دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

ثم اقول :  وبالله  التوفیق ہماری تقریر سابق سےواضح ہوا کہ مائعات دو قسم  ہیں ، ایك وہ جن کے اجزا میں اصلًا تماسك  نہیں جیسےنتھرا پانی ، دوسری جن میں نوع تماسك ہے جیسےشہد۔ یہاں سےجس طرح اُن کی رقت وغلظت کا فرق پیدا ہوتا ہے کہ اوّل اپنے اتصال حسی کہ بہت باریك اجزاء پر تقسیم کرسکتا ہے بخلاف ثانی یوں ہی اُن کے سیلان میں بھی تفاوت آئے گا اول جب جگہ پائے گا بالکل منبسط ہوجائےگا اول اصلا نہ رہے گا کہ اجزاء جو عدمِ وسعت کے سبب زیروبالا متراکم تھے وسعت پاکر سب پھیل جائیں گے کہ ہر جز طالب مرکز ہے اگر اجزائے بالا بالاہی ر ہیں بہ نسبت اجزائے زیریں مرکز سےدُور ہوں گے جگہ پاکر بلا مانع دور رہنا مقتضائے طبیعت سےخروج ہے کہ عادۃً ممکن نہیں خلافا لجھلۃ الفلاسفۃ الذین یحیلونہ عقلالان الفاعل عندھم موجب وعندنا(۱)مختار تعٰلی الله مما یقول الظلمون علوا کبیرا وسبحن الله رب العرش عمّایصفون (اس میں جاہل فلاسفہ کا اختلاف ہے ، جو اس کو عقلا محال قرار دیتے  ہیں کیونکہ ان کے نزدیك فاعل موجب ہے اور ہمارے نزدیك مختار ہے تعالٰی الله  مما یقول الظلمون علوًا کبیرا وسبحان الله  رب العرش العظیم۔ ت)بخلاف ثانی کہ اجزا میں ایك نوع تماسك کے سبب سب نہ پھیل سکیں گے ختم سیلان پر بھی مبدء سےمنتہی تك ایك اُبھرا ہوا جرم نظر آئےگا جیسا کہ مرئی ومشاہد ہے کہ اگر پختہ زمین یا تخت یا سینی یا لو ہے کی چادر پر شہد بہائیے بہاؤ رُکنے پر بھی یہاں سےوہاں تك اُس سطح سےاونچا شہد کا ایك دَل قائم رہے گا جسےخشك ہونے کے بعد چھیل سکتے  ہیں بے اس کے کہ زمین کا کچھ حصّہ چھلے لیکن اگر پانی بہائیے اور پُورا بہہ جانے سےکوئی روك نہ ہو تو ختمِ سیلان کے وقت اُس سطح پر اول تا آخر ایك تری کے سوا پانی کا کوئی دَل نہ رہے گا ہمارے ائمہ اسی قسم اول کا نام رقیق اور ثانی کا کثیف رکھتے  ہیں فقیرا سےروشن دلیل سےواضح کرے فاقول وبالله  التوفیق یہ دلیل ایك قیاس مرکب ہے تین مقدمات پر مشتمل :

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

المولی بحرالعلوم قال فی الارکان الاربعۃ الغلبۃ بالاجزاء بان تذھب رقۃ الماء علی ماکان الماء علیھا [1] اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عــہ لکن سیأتی بتوفیق الله تعالٰی التوفیق البازغ فانتظر  منہ غفرلہ۔  (م)

آئے  ہیں ، بحرالعلوم  نے ارکان اربعہ میں فرمایا اجزاء کے ساتھ غلبہ یہ ہے کہ پانی کی رقت ختم ہوجائے۔

اس طور پر کہ پانی کے اجزاء مخالط کے اجزاء پر غالب ہوں (ت) انتظار کرو ، الله  تعالٰی کی مدد سےاس کی روشن توفیق آتی ہے۔ (ت)

مقدمہ اولٰی : ہمارے ائمہ(۱) نے باب نجاسات میں دو قسمیں فرمائی  ہیں جرم دار و بے جرم ، اول کی مثال لید وغیرہ سےدیتے  ہیں اور دوم کی بول وخمر وغیرہما سےامام برہان الدین فرغانی ہدایہ میں فرماتے  ہیں :

نجاسۃ لھاجرم کالروث ومالاجرم لہ کالخمر [2] ۔

کوئی نجاست ایسی ہو کہ اُس کا جرم (جسم) ہو جیسےلید اور وہ جس کا جِرم نہ ہو جیسےشراب۔ (ت)

عنایہ میں ہے :

النجاسۃ اما ان یکون لھا جرم کالروث اولا کالبول[3]۔

نجاست کا یا جرم ہوگا جیسےلید یا نہ ہو جیسےپیشاب۔ (ت)

امام ملك العلماءء بدائع میں فرماتے  ہیں :

الواقع فی البئر اماان یکون مستجسدا اوغیر مستجسد فان کان غیر مستجسد کالبول والدم والخمر ینزح ماء البئر الخ[4]۔

کنویں میں گر نے والی چیز یا تو جسم والی ہوگی یا غیر جسم والی ، اگر غیر جسم والی ہو جیسےپیشاب ، خون اور شراب ، تو کنویں کا تمام پانی نکالا جائےگا۔ (ت)

مسئلہ کفش وموزہ(۲) میں متون وشروح وفتاوی عامہ کتب مذہب  نے یہی ذی جرم وبے جرم کی تقسیم فرمائی اور ایسی مثالیں دی  ہیں ازاں جملہ امام فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے  ہیں :

الخف اذا اصابتہ نجاسۃ ان کانت مستجسدۃ کالروث والمنی یطھر بالحك وان لم تکن مستجسدۃ کالخمر والبول لا یطھر الا بالغسل وعن ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی اذا القی علیھاترابا فمسحھایطھر لانھا تصیر فی معنی المستجسدۃ وبہ ناخذ[5]۔  

موزے پر اگر نجاست لگ جائے تو اگر وہ جسد والی ہو جیسےلِید اور منی ، تو وہ رگڑ دینے سےپاك ہوجائے گی اور اگر جسد والی نہ ہو جیسےشراب اور پیشاب ، تو دھوئے بغیر پاك نہ ہوگی اور ابو یوسف سےایك روایت یہ ہے کہ اگر اس پر مٹی ڈال کر رگڑ دے تو پاك ہوجائے گی کیونکہ اب یہ معنیً جسد والی ہوجائے گی ، اور ہم اسی کو لیتے  ہیں۔ (ت)

اب ہم دکھاتے  ہیں کہ اُن کی نزدیك ادھر تو ذی جرم اور کثیف وثخین وغلیظ کہ مقابل رقیق  ہیں اُدھر خود بے جِرم ورقیق ایك معنی رکھتے  ہیں ، اولًا کتابوں میں واحد سےاختلاف تعبیر ،

(۱) امام طاہر بخاری  نے خلاصہ میں اسی حکم اخیر خانیہ کو ان لفظوں سےادا فرمایا :

غیر المنی من النجاسات ان کانت رقیقۃ کالخمر والبول لایطھر الا بالماء وعن ابی یوسف اذا القی التراب علی الخف فمسحھا یطھر لانہ یصیر فی معنی المستجسدۃ [6]۔

نجاستوں میں منی کے علاوہ اگر رقیق ہو جیسےشراب اور پیشاب ، تو صرف پانی سےہی پاك ہوگا ، اور ابویوسف سےایك روایت ہے کہ جب موزے پر مٹی ڈالی گئی اور اس کو پونچھ دیا گیا تو وہ پاك ہوجائےگا کیونکہ وہ معنیً متجسد ہوگئی۔ (ت)

(۲) نجاست غلیظہ میں اعتبار مساحت ووزن درہم کہ رقیق وکثیف پر منقسم جس کی بعض عبارات بحث سوم میں گزریں ، اور ہدایہ میں ہے :

قیل فی التوفیق بینھما ان الاولی فی الرقیق والثانیۃ فی الکثیف[7]۔

ان دونوں میں تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلی رقیق میں ہے اور دوسری کثیف میں ہے (ت)

کافی میں ہے :

قال الفقیہ ابو جعفر الاولی فی الرقیق والثانیۃ فی الکثیف وھو الصحیح[8]۔

 



[1]   رسائل الارکان فصل فی المیاہ مکتبۃ اسلامیہ کوئٹہ ص ۲۴

[2]   ہدایہ  باب الانجاس وتطہیرہا مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۵۶

[3]   العنایۃ مع فتح القدیر  باب الانجاس وتطہیرہا مطبع نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۷۱

[4]   بدائع الصنائع  اما بیان المقدار الذی یصیربہ المحل نجسا  مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۷۶

[5]   فتاوٰی خانیہ المعروف قاضیخان  فصل فی النجاسۃ التی تصیب الثوب والخف اوالبدن  ۱ / ۱۳

[6]   خلاصۃ الفتاوٰی  فصل فی الغسل والثوب والدھن الخ  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۲

[7]   الہدایۃ باب الانجاس  مطبوعہ عربیہ کراچی ۱ / ۵۷

[8]   کافی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن