30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: ولك ان تحمل التردید علی التنویع دون التردد۔ فالمعنی قطعی بالمعنی الثانی وکالقطعی بالمعنی الاول۔ومن ھٰھنا بان لك ان من قال رأینا المجمعین ایضًا ظانین غیر قاطعین فقد صدق ان ارادالظن بالمعنی الا عم والقطع بالمعنی الاخص۔ولا یضرنا ولا ینفعہ وان عکس فقد غلط وھو محجوج بدلائل لاقبل لہ بہاوالله تعالٰی اعلم۔ھذا جملۃ القول فی ھذاالمقام وقد اشرناك الٰی نکت تجلوبہا الظلام اما التفصیل فقد فرغنا عنہ فی کتاب التفضیل بتوفیق الملك الجلیل۔و لاحول ولا قوۃ الا بالله
لطیفۃ:قال الامام الرازی فی مفاتیح الغیب سورۃ و الیل سورۃ ابی بکر۔و سورۃ والضحٰی سورۃ محمد علیہ الصلوۃ والسلام ثم ماجعل بینہما واسطۃ لیعلم انہ لا واسطۃ بین محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر فان ذکرت اللیل اولًا وھو ابوبکر |
اقول:(میں کہتا ہوں)اور تمہیں اختیار ہے کہ تردید کو تقسیم پر محمول کرو نہ کہ تردد پر۔تو معنی یہ ہے کہ معنی ثانی پر فضیلت شیخین قطعی ہے اور معنی اول پر قطعی جیسی ہے اور یہاں سے تمہیں ظاہر ہوگیا کہ جس نے یہ کہا کہ ہم نے ا س مسئلہ میں اجماع کرنے والوں کو دیکھا کہ وہ بھی ظن پر قائم ہیں قطعی فیصلہ نہیں کرتے تو وہ سچا ہے اگر اس نے ظن بالمعنی الاعم مراد لیا اور قطعی بالمعنی الاخص کا قصد کیا۔اور یہ کہ ہم کو نقصان دہ نہیں اور اس کو سود مند نہیں اور اگر وہ اس کا عکس مراد لے تو اس نے غلط کہا اور اس پر ان دلائل سے حجت قائم ہے جن کے مقابل کی اس کو طاقت نہیں۔والله تعالٰی اعلم اس مقام میں یہ مختصر قول ہے اور ہم نے تمہیں اشارہ کیا اُن نکتوں کی طرف جن سے اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔رہی تفصیل تو ہم اس سے فارغ ہوچکے ہیں۔کتاب تفصیل میں الله ملك جلیل کی توفیق سے۔اور برائی سے پھرنے اور نیکی یك طاقت نہیں مگر الله سے۔ لطیفہ:فرمایا امام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ سورہ واللیل ابوبکر کی سورۃ ہے اور سورہ والضحٰی محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی سورت ہے۔پھر الله تعالٰی نے ان سورتوں کے درمیان واسطہ نہ رکھا تاکہ معلوم ہو کہ محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اور ابوبکر کے درمیان کوئی شخص واسطہ نہیں تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو وہ ابوبکر ہیں پھر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع