30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی منوال الثانی بان تقول لاشیئ من الصحابۃ اکرم من ابی بکر و کل اکرم من ابی بکر اتقی منہ انتج ان لا شیئ من الصحابۃ اکرم من ابی بکر و لعلّك ان تقررہ قیاسًا استثنا ئیًا یرفع المقدم لرفع التالی فتقول لوکان احد من الامۃ اکرم من الصدیق لکان اتقی منہ لان کل اکرم اتقی لکنھم لیسوا باتقی منہ للایۃ الثانیۃ فلیسوا باکرم منہ وفیہ المقصود۔ تنبیہ:سیقول السفھاء من الناس ماولکم عن دعوٰئکم التی کنتم علیہا فان الثابت علی ھذہ التقاریر الثلثۃ الاخیرۃ انما ھو نفی اکرم من الصدیق وھو لا یستلزم اکرمیتہ رضی الله تعالٰی عنہ اذ یحتمل التساوی۔ اقول:اوقد قالوافلئن قالوا فلقدز اغوا۔ امااولًا فنصوص الشرع و محاورات البلغاء طافحۃ بسوق الکلام الٰی غرض التفضیل علی الاطلاق علی ھذاالمساق یقولون لیس احد افضل من فلان ویریدون انہ افضل الکل وذلك لان التساوی |
مقرر رکھو جو مقدم کو ارتفاع تالی کی وجہ سے مرتفع کردے تو تم یوں کہو امت میں اگر کوئی صدیق سے بڑھ کر عزت والا ہوتا تو وہ ضرور صدیق سے بڑھ کر متقی ہوتا اس لیے کہ ہر اکرم اتقی ہے لیکن ساری امت صدیق سے بڑھ کر متقی نہیں بدلیل آیت ثانیہ۔تو وہ صدیق سے بڑھ کر عزت والے نہیں اور اسی میں ہمارا مقصود ہے۔
تنبیہ:اب کہیں گے بے وقوف لوگ اس دعوٰی سے جس پر تم قائم تھے کس چیز نے تمہیں پھیر دیا اس لیے کہ ان تین تقاریر اخیرہ پر جو ثابت ہوتا ہے وہ صدیق سے زیادہ عزت والے کی نفی ہے اور اس سے صدیق اکبر رضی الله تعالٰی عنہ کی (اولویت)سب پر لازم نہیں آتی اس لیے کہ تساوی کا احتمال ہے۔
اقول:کیا ان بے وقوفوں نے یہ بات کہی اگر انہوں نے ایسا کہا تو بے شك و ہ منحرف ہوگا۔ اولًا نصوص شرع اور اہلِ بلاغت کے محاورے اس ڈھنگ سے بھرے ہیں کہ کلام کو علی الاطلاق فضیلت بتانے کی غرض سے اس طور پر لایا جاتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی فلاں سے افضل نہیں ہے اور مراد لیتے ہیں کہ وہ سب سے افضل ہے اور یہ اس لیے کہ تساوی حقیقی عادتًا گویا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع