30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من کثر کلامہ کثر سقطہ فتکثر ذنوبہ من حیث لا یشعر [1]"اھ اخرج البخاری فی التاریخ والترمذی و ابن حبان بسند صحیح عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان اولٰی الناس بی یوم القیمۃ اکثرھم علیّ صلٰوۃ [2]۔ قال الفاضل الشارح"ای اقربھم منی فی القٰیمۃ و احقھم بشفاعتی اکثرھم علیّ صلاۃ فی الدنیا لان کثرۃ الصلوۃ علیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تدل علی صدق المحبۃ و کمال الوصلۃ فتکون منازلھم فی الاخرۃ منہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بحسب تفاوتھم فی ذٰلك [3] اھ اقول:انظر شرح اولًا لفظ الحدیث |
جس کا کلام کثیر ہوگا تو اس میں مہمل خلافِ شرع باتیں زیادہ ہوں گی تو اس کے گناہ بڑھیں گے اور اس کو شعور نہ ہوگا اھ۔ امام بخاری تاریخ میں اور ترمذی اور ابن حبان بہ سندِ صحیح حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی وہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا" قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے قریب وہ ہوگا جو سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا۔ فاضل شارح نے فرمایا یعنی قیامت میں سب سے مجھ سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ میری شفاعت کا حقدار وہ شخص ہوگا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھتا تھا اس لیے کہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر درود کی کثرت سچی محبت پر اور کمال ربط پر دلالت کرتی ہے۔تو لوگوں کے مدارج حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قُرب میں اس امر میں لَوگوں کے تفاوت کے حساب سے ہوں گے۔ اقول:دیکھو پہلے لفظ حدیث کی شرح |
[1] التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اکثر الناس ذنوبایوم القٰیمۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۲۰۰
[2] جامع الترمذی ابواب الوتر باب ماجاء فی فضل الصلوۃ علی النبی امین کمپنی دہلی ۱/ ۶۴،الجامع الصغیر حدیث ۲۲۴۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۳۶
[3] التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان اولی الناس بی الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۳۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع