30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فانمامثلی ومثل الذین لاینقادون لی کجمال شردت عن صاحبہا فہو یقصداسرھا ویقتفی اثرھا لا تعلوشرفا و لا تھبط وادیا الا اتبعہا۔ تکمیل: ومن ھٰہنا بان لك ان ماقالت النحاۃ من وجوب تقدیم المبتداء علی الخبراذاکان معرفتین او متساویین امراکثری لاکلی وانما المعنی علی اللبس و اذ لیس فلیس،بذٰلك صرح الشراح و لا یغرنك اطلاق المتون فانھا ربما تمشی علی الاطلاق فی مقام التقیید فی علم الفقہ فکیف بغیرہ من الفنون۔
انبانا مفتی الحرم عن ابن عمر عن الزبیدی عن یوسف المزجاجی عن ابیہ محمدبن علاء الدین عن حسن العجیمی عن العلامۃ خیر الدین الرملی عن ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی التمرتاشی مصنف تنویر الابصار قال فی منح الغفار"ان العجب من اصحاب المتون |
ان اونٹوں کی سی ہے جو اپنے مالك کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوں تو ان کا مالك ان کو پکڑنے کا قصدکرے اوران کے پیچھے پیچھے چلے وہ کسی بلندی پر نہ چڑھیں اور نہ کسی گھاٹی میں اتریں مگر یہ کہ وہ ان کا پیچھا کرتا ہو۔ تکمیل:یہاں سے تمہیں ظاہر ہوگیا کہ نحویوں نے جو یہ کہا کہ مبتداء کو خبر پر مقدم کرنا ضروری ہے۔جب دونوں معرفہ ہوں یا تنکیر و تعریف میں دونوں برابر ہوں یہ اکثری قاعدہ ہے کلی قاعدہ نہیں اور معنٰی یہی ہے کہ مبتدا کی تقدیم ایسی صورت میں اس وقت واجب ہے۔جب کہ التباس کا اندیشہ ہو اور جب التباس کا اندیشہ نہ ہو تو واجب نہیں۔شارحین نے اس کی تصریح کی تو ہر گز تمہیں متون کا اس مسئلہ کو مطلق کرنا دھوکا میں نہ ڈالے اس لیے کہ متون تو بسا اوقات اطلاق کی راہ پر چلتے ہیں مسئلہ کو مقید رکھنے کے مقام میں علم فقہ میں تو تمہارا کیا گمان ہے فقہ کے سوا دوسرے فنون میں، ہمیں خبر دی مفتیِ حرم نے،وہ روایت کرتے ہیں ابن عمر سے،وہ روایت کرتے ہیں زبیدی سے۔وہ روایت کرتے ہیں یوسف مزجاجی سے وہ روایت کرتےہیں اپنے باپ محمد بن علاء الدین سے۔وہ روایت کرتے ہیں حسن عجیمی سے۔وہ روایت کرتے ہیں خیر الدین رملی سے۔وہ روایت کرتے ہیں ابو عبد الله محمد بن عبدالله غزی تمرتاشی مصنفِ تنویر الابصار سے، انہوں نے منح الغفار میں فرمایا اصحابِ متون سے تعجب ہے اس لیے کہ وہ اپنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع