30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنونا بنو ابناءنا وبنو بناتنا ابناء الرجال فانك ان قلت احفادنا ابناء لنا صدقت وان قلت ابنائنااحفادلنا کذبت فکان بنونا ھو المحکوم بہ و السر فی ذلك ان المحمول یجوز تنکیرہ ابدًا وافادۃ القصر علٰی تسلیمہ عــــــہ کلیًاامر زائدعلٰی نفس الحکم و الموضوع لاینکر تنکیرا محضافلذٰلك لا یقال الکرم تقویٰ اوالکرم دین وانما تقول بالتعریف لان الاٰخر ھو الموضوع حقیقۃ لاجل ھذا ان عکست ونکرت صح اما رایت ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ و سلم لما قدم التقویٰ فی حدیث الحکیم نکر الکرم و لما عکس فی الحدیث الاٰخر عرف التقویٰ ،اللھم لك الحمد علٰی تواتراٰلائك ولا اخالك یاھذا مغمورافی غیابات الغباوت بحیث یعسرعلیك الانتباہ لما فی تلك الاحادیث |
"یعنی ہمارے بیٹے ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں اور ہماری بیٹیوں کے بیٹے اورمردوں کے بیٹے ہیں۔"اس لئے کہ اگر تم یوں کہو کہ ہمارے پوتے ہمارے بیٹے ہیں تو یہ صادق ہوگا،اوراگریوں کہو کہ ہمارے بیٹے ہمارے پوتے ہیں تو یہ کاذب ہوگا تو شعر میں"بنونا"ہی محکوم بہ ہے اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہمیشہ محمول کو نکرہ لانا جائز ہے اورافادہ قصر اگر اس کو امر کلی تسلیم کرلیں نفس حکم پر ایك زائد بات ہے،اورموضوع کبھی نکرہ محضہ نہیں لایا جاتا ہے تو اس لئے یوں نہ کہا جائے گا کہ الکرم تقویٰ یا الکرم دین یعنی جبکہ جملے کا جز ثانی مبتداٹھہرائیں تو اس کو نکرہ لانا جائز نہیں بلکہ تم یہ جملہ دوسرے جز کی تعریف کے ساتھ بولوگے اس لئے کہ حقیقت میں دوسراجز ہی موضوع ہے اسی وجہ سے اگر اس جملے کا عکس کر دو اورپہلے جز کو نکرہ کردو تو صحیح ہوگا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے جب تقویٰ کو مقدم کیا حکیم ترمذی کی گزشتہ حدیث میں تو "کر م" کو نکرہ لائے،اوردوسری حدیث میں جب اس کا عکس کیا تو"تقویٰ "کو معرفہ لائے۔الہٰی ! تیری پیہم نعمتوں پرتیرے لئے حمد اے شخص میں گمان نہیں کرتاکہ تو کم فہمی کی اندھیریوں |
عــــــہ:اشارہ الی انہ مع اشتہارہ فی کثیرمن الناس الخ (المصنف)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع