30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی العالمین جمیعا ام یرجع الٰی نفسہ فیدری ان التعارض شیئ ومجرد وجود النفی و الاثبات شیئ اخر۔ وبہٰذا التحقیق البدیع الانیق الذی خصنا بہ المولٰی تبارك وتعالٰی امکن لنا التوفیق بین کلمات الائمۃ الکرام فمن قال بالقطع ونفی الظن فانما ارادا لقطع بالمعنی الا عم والظن وبالمعنی الاخص وھو حق لا مریۃ فیہ ومن عکس فقد عکس وھو صدق لاغبار علیہ۔فان تخالج فی صدرك ان المسئلۃ من الاعتقادیات فکیف اکتفیتم بالقطع بالمعنی الثانی۔ قلت ھذا اشد ورودًا علی القائلین بالظن ان ارادوا الظن بالمعنی الاخص والحل ان المسئلۃ لیست من اصول الاسلام حتی یکفر جاحدھا کمسئلۃ امامۃ الخلفاء الراشدین رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین وبھذا المثال ینقطع قلب من قال من بطلۃ الزمان انہا اذا لم تکن من الاصول کما صریح بہ السید الشریف فی شرح المواقف[1] |
کی سب جہان پر فضیلت میں تعارض نصوص کو مانے گا یا اپنے نفس کی طرف لوٹے گا تو سمجھے گا کہ تعارض ا یك شے ہے اور مجرد وجود نفی وا ثبات دوسری شے ہے۔اور اس تحقیق انیق و بے نظیر سے جو خاص الله تبارك و تعالٰی نے ہم کو عنایت کی ہم کو آئمہ کرام کے کلمات میں مطابقت ممکن ہے تو جس نے اس مسئلہ کو قطعی کہا اور ظن کی نفی کی تو اس نے قطعی بالمعنی الاعم ہی کو مراد لیا اور ظن بالمعنی الاخص۔ اور حق یہ ہے جس میں کوئی شبہ نہیں اور جس نے عکس کیا تو اس نے عکس کیا اور وہ سچ ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔اب اگر تمہارے سینے میں یہ خلش ہو کہ یہ مسئلہ تو اعتقادیات سے ہے تو تم نے معنی ثانی میں قطعی پر کیسے اکتفا کرلیا۔ قلت(میں کہتا ہوں)یہ اعتراض ان لوگوں پر جو ظنی کے قائل ہیں زیادہ سختی کے ساتھ وارد ہوتا ہے جب کہ وہ ظن بالمعنی الاخص مراد لیں۔اور اس کا حل یہ ہے کہ یہ مسئلہ اصولِ اسلام سے نہیں ہے کہ اس کا منکر کافر ٹھہرے۔جیسے کہ خلفائے راشدین رضی الله تعالٰی عنہم کی خلافت کا مسئلہ۔اور اس مثال سے اس کا دل ٹکڑے ہوجائے گا جو اس زمانہ کے اہلِ باطل میں سے کہتا ہے کہ جب یہ مسئلہ اصول میں سے نہیں جیسا کہ سید شریف نے شرح مواقف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع