30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عمل صالح۔رواہ احمد والبیہقی کلاھما من روایۃ ابن لھیعۃ ولفظ البیہقی قال لیس لا حد علی احد فضل الابالدین او عمل صالح حسب للرجل ان یکون بذیا بخیلا۔وفی روایۃ لیس لاحد علی احد فضل الابدین اوتقویٰ وکفی بالرجل ان یکون بذیا فاحشا بخیلا،قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم طف الصاع بالاضافۃ ای قریب بعٖضکم من بعض [1]اھ قلت واخرجہ الطبرانی فی حدیث طویل من طریق ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما ولفظہ انما انتم من رجل وامرأۃ کجُمام الصاع لیس لاحد علی احد فضل الاّ بالتقویٰ [2] اھ قولہ صلی الله تعالٰی لیہ وسلم کجُمام الصاع جُمام بالضم مایملأ والمعنی انکم متساوون فی القدر کحبّات الصاع تکال فیعرف مقدار ھا و استواء ھا بمثلہا کیلًا من |
حدیث کو روایت کیا احمد اور بیہقی دونوں نے ابن لہیعہ کی روایت سے۔اور بیہقی کے لفظ یوں ہیں۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا عمل صالح سے۔اور آدمی کے بُرا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ بدزبان کنجوس ہو۔اور ایك روایت میں ہے۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین یا تقویٰ سے۔اور آدمی کے لیے کافی برائی ہے کہ وہ بدگو بے حیاء کنجوس ہو۔ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قول"طف الصاع"اضافت کے ساتھ کا معنی یہ ہے یعنی تم میں سے بعض بعض کے قریب ہے۔انتہی۔ قلت(میں کہتا ہوں)اور طبرانی میں اس کی تخریج کی ایك حدیث طویل میں ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما کے طریق سے،اور ان کے لفظ یہ ہیں۔تم لوگ ایك مرد اور عورت سے ہو جمام صاع کی طرح۔کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ سے انتہی۔حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا قول "جُمام صاع"جمام بضم جیم وہ چیز ہے جو پیمانہ میں بھری جاتی ہے اور معنی یہ ہے کہ تم قدر میں ایك دوسرے سے برابر ہو پیمانہ کے حبّوں کی طرح جس کو پیمانہ میں بھرا جاتا ہے تو ان کی مقدار اور ان کے مثل کے ساتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع