30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اناوجدناہ صدوقا،اناوجدناہ صدوقا،اناوجدناہ صدوقا[1]۔تلمیذ لہ ائمۃ اجلاء كابن المبارك وشعبۃ وسفٰین الثوری وابن عیینۃ والامام ابی یوسف واكثرعنہ فی كتاب الخراج لہ۔ و قال ابو زرعۃ الدمشقی اجمع الكبراء من اھل العلم علی الاخذ عنہ قال و قد اختبرہ اھل الحدیث فرؤہ صدقاو خیرا۔[2] و قال ابن عدی لم یتخلف فی الروایۃ عنہ الثقات و الائمۃ ولابأس بہ [3] و قال علی بن المدینی مارأیت احدایتھم ابن اسحق [4] وقال سفیان عــــــہ بن عیینہ جالست |
ابن مبارك فرماتے ہیں:"ہم نے انھیں صدوق پایا،ہم نے انھیں صدوق پایا،ہم نے انھیں صدوق پایا۔"امام عبدالله بن مبارك،امام شعبہ اورسفیان ثوری اورابن عیینہ اورامام ابو یوسف نے كتاب الخراج میں بہت زیادہ روایتیں كیں اوران كی شاگردی اختیاركی۔ امام ابو زرعہ دمشقی نے فرمایا:"اجلہ علماء كااجماع ان سے روایت كرنے پر قائم ہے،اوراپ كواہل علم نے آزمایاتواہل صدق و خیر پایا۔" ابن عدی نے كہا:"آپ كی روایت میں ائمہ ثقات كو كوئی اختلاف نہیں،اوراپ سے روایت كرنے میں كوئی حرج نہیں۔" امام علی ابن المدینی نے كہا"كسی امام یامحد ث كوابن اسحق پر جر ح كرتے نہیں دیكھا" امام سفیان ابن عیینہ فر ماتے ہیں میں |
|
عــــــہ:وبہ ظہركذب من زعم الان ان قد جر حہ سفٰین |
سفیان ابن عیینہ كے اس قول سے اس شخص كاجھو ٹ ظاہرہوگیاجو یہ كہتاہے كہ حضرت سفیان (باقی اگلے صفحہ پر) |
[1] تہذیب التہذیب تر جمہ محمد بن اسحق مؤ سسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۵۰۷،کتاب الثقات لابن حبان تر جمہ محمد بن اسحق دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/۲۳۶
[2] تہذیب التہذیب تر جمہ محمد بن اسحق مؤ سسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۵۰۵
[3] میز ان الاعتدال ترجمہ نمبر۷۱۹۷ دارالمعرفہ بیروت ۳/ ۴۷۴
[4] تہذیب التہذیب تر جمہ محمد بن اسحق مؤ سسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۵۰۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع