30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سیدی جمل اللیل عن السندی کلاھما عن صالح العمری باسانیدہ الامامین الجلیلین بسندھما الٰی سیدنا ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ای الناس اکرم،فقال اکرمھم عند الله اتقٰیھم[1]۔
اقول: انظرالٰی اٰثاررحمۃ الله کیف یوضح المحجۃ ولا یدع لاحد حجۃ انما سئل المصطفٰی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بان ای الناس اکرم ای من الموصوف بہ لا ان الاکرم ماھو بای نعت یزھو فاجاب الاٰیۃ الکریمۃ فلو لا ان الاتقی ھو الموضوع لما طابق الجواب |
مساوی ہے انہوں نے روایت کی جمالی سے وہ روایت کرتے ہیں سندی سے اور میرے اوپر دو درجہ عالی سند سے اس حدیث کو مجھ سے روایت کیا سید ی جمل اللیل نے وہ روایت کرتے ہیں سندی سے دونوں نے روایت کی صالح عمری سے ان امامین جلیلین(بخاری ومسلم)کی اسانید کے ساتھ ان دونوں اماموں نے سیدنا ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت فرمایا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سوال ہوا: لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا الله کے نزدیك سب لوگوں سے بڑھ کر عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)الله تبارك وتعالٰی کی رحمت کے آثار دیکھو راستہ کو کس طرح واضح کرتاہے یہ کسی کے لئے حجت نہیں چھوڑتامصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے تویوں سوال ہوا تھا کہ کون سا شخص سب سے زیادہ عزت والا ہے یعنی اس وصف سے کون موصوف ہے یہ سوال نہ ہوا تھا کہ "اکرم کی ماہیت کیاہے۔"اکرم"(سب سے زیادہ عزت والا)اورکون سے وصف پر ناز کرتاہے،تو سرکارنے |
[1] صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ یوسف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۷۹،صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل یوسف علیہ السلام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع