30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من وکانہ اراد ماترید الامۃ عند الدعاء بہ تاسیا بالنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ ومنہا ما اورد الزمخشری فی الکشاف ثم الامام النسفی فی المدارك عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ و سلم من سرہ ان یکون اکرم الناس فلیتق الله [1]اھ۔ وھذا ابین واجلی۔
واقول خامسا: العلماء مافھموا من الاٰیۃ الا مدح المتقین ولم یزالوا محتجین بہا علٰی فضیلۃ التقوی واھلہا فلو کان الامرکمازعمتم لا ندحض ھذہ التمسکات بحذ افیرھا،اذ لما کان المعنی ان کل کریم متق وھو لایستلزم ان کل متق کریم فای مدح فیہ للمتقین وبم ذا یفضلون علی الباقین،الاتری ان کل کریم انسان وحیوان وجسمان |
کو حذف کیا جائے۔گویا اس کی مراد وہ ہے جس کا ارادہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں دعا کرتے ہوئے امت کرتی ہے۔ من جملہ ان حدیثوں میں سے یہ حدیث ہے جسے زمخشری نے کشاف میں پھر امام نسفی نے مدارك میں نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے ذکر کیا فرمایا:جس کی یہ خوشی ہوکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ عزت والاہو تو الله تعالٰی سے ڈرے۔ اوریہ ظاہرترہے۔ اقول خامسا: علماء نے اس آیت سے متقی لوگوں کی تعریف ہی سمجھی اوراس آیت سے تقویٰ اوراہل تقویٰ کی فضیلت پردلیل لاتے رہے،تو اگر معاملہ یوں ہوتاجیسا کہ تمہارا گمان ہے تو یہ تمام استدلال سرے سے باطل ہوجاتے اس لئے کہ جب معنی یہ ٹھہرے کہ ہر کریم متقی ہے اوریہ اس کومستلزم نہیں کہ ہر متقی کریم ہوتو اس میں پرہیزگاروں کے لئے کون سی تعریف ہے اورپرہیزگاردوسروں سےکس وصف سے برترہوں گے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہر کریم انسان،حیوان |
[1] الکشاف تحت الآیۃ ۴۹/ ۱۳ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۳۷۵،مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)تحت الآیۃ ۴۹/ ۱۳ دارالکتاب العربی بیروت۴/ ۱۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع