30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نفسی الاعند ہ[1] فثبت بحمدالله تعالٰی ان ابن اسحق ثقۃ وان الحدیث حسن صحیح۔ نفحہ ۵:اكثراصحاب لزھری لم یذكروافی الحدیث "علی باب المسجد"ولا"بین یدیہ"وھمازیادۃ ثقۃ فو جب قبولھما،ومن الظلم قبولہ فی ھذالافی ذالك فلیس مستند كونہ"بین یدیہ"من الحدیث الا زیادۃ ابن اسحق ومن اشدالجہل زعم ان ذكرہ مالم یذ كروامخالفۃ لھم والالاضطر بت الاحادیث عن اخرھاالاافراداعدید ۃ فمامن حدیث اتی بطریقین اواكثرالاو فی بعضھامالیس فی الاخر، الانادرا،ولاعبر ۃ بالنادر،ھذاوجہ۔ وثانیًا:كثیراماتری الائمہ المحد ثین یجمعون الطر ق فیقول احد ھم حد ثنافلان،و فلان عن فلان یزید بعضھم علی بعض ثم
|
سامنے میں نے اپنے كو چھو ٹانہیں محسوس كیاتو مذكورہ بالاتفصیلات سے بحمدالله ثابت ہوگیاكہ محمد بن اسحق ثقہ ہیں اوراذان خطبہ كے بارے میں ان كی بیان كر دہ حدیث صحیح ہے۔ نفحہ ۵:امام زہری كے اكثر شاگر دوں نے حدیث میں"علی باب المسجد"اور"بین یدیہ"كاذكر نہیں كیاہے ان دونوں ٹكڑوں كاذكر صر ف ابن اسحق نے كیاہے جوایك ثقہ روای كااضافہ ہے اوراس كاقبول كر ناواجب ہے تو یہ كتنابڑاظلم ہے كہ"بین یدیہ"كوتسلیم كیاجائے اور"علی باب المسجد"كوترك كر دیاجائے اوراس سے بڑاظلم یہ ہے كہ ابن اسحق كے اس اضافہ كواس وجہ سے ترك كیاجائے كہ صر ف ابن اسحاق اس كے راو ی ہیں اوروں نے اس كاذكر نہیں كیاہے اوراسی بناپراس اضافہ كوان كی ثقہ راویوں كی مخالفت قرار دیاجائے اورحدیث كو مضطرب قرار دیاجائے اگریہ ظلم رواركھاجائے تو چند معدو داور مختصر روایتیں ہی اضطراب سے محفو ظ رہیں گی كیونكہ كون حدیث ہے جو دو یادوسے ز ائد طریقوں سے مروی نہیں اورہر طریقہ روایت كے متن میں كچھ ایساحصہ بھی ضرورہے جو دوسر ے میں نہیں شاید ہی ایساہوگاكہ دونوں روایتوں كے الفاظ بالكلیہ یكساں اور برابرہوں اور نادر كاكیا اعتبار۔ ثانیًا:اكثر دیكھاگیاہے كہ ائمہ محدیثین چندسند وں كوایك ساتھ جمع كرتے ہیں مثلاوہ كہتے ہیں فلاں فلاں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع