30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جبل وعرصعب المرتقی۔اذماوردفیہا فامانص او ظاھر وکلاھما یقبلان التاویل ولو قبولًا ضعیفًا بعیدًا او ابعد اضعف مایکون کالا تقی فیما نحن فیہ یحتمل التجوز بالبالغ فی التقویٰ والخیر والافضل فی الاحادیث یحتمل تقدیر من کقول القائل"فلان اعقل الناس" وما جاء من الاحادیث مفسّرًا محکمًا فاحاد تطرق الیہا الاحتمال من قبل النقل لکنا مالنا ولھذا القطع، اذلا نقول باکفار المفضلۃ ومعاذ الله ان نقول اما الا بتداع فیثبت بخلاف القطع بالمعنی الثانی وھو حاصل لا شك فیہ لایسوغ انکارہ الا لغافل او متغافل فقد تظافرت علیہ النصوص تظافرا جلیا و بلغت الاخبار تواترًا معنویا والاحتمالات الرکیکۃ السخیفۃ الناشیۃ من غیر دلیل لا تقدح فی القطع بھٰذا المعنی کما صرحت بہ علماء الاصول و زادنا نورًا الٰی نورو رشادًا الٰی رشاد اجماع الصحابۃ الکرام و |
پہاڑ ہے سخت دشوار گزار چڑھائی والا۔اس لیے کہ اس میں جو کچھ وارد ہوا ہے یا تو نص ہے یا ظاہر ہے اور دونوں تاویل کو قبول کرتے ہیں اگرچہ ضعیف بعید یا بہت زیادہ ابعد اضعف سہی۔جیسے کہ ہمارے اسی مسئلہ میں جس میں ہمیں بحث ہے جیسے کہ اتقی،تقویٰ اور خیر میں بالغیت کے معنی مجازی کا حتمال رکھتا ہے اور احادیث میں لفظ افضل کے مقدر ہونے کا احتمال رکھتا ہے جیسے کوئی کہے"فلان اعقل الناس"(فلاں شخص لوگوں سے زیادہ عاقل ہے)اور جو احادیث مفسرمحکم آئیں تو وہ خبر واحد ہیں جن میں روایت کی طرف سے احتمال راہ پاتا ہے لیکن ہمیں اس طرز کے قطعی سے کیا کام۔اس لیے کہ ہم تفضیلیوں کے کافر ہونے کا قول نہیں کرتے اور الله کی پناہ ہو کہ ہم یہ قول کریں۔لیکن اُن کا بدعتی ہونا وہ تو ثابت ہے برخلاف قطعی بمعنی دیگر تو وہ بلاشك حاصل ہے جس کا انکار سوائے غافل یا غافل بننے والے کے کسی کو نہ بن پڑے گا اس لیے کہ اسپر واضح کثرت کے ساتھ نصوص آئیں اور احادیث تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئیں اور رکیك کمزور احتمالات جو کسی دلیل سے ناشی نہیں ہوتے اس معنی پر قطعی میں اثر انداز نہ ہوں گے۔جیسا کہ علمائے اصول نے اس کی تصریح کی ہے اور ہمارے لیے نُور پر نور بڑھایا اور ہدایت کے اوپر ہم کو ہدایت کی صحابہ کرام ا ور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع