30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تفضیل الشیخین علٰی نفسہ وعلی سائرالامۃ۔ورمٰی بھابین اکتاف الناس و ظہورھم حتی جلی ظلام شکوك مدلھمۃ۔روی الدارقطنی عنہ رضی الله تعالٰی عنہ قال لااجداحدًا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلدتہ حد المفترٰی[1] عــــــہ ۔ |
ان کا شیخین ابوبکر و عمر کو خود پر اور تمام امت پر فضیلت دینا تواتر سے ثابت ہوا اس کو لوگوں کے کندھوں اور پشتوں پر مارا یعنی اس مسئلہ کو لوگوں کے سامنے اور ان کے پیچھے خوب روشن کیا یہاں تك کہ تیرہ و تار شبہات کی اندھیری کو دور کر دیا۔دارقطنی نے اسی جناب سے روایت کیا۔فرمایا میں کسی کو نہ پاؤں گا جو مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دے مگر یہ کہ میں اس کو مفتری کی حد ماردوں گا۔ |
|
عــــــہ:وقد کان رضی الله تعالٰی عنہ یبوح بھذا فی المجامع الشاملۃ والمحافل الحافلۃ والمساجد الجامعۃ وفیھم من فیھم من الصحابۃ والتابعین لھم باحسان ثم لم ینقل عن احد منھم انہ ردقولہ ھذا ولقد کانوا اتقٰی الله تعالٰی من ان یسکنوا عن حق اویقروا علٰی خطاؤ ھم الّذین وصف اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی فی القرآن العظیم بانھم " خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ |
اور سیدنا علی رضی الله تعالٰی عنہ عام مجمعوں میں اور بھری محفلوں میں اور جامع مسجدوں میں اس بات کا اعلان فرماتے تھے اور لوگوں میں صحابہ اور تابعین کرام موجود ہوتے تھے پھر ان میں سے کسی سے یہ منقول نہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی الله تعالٰی عنہ کے اس قول کو رد کیا ہو اور بے شك وہ الله تعالٰی سے بہت ڈرنے والے تھے اور اس بات سے دور تھے کہ حق بتانے سے خاموش رہیں یا کسی خطا کو مقرر رکھیں حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا الله تبارك و تعالٰی نے قرآن عظیم میں یوں بیان فرمایا"اور تم بہترین اُمت ہیں جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی کہ (باقی حاشیہ برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع