30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لی ولکم[1]۔ اقول: انظر کیف قسم المصطفٰی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخلق الٰی قسمین برتقی ووصفھم بالکرم وفاجر شقی ووصفھم بالہوان وھذا صریح فیما قلنا۔ ومنہا مااخرج ابن النجار والرافعی عن ابن عمر عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من دعائہ:"اللھم اغننی بالعلم وزینی بالحلم واکرمنی بالتقویٰ وجملنی بالعافیۃ۔"[2] قال المناوی اکرمنی بالتقوی لاکون من اکرم الناس علیك ان اکرمکم عندالله اتقٰکم [3]اھ۔
اقول: والوجہ حذف |
لئے اورتمہارے لئے مغفرت چاہتاہوں۔" اقول: دیکھو مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے مخلوق کو دو قسم کیا،ایك نیک،پرہیزگار،اوران کو عزت سے موصوف کیا۔اوردوسرے بدکار،بدبخت،اورانہیں ذلیل بتایا۔اوریہ ہمارے دعوٰی کی صریح دلیل ہے۔ان احادیث میں سے ایك وہ ہے جس کی تخریج ابن نجار اوررافعی نے کی سیدنا حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہما سے،نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی دُعا کے یہ کلمات مروی ہے ہیں:"اے الله !مجھ علم کے ساتھ غنا،حلم کے ساتھ زینت،تقویٰ کے ساتھ اکرام اورعافیت کے ساتھ جمال عطا فرما۔"مناوی نے(دعا کا مطلب بیان کرتے ہوئے) کہا: "مجھے تقویٰ کے ساتھ اکرام عطافرما تاکہ میں تیرے یہاں سب سے زیادہ عزت پانے والے لوگوں میں سے ہوجاؤں(بیشك الله کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے)اھ میں کہتاہوں صحیح یہ ہے کہ لفظ من |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع