30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بلغت،قالوابلٰی یارسول اﷲ،قال فلیبلغ الشاھد الغیب،ثم ذکرالحدیث فی تحریم الدماء والاموال والاعراض رواہ البیہقی وقال فی اسنادہ بعض من یجہل [1]انتہی
قلت ولا یضرنا فی الشواھد واخرج الطبرانی فی الکبیر عن حبیب بن خراش رضی الله عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم المسلمون اخوۃ لا فضل لاحد علی احدالا بالتقوی۔[2] وبالجملۃ فالاحادیث کثیرۃ فی ھذاالمعنی ثم ان الکرامۃ والتقویٰ کلاھما مقولان بالتشکیك فکلما زاد زادت وکلما نقص نقصت و المتساویان فیہ یتساویان فیہا کالعصیان عــــــہ سبب للھوان فیزداد بزیادتہ وینتقص بانتقاصہ وھکذا فاذا ثبت ھذا کان معنی قولنا کل اکرم اتقی منحلا الٰی ثلث قضایا احدھا ھذہ والثانیۃ کل ناقص فی الکرم عن غیرہ ناقص عنہ فی التقویٰ |
سنتے ہو کیا میں نے رب کا پیغام پہنچادیا۔صحابہ نے عرض کی کیوں نہیں۔یارسول اللہ(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)فرمایا اب جو حاضر ہیں وہ غائبین کو پہنچادیں۔پھر حدیث ذکر کی جو لوگوں کے خون۔مال اور آبرو کی حرمت میں ارشاد ہوئی۔ اسے بیہقی نے روایت کیا اور کہا اس کی سند میں بعض مجہول ہیں۔ قلت(میں کہتا ہوں)شواہد میں ہم کو راوی کی جہالت مضر نہیں۔طبرانی نے معجم کبیر میں حبیب بن خراش رضی الله تعالٰی عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ سے۔بالجملہ اس معنی کی حدیثیں بکثرت وارد ہیں مگر کرامت اور تقویٰ دونوں تشکیك کے ساتھ بولے جاتے ہیں تو جب تقویٰ زیادہ ہوگا کرامت زیادہ ہوگی اور جب تقویٰ کم ہوگا کرامت کم ہوگی۔اور تقویٰ میں متساوی کرامت میں متساوی ہوں گے جیسے کہ عصیان سبب ذلت کا۔تو ذلت عصیان کی زیادتی سے زیادہ اور اس کی کمی سے کم ہوتی ہے۔اور یونہی جب یہ بات ثابت ہے تو ہمارے قول"کل اکرم اتقٰی"کے معنی کی تحلیل تین قضیوں کی طرف ہوگی ان کا ایك تو یہی ہے اور دوسرا |
|
عــــــہ: ای فی اصل قضیۃ المجازاۃ اماتدارك الرحمۃ ففضل الہٰی یختص بہ من یشاء ما اسلفنا تحقیقہ(۱۲ منہ)غفرلہ۔ |
یعنی اصل مقتضائے مجازات میں رہا تدارك رحمت تویہ فضلِ الہٰی ہے الله تبارك و تعالٰی جسے چاہے اس کے ساتھ مخصوص فرماتا ہے۔جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق گزشتہ میں کی ۱۲ منہ غفرلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع