30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مثل تجربتی،اسأل اﷲ تطہیر جنانی و تقویم لسانی وتسدید بنانی فبہ اعتصامی وعلیہ کلانی اٰمین،
تسجیل:ولعلك تقول لقد کشفت النقاب ورفعت الحجاب فبین لی ماالنکتۃ فی تقدیم الخبر وانما حقہ ان یوخر،قلت نعم فیہ نکت بدیعۃ منہا ان المحکوم بہ لما کان خفیا والمحکوم علیہ مدرکًا جلیًا اشبہ الاول بالمعرف والاخربا لتعریف فاستحسن تقدیمہ لیکون الاخیر کالتعریف لہ۔ومنہا تشویق السامع لا ن النفوس متطلعۃ الی علم مالا تعلم فاذا سمعت بما ھو خفی لدیہا ورجت ان یذکربعدہ ما یظھرہ علیھا توجھت للاستماع وتفرغت للاطلاع فکان الکلام اوقع وامکن والنفس الیہ امیل و اسکن۔ومنھا ان الاعمال لا تقصدفی الشرع لذواتھا بل لما یترتب علیھا |
الله سے میں اپنے قلب کی پاکی اور زبان کی درستگی اور ہاتھ کی صلاح طلب کرتا ہوں تو اسی سے میری حفاظت ہے اور اسی پر میرا بھروسا ہے۔یا الہٰی۔قبول فرما، تسجیل:اور شاید تم کہو بے شك تم نے نقاب اٹھادیا اور حجاب کو دُور کردیا تو مجھ سے بیان کرو کہ خبر کو مقدم کرنے میں کیا نکتہ ہے حالانکہ اس کا حق یہ ہے کہ اس کو موخر رکھا جائے۔میں کہوں گا ہاں اس میں بدیع نکتے ہیں ان میں سے ایك یہ کہ محکوم بہ(خبر)جب کہ پوشیدہ ہو اور محکوم علیہ (مبتداء)ادراك میں ظاہر ہو تو پہلا(خبر)معّرف کے مشابہ ہوگا اور دوسرا(مبتدا)تعریف کے مشآبہ ہوگا۔لہذا اس کو مقدم کرنا مستحسن ہے تاکہ لفظ اخیر اس کے لیے تعریف کے مانند ہو جائے اور انہیں نکتوں میں سے سننے والوں کو شوق دلانا ہے اس لیے کہ نفوس انجانی بات کو جاننے کے لیے ہمکتے ہیں تو جب کسی ایسی چیز کو سنیں گے جو ان کے نزدیك پوشیدہ ہے اور امید رکھیں گے کہ اس کے بعد وہ ذکر کیا جائے جو ان پر ظاہر ہے۔تو سننے کے لیے متوجہ ہوں گے او ر جاننے کے لیے فارغ ہوں گے تو اس صورت میں کلام زیادہ دلنشین اور راسخ ہوگا اور نفس کو اس کی طرف زیادہ میلان اور سکون ہوگا۔اور ان میں سے یہ ہے کہ شریعت میں اعمال اپنی ذات کے لیے مقصود نہیں ہوتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع