکور نہیں ، اور تمام آثار میں بھی نہیں ، صرف بعض میں ہے “ اھ اس سے انہوں نے المستصفی للامام النسفی کی درج ذیل عبارت پر گرفت کرنی چاہی ہے : اگرچہ وضع یعنی صعید پر ہاتھ رکھ کر تیمم کرلینا بھی جائز ہے مگر ان حضرات کے لفظ ضرب اختیار فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ضرب آثار واحادیث میں وارد ہے “ اھ۔
جو احادیث کی چھان بین کرے گا اس پر عیاں ہوجائیگا کہ مستصفی کی عبارت بجا ہے تو اس پر گرفت بلاوجہ اور بے جا ہے اگرچہ بحر میں بھی اس گرفت کو برقرار رکھا ہے۔ یہ احادیث میں ضرب کے صرف مذکور ہونے کی بات ہوئی اب یہ بات رہی کہ کیا احادیث میں اس کا رکن تیمم ہونا بھی مذکور ہے؟ تو میرے علم میں تو اس بارے میں دو صحیح حدیثیں بلالکہ ایک بھی صریح حدیث نہیں۔ احادیث ہونا تو دور کی بات ہے۔ اب حلیہ کا یہ اقتباس پڑھئے۔ فرماتے ہیں : “ اکثر علماء رکنیت ضرب کے قائل ہیں اس لئے کہ اس بارے میں “ صریح احادیث وارد ہیں انہی میں سے وہ حدیث ہے جو حضرت ابن عمر
قال) رواہ الحاکم واثنی علیہ ومنھا ماعن عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما قال کنت فی القوم حین نزلت الرخصۃ فامرنا بضربتین واحدۃ للوجہ ثم ضربۃ اخری للیدین الی المرفقین اخرجہ البزار باسناد حسن[9] اھ
[1] الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
[2] الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
[3] الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
[4] طحطاوی علی الدر باب التیمم بیروت ۱ / ۱۲۷
[5] ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۴
[6] ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۴
[7] البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۵
[8] البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۵
[9] حلیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع