30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
منع انہ متوقف لاباطل،واخر باعطاء المسمّی من نکحت فی عدۃ اختہا واٰخر بتحریم بیع ھذہ القراطیس الافرنجیۃ المقدرۃ بقدر معلوم من الدراھم بما یزید علی ھذا المقدار اوینقص ظنامنہ انہ ربوٰمع عدم الا تحادجنسا ولا قدرًا۔،واٰخر بتجویز اخذ الربٰو من کفار الہند زعما منہ انہادار الحرب مع عدم الانقطاع عن دار الاسلام من کل جانب وشیوع بعض الشعائر الاسلامیۃ قطعًا۔واٰخر بحل ما قطع من حیوان حی اٰخذا من قول الہدایۃ وما ابین من الحی"وان کان میتافمیتہ حلال [1]"حتی انتھت ریاسۃ الفتوٰی و انتمت السیادۃ الکبرٰی الٰی من اباح بنت الاخ رضا عًا،وتقدمہ مجتہداٰخر فجوز نکاح العمۃ النسبیۃ فالی اﷲ المشتکی من فساد الزمان ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وسیعلم ھذا من جرب |
غیر موجودگی میں ماں کو صغیرہ(نابالغہ)کا عقد کردینا باطل ہے حالانکہ یہ متوقف ہے نہ کہ باطل ہے۔اور کسی دوسرے نے فتوٰی دیا کہ اس عورت کو جو اپنی بہن کی عدت میں شادی کرے مہر مسمّٰی دیا جائے گا۔اور دوسرے نے ان افرنگی کا غذوں کو جن پر روپوں کی ایك معین مقدار سے زائد یا کم پر بیچنے کو حرام ہونے کا فتوٰی دیا اپنی طرف سے اس گمان کی بناء پر کہ یہ تبادلہ سود ہے حالانکہ نہ جنس میں اتحاد ہے نہ مقدار میں۔اور ایك اور نے فتوٰی دیا کہ ہندی کافروں سے سُود لینا جائز ہے اس زعم پر کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔حالانکہ یہ ملك دارالاسلام ہے ہر جانب سے کٹا ہوا نہیں اور بعض اسلامی شعار یقینا جاری ہیں۔اور ایك نے فتوٰی دیا کہ زندہ جانورکا جو عضو کاٹ لیا جائے حلال ہے۔ہدایہ کی اس عبارت سے"اور اگر مردہ ہو تو اس کا مردار حلال ہے۔"اس مسئلہ کو اخذ کیا یہاں تك کہ ریاست اسی فتوٰی تك پہنچی اور سیادتِ کبرٰی اس سے منسوب ہوئی جس نے رضاعی بھائی کی لڑکی سے نکاح حلال ٹھہرایا۔اور ایك دوسرا مجتہد اس سے آگے بڑھا تو اس نے حقیقی پھوپھی کا نکاح جائز ٹھہرادیا تو فسادِ زمانہ کی شکایت اﷲ ہی سے ہے۔ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔تو عنقریب اس کو وہ جان لے گا جو میرے جیسے تجربہ کرے گا، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع