30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیہ ولا دلیل اصلاعلیہ فیکون کقولک"وزنتہ بمیزان العقل"وھورائج فی العجم ایضًا تقول"سخن سنج"ای ناقدا لکلام۔ و مسئلۃ رؤیۃ الوجہ الکریم للمؤمنین۔رزقنا المولٰی بفضلہ العمیم۔قال تعالٰی " وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾"[1] ویحتمل احتمالًا کذلك ارادۃ الامل و والرجاء وھو ایضًا مما توافقت علیہ العرب والعجم تقول"دستِ نگر من ست"ای یرجو عطائی ویحتاج الٰی نوالی وھٰکذا مسئلۃ الاسراء الی السمٰوٰت العلی و الشفاعۃ الکبرٰی للسید المصطفٰی علیہ افضل التحیۃ والثناء فکل ذل ثابت بنصوص قواطع بالمعنی الثانی۔ ولذا لا نقول بالکفار المعتزلۃ والروافض اولالین الماؤلین۔و ھکذا الظن لہ معینان اذ مقابل الاعم اخص والا عم اخص کما لا یخفی۔اذا عرفت ھذا فمسئلتنا ھذہ ان اریدفیہا القطع بالمعنی الاخص فھذا |
جس کی طرف پھیرنے والی کوئی چیز نہیں اور نہ اصلًا اس پر کوئی دلیل ہے۔اب آیت کا معنٰی تمہارے قول"میں نے اس کو میزانِ عقل سے تولا"کے مثل ہوگا۔اور یہ عجم میں رائج ہے۔تم کہتے ہو"سخن سنج"یعنی کلام کو پرکھنے والا۔ اور مومنین کے لیے الله تبارك وتعالٰی کے دیدار کا مسئلہ۔ مولائے کریم اپنے فضل عظیم سے نصیب فرمائے۔الله تعالٰی نے فرمایا"کچھ منہ اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے "احتمال رکھتا ہے اسی طرح اُمید ورجاء کے ارادے کا۔اور یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن پر اب عرب و عجم سب متفق ہیں۔تم کہتے ہو"دستِ نگر من ست"یعنی میری عطا کی امید رکھتا ہے اور میری بخشش کا محتاج ہے۔اور اسی طرح آسمانوں کی سیر اور شفاعتِ کُبری محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے کہ یہ تمام باتیں دوسرے معنی پر نصوصِ قطعی سے ثابت ہیں۔اور اسی لیے ہم تاویل کرنے کے سبب معتزلہ اور اگلے روافض کی تکفیر نہیں کرتے۔اور اسی طرح ظن کے دو معنی ہیں اس لیے کہ اعم کا مقابل اخص ہے اور اعم اخص ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔جب تم نے یہ جان لیا تو ہمارا یہ مسئلہ اگر اس میں قطعی بالمعنی الاخص مراد لیا جائے تو یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع