30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذاحد ث بحدیث فقال لہ رجل یاابااسامۃ عمن ھذافقال یاابن اخی ماكنانجالس السفہاء [1]،قال لہ العطاف بن خالد۔ قلت و قداكثرالارسال ائمۃ التابعین سعید بن المسیب والقاسم وسالم والحسن وابوالعالیۃ و ابراہیم النخعی و عطاء بن ابی رباح و مجاہدو سعید بن جبیرو طاؤ س والشعبی والاعمش و الزھری و قتاد ۃ و مكحول وابوسحق السبیعی وابراہیم التیمی و یحیی بن الكثیرواسماعیل بن ابی خالد وعمرو بن دینارو معٰو یۃ بن قرۃ و زیدبن اسلم وسلیمان التیمی ثم الائمۃ مالك ومحمدوالسفیانان افتراھم فعلوہ لترد احادیثھم وفی مسلم الثبوت و شرحہ فواتح الرحموت مرسل الصحابی یقبل مطلقًا اتفاقاوان من غیرہ فالاكثرو منھم الائمۃ الثلثۃ ابو حنیفۃ و مالك واحمدرضی الله تعالٰی عنہم یقبل مطلقًاوالظاھریۃ و جمہورالمحد ثین الحادثین بعد المائتین لا[2]،اھ ۔و فی فصول البدائع للعلامۃ |
حدیث بیان كی ایك آدمی نے ان سے كہاابااسامہ یہ كس سے اپ بیان كر رہے ہیں آپ نے فر مایااے بھتیجے! ہم سفہاء كے ساتھ نہیں بیٹھتے یہ اسے عطاف بن خالد نے كہا۔ میں كہتاہوں علمائے تابعین مثلاسعید بن مسیب، قاسم،سالم، حسن،ابوالعالیہ،ابراہیم نخعی،عطاء بن ابی رباح، مجاہد،سعید بن جبیر،طاؤ س،امام شعبی،اعمش،زہری، قتادہ، مكحول، ابواسحق سبیعی،ابراہیم تیمی،یحیی بن كثیر،اسمعیل بن ابی خالد، عمرو بن دینار،معاو یہ بن قرہ،زید بن اسلم،سلیمن تیمی،امام مالك و محمداورسفیانین،كیایہ سب حضرات اس لیے ارسال كرتے تھے كہ ان كی حدیثیں رد كر دی جائیں مسلم الثبوت اوراس كی شرح فواتح الرحموت میں صحابہ كرام كے مراسیل باتفاق ائمہ مطلقًامقبول ہیں اور دوسروں كے مراسیل باتفاق ائمہ جن میں امام ابو حنیفہ،امام مالك،امام احمد بن حنبل شامل ہیں یہ سب لوگ اسے مطلقًامقبول ركھتے ہیں ہاں ظاہریہ اورجمہور محد ثین جو ۲۰۰ ہجری كے بعد ہو ئے قبول نہیں كرتے۔فصول البدائع مولی خسرو میں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع