30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عقلہ فانما وصف العقل بالمروۃ لاالمروۃ بالعقل و کذا قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم "حسبہ خلقہ و الشرف التواضع"فانما حکم علی الخلق بانہ الحسب وعلی التواضع بانہ الشرف حسما لما یدعیہ المدعون من ان المال ھو الشرف،ولذا ان قال قائل ان الحسب خلق والمروۃ عقل والشرف تواضع لم یقبل قولہ منہ،وان عکس قبل فھکذا فی الفقر تین اعنی قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الکرم التقوٰ ی وکرم المرء دینہ۔
وانا اعطیك ضابطۃ لہذا کلما رأیت فی امثال عــــــہ ھذا المقام اسمین معرفین باللام محمولا احدھما علی الاٰخرفان صح ان یحمل الاٰخرعلی الاول مجردا عن اللام فاعلم انہ یجوز ان یکون محمولًافی تلك القضیۃ ایضًاوالالانظیرہ قول الشاعر ؎ |
کی عقل ہے۔دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے عقل ہی کو مروت سے موصوف کیا اوراسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول"آدمی کا حسب اس کا خُلق ہے اور شرف تواضع ہے " تو اس لئے کہ خُلق پر حکم لگایا کہ وہ حسب ہے اورتواضع پر حکم فرمایا کہ وہی شرف ہے مدعیوں کے دعوے کو رد کرنے کے لئے کہ مال ہی شرف ہے اسی لئے کہ اگر کوئی یوں کہے کہ بے شك حسب خُلق ہے اورمروت عقل ہے اورشرف تواضع ہے تو ا س کاقول مقبول نہ ہوگا اوراگر اس کا عکس کردے تو قبول کیا جائے گا تو اسی طرح دونوں حدیثوں میں اپنے بعد فقروں سے ملے ہوئے فقروں میں یعنی حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا قول کرم تقویٰ ہے اورآدمی کی عزت اس کا دین ہے(یعنی ان جملوں کا عکس مقبول نہ ہوگا۔) اورمیں تم کو اس کے لئے ایك ضابطہ دیتاہوں جب کبھی تم ایسے مقامات میں دو اسم معرف باللام دیکھو کہ ان میں کا ایك دوسرے پر محمول ہوتاہے تو اگر دوسرے کا پہلے کے لئے محمول بننابغیر لام کے صحیح ہوتو جان لو کہ وہ اس قضیے میں بھی محمول ہوسکتاہے ورنہ نہیں،اسکی نظیر شاعر کا شعر ہے:؎ |
عــــــہ:اشاربہ الٰی انك تقول الخ (المصنف)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع