30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التابعین العظام ما نقلہ جمہور الائمۃ الاعلامہ، منھم سیدنا عبد الله بن عمر وابوھریرۃ من الصحابۃ ومیمون بن مھران من التابعین والامام الشافعی من الاتباع وغیرھم من لایحصون لکثرتھم۔و حکایۃ ابن عبدالبرلا معقولۃ فی الدرایۃ ولا مقبولۃ فی الروایۃ کما حققناہ فی مطلع القمرین مع ما ارشدنا القرآن العظیم واحادیث المصطفٰی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم الٰی دلائل جمۃ توخذ منہما بالاستنباط ووفق لہا ھذا الفقیر الضعیف کما عقدنا لہا الباب الثانی من الکتاب البیر فلولا الاو احد من ھذہ لشفی وکفی ودفع کل ریب ونفی،فکیف اذا کثرت وجلت وعقدت و حلت ورعدت و برقت و اضاء ت واشرفت فلا وربك لم یبق للشك محل ولا للریب مدخل والحمد لله الا علٰی الاجل۔ اما قول من قال انا وجدنا النصوص متعارضۃ فھذا اخبار عن نفسہ فکیف یحتج بہ علی من نظر وابصر ونقد واختبر فقتلہا خبرا واحاط بما لد یھا علمًا علی |
تابعین عظام کے اجماع نے۔جیسا کہ اس کو نقل کیا ہے جمہور آئمہ اعلام نے۔ان میں عبدالله بن عمر اور ابوہریرہ صحابہ میں سے۔اور میمون ابن مہران تابعین میں سے۔اور امام شافعی تبع تابعین میں سے۔اور ان کے سواجن کی گنتی نہیں بوجہ ان کی کثرت کے۔اور ابن عبدالبر کی حکایت نہ توازراہِ درایت معقول ہے اور نہ روایت مقبول ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے مطلع القمرین میں مع ان دلائل کثیرہ کے جن کی طرف ہماری رہنمائی قرآن عظیم اور احادیثِ مصطفٰی کریمہ علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔یہ دلائل قرآن و حدیث سے استنباط کے ذریعہ ماخوذ ہیں اور ان کے لیے اس فقیر ناتواں کو توفیق ہوئی جیسا کہ ہم نے اس کے لیے اپنی کتاب کبیر کا باب دوئم باندھا ہے تو اگر ان دلائل میں سے نہ ہوتی مگر ایك دلیل تو وہ بھی شافی و کافی ہوتی اور ہر شك کی دافع و نافی ہوتی تو کیا گمان ہے جب کہ یہ دلائل کثیر و جلیل ہوں اور دین کی گرہیں باندھیں اور شبہوں کی رسیاں کھولیں اور گرجیں اور چمکیں اور روشن اور بلند ہوں تو تیرے رب کی قسم شك کا محل باقی رہا نہ شبہہ کا مدخل۔والحمد ﷲ الا علی الاجل۔رہی اس کی بات جس نے ہا ہم نے نصوص کو متعارض پایا تو یہ اس کی اپنی حالت کی خبر ہے۔تو وہ کیسے حجت لاتا ہے اس سے اس پر جس نے دیکھا اور غور کیا اور جا نچا اور پرکھا تو نصوص کو خوب پرکھ کے جان لیا اور انکے پاس جو علم ہے اس کا احاطہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع