30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولا یکون بھذا کل فرد من ھٰؤلاء محمودا فی الدین۔
فان قلت ان التقوی وصف خاص بالکرماء فلھذا استحق الثناء بخلاف ما ذکرتم من الاوصاف۔ قلت الاٰن اتیت الی ابیت فان التقویٰ اذا اختص بھم ولم یوجد فی غیر ھم وجب ان یکون کل متق کریمًا وفیہ المقصود قال المولی الفاضل الناصح محمد افندی الرومی البرکلی فی الطریقۃ المحمدیۃ بعد ماسرد الآیات فی فضیلۃ التقویٰ فتأمل فیما کتبنا من الآیات الکریمۃ کیف کان المتقی عندالله تعالٰی اکرم[1] انتہٰی۔
قال المولی الشارح العارف بالله سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرحھا الحدیقۃ الندیۃ اشارۃ الی الاٰیۃ الاولٰی من قولہ تعالٰی "ان اکرمکم عندالله اتقٰکم"[2] انتہٰی۔ واقول سادسًا: الی یا موفق تحقیق بالقبول احق اخرج |
اورجسم ہے اوراس کے ساتھ ان تینوں میں سے ہر فرد محمود نہیں ہوتا۔ فان قلت(تواگر تم کہو کہ)بے شك تقویٰ کریموں کے ساتھ خاص ہے لہذا یہ وصف تعریف کا مستحق ہے بخلاف ان اوصاف کےجو آپ نے ذکر کئے۔ قلت(میں کہوں گا)اب تم اسی بات پر آگئے جس کا تم نے انکار کیا تھا اس لئے کہ تقویٰ جب کریموں کے ساتھ خاص ہے دوسروں میں نہیں پایاجاتا تو ضروری ہے کہ ہر متقی کریم ہو اوریہی ہمارامقصود ہے۔مولٰی فاضل ناصح محمد آفندی رومی برکلی طریقہ محمدیہ میں تقویٰ کی فضیلت میں آیات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں تو ان آیات کریمہ میں غور کرو جو ہم نے لکھیں کیونکہ متقی الله کی بارگاہ میں سب سے زیادہ کریم ٹھہرا۔ کتاب مذکورکے شارح مولا عارف بالله سیدی عبدالغنی نابلسی اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں مصنف کا اشارہ پہلی آیت یعنی الله تعالٰی کے قول "ان اکرمکم عندالله اتقاکم" کی طرف ہے۔ واقول سادسًا: اے توفیق والے میری طرف آ،یہ ایك تحقیق ہے جو قبو ل کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع