30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یجیز صدقہا علٰی افراد کثیرۃ ثبیرۃ واذا وجدلہا فی الخارج فرد لم یستبعد وجود اٰخر بخلاف افعلھم فانما یقبل الاشتراك علٰی سبیل البدلیۃ واذا صدق فی الخارج علی فرد حال العقل صدقہ علی اٰخرمنحازًا عنہ کدأب اسماء الاشارۃ سواء بسواء فصدق العکس ھٰھنا ابین واجلی،واما قول اھل المیزان لا تنعکس الموجبۃ الاجزئیۃ معنا ہ ان کلما جعلت موضوع موجبۃ کلیۃ محمولًا و محمولہا موضوعًا و اتیت بسورا لکلیۃ کانت القضیۃ کاذبۃ،فان الواقع یکذبہ بل المعنی عدم الاطراد،وھم لا اقتصرنظر ھم علی الکلیات لایعتدون الا بالمطرد المضبوط الذی لایتخلف فی مادۃ من المواد،وعدم الاطراد لا یستلزم المراد العدم،ولا اقول:انہ عکس منطقی، و لاانہاتلزم القضیۃ لزومًا عا مًالکنہاتلزم فی امثال المقام لاشک،فتصدق القضیۃ بالنظرالی الواقع |
شمس وغیرہ کے مفہومات کا صادق آنا بہت سارے افراد پر جائز جانتی ہے اور جب ان مفہومات کا خارج میں کوئی فرد پایا جائے تو عقل دوسرے فرد کے وجود کو بعید نہیں جانتی بخلاف اَفعَلُھُم کہ یہ تو اشتراك کو برسبیل بدلیت قبول کرتا ہے اور جب خارج میں کسی فرد پر اس کا مصداق پایا جائے تو عقل محال جانتی ہے کہ افعل التفضیل کا مصداق دوسرے پر صادق آئے جو اس سے منفرد ہو اس کا معاملہ اسمائے اشارہ کے مانند برابر برابر ہے تو یہاں پر عکس کا صادق ہونا روشن تر اور ظاہر تر ہے۔رہا منطق والوں کا یہ قول کہ موجبہ کا عکس نہیں ہوتا مگر جزئیہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب کبھی تم موجبہ کلیہ کے موضوع کو محمول بناؤ اور اس کے محمول کو موضوع بناؤ اور اس پر کلیہ کا سور لاؤ تو قضیہ کاذب ہوگا اس لیے کہ واقعہ اس بات کو جھٹلاتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ یہ مطرد نہیں اور منطقیوں کی نظر چونکہ کلیات تك محدود ہوتی ہے تو وہ اعتبار نہیں کرتے مگر اس مفہوم کا جو مطرد و مضبوط ہو مواد میں سے کسی مادہ میں جس کا حکم متخلف نہ ہو اور عدمِ اطراد اطراد عدم کو مستلزم نہیں ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ یہ عکس منطقی ہے۔نہ یہ دعوٰی کرتا ہوں کہ یہ قضیہ کو عام طور پر لازم ہے لیکن اس مقام کے امثال میں بلاشبہہ عکس لازم ہوتا ہے تو قضیہ منعکسہ واقعہ پر نظر کرتے ہوئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع