30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان وجد تم للمسلم مخرجًا فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطی فی العفو خیر من ان یخطی فی العقوبۃ رواہ ابن ابی شیبۃ والترمذی [1] والحاکم و البیہقی عن اُم المومنین الصدیقۃ رضی الله تعالٰی عنہما ومنہم میمون ابن مھر ان من فقہاء التابعین سُئِل ابوبکر و عمر افضل ام علی۔فقف شعرہ و ارتعدت فرائصہ حتی سقطت عصاہ من یدہ وقال ما کنت اظن ان اعیش الٰی زمان یفضل الناس فیہ احدًا علی ابی بکرو عمر اوکما قال رواہ ابونعیم[2]عن فرات بن السائب۔ومنہم عالم المدینۃ الامام مال بن انس رضی الله تالٰی عنہ سُئِل عن افضل الناس بعد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم |
تو اس کا راستہ چھوڑ دو اس لیے کہ امام کا درگزر میں خطا کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ عقوبت میں خطا کرے"اس حدیث کو ابن ابی شیبہ۔ترمذی۔حاکم اور بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا سے روایت کیا اور انہیں میں سے حضرت میمون ابن مہران ہیں جو کہ فقہائے تابعین سے ہیں ان سے سوال ہوا کہ سیدنا ابوبکر و عمر افضل ہیں یا علی تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ان کی رگیں پھڑکنے لگیں یہاں تك کہ چھڑی ان کے ہاتھ سے گر گئی اور انہوں نے کہا کہ مجھے گمان نہ تھا کہ میں اس زمانہ تك جیوں گا۔جس میں لوگ ابوبکر و عمر پر کسی کو فضیلت دیں گے۔یا جیسا انہوں نے فرمایا اس حدیث کو روایت کیا ابونعیم نے فرات بن سائب سے۔اور انہیں میں سے عالمِ مدینہ امام مالك بن انس رضی الله تعالٰی عنہ ہیں ان سے سوال ہوا رسول ا لله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں سے افضل کے بارے میں۔تو فرمایا ابوبکر و عمر۔پھر |
[1] المستدرك للحاکم کتاب الحدود باب ان وجدتم لمسلم مرجا الخ دارالفکر بیروت ۴ /۳۸۴،جامع الترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۱،السنن الکبرٰی کتاب الحدود باب ماجاء فی درء الحدود بالشبہات دارصادربیروت ۸ /۲۳۸،المصنف لا بن ابی شیبیہ کتاب الحدود باب فی درء الحدود بالشبہات حدیث ۲۸۴۹۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۵۰۸
[2] حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۲۵۱ میمون بن مہران دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۹۲ و ۹۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع