30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتحقیق المقام علٰی ما الھمنی الملك العلام ان العلم القطعی یستعمل فی معنیین۔ احدھما:قطع الاحتمال علی وجہ الاستیصال بحیث لایبقی منہ خبرولا اثروھذاھو الاخص الاعلٰی کما فی المحکم والمتواتر وھو المطلوب فی اصول الدین فلا یکتفی فیہا بالنص المشہور۔ والثانی:ان لایکون ھناك احتمال ناش من دلیل و ان کان نفس الاحتمال باقیًا التجوز و التخصیص و سائر انحاء التاویل کما فی الظواھر والنصوص و الاحادیث المشہورۃ والاول یسمی علم الیقین و مخالفہ کافر علی الاختلاف فی الاطلاق کما ھو مذھب فقہاء الاٰفاق،والتخصیص بضروریات الدین ما ھو مشرب العلماء المتکلمین۔و الثانی علم الطمانیۃ و مخالفہ مبتدع ضال ولا مجال الی اکفارہ کمسئلۃ وزن الاعمال یوم القیمۃ قال تعالٰی " وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ ۣالْحَقُّ ۚ"[1]ویحتمل النقد احتمالًا لاصارف |
اور مقام کی تحقیق اس طور پر جو مجھے الله ملك العلام نے الہام کیا یہ ہے کہ علم قطعی دو معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ ایك تویہ کہ احتمال جڑ سے منقطع ہوجائے بایں طور کہ اس کی کوئی خبر یا اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔اور یہ اخص اعلٰی ہے جیسا کہ محکم اور متواتر میں ہوتا ہے۔اور اصولِ دین میں یہی مطلوب ہے۔تو اس میں نصِ مشہور پر کفایت نہیں ہوتی۔ دوسرا:یہ کہ اس جگہ ایسا احتمال نہ ہو جو دلیل سے ناشی ہو اگرچہ نفس احتمال باقی ہو۔جیسے کہ مجاز اور تخصیص۔اور باقی وجوہِ تاویل۔جیسا کہ ظواہر اور نصوص اور احادیث مشہورہ میں ہے۔اور پہلی قسم کا نام علم یقین ہے اور اس کا مخالف کافر ہے علماء میں اختلاف کے بموجب مطلقًا۔جیسا کہ فقہائے آفاق کا مذہب ہے یا ضروریات دین کی قید کے ساتھ یہ حکم مخصوص ہے جیسا کہ علمائے متکلمین کا مشرب ہے اور دوسرے کا نام علم طمانیت ہی اور اس کا مخالف بدعتی و گمراہ ہے اور اس کو کافر کہنے کی مجال نہیں۔جیسے کہ قیامت کے دن اعمال کو تولنے کا مسئلہ۔الله تعالٰی کا قول ہے"اور قیامت کے دن تول ہونا برحق ہے"اور یہ آیت نقد(پرکھ)کا ایسا احتمال رکھتی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع