30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لصدق نقیضہ وھو ان کل متق کریم فالمقدم مثلہ،ھذا علٰی طریقتنا اما علی طریقتکم فالمقدمۃ الا ستثنائیۃ ان کل کریم متق وھو لایرفع اللازم فلا یرفع الملزوم اتقن ھذا فان الفیض مدرار۔ والحمدللہ۔
اقول رابعًا الاحادیث التی جات تفسیرا الاٰیۃ اوترد موردمشرعہا اوتلحظ ملحظ منزعہا انما تعطی ما ذکرنا من المفاد وتابی عما بغیتم من الافساد و منھا ماانبانا المولی السراج عن الجمال عن عبدالله السراج ح وعالیًابدرجۃ عن ابیہ عبدالله السراج عن محمد بن ھاشم ح ومساویاللعالی عن الجمال عن السندی ح وشافعھنی عالیا بدرجتین |
کہ اگر یہ صادق ہو تو یقینًایہ صادق ہوگا کہ بعض متقی شریف نہیں اس لئے کہ ان میں کے بعض نسب میں کمتر ہیں تو تمہارے نزدیك شریف نہ ہوں گے لیکن تالی باطل ہے اس لئے کہ اس کی نقیض صادق ہے اوروہ یہ کہ ہر متقی کریم ہے تو مقدم بھی اس کی طرح باطل ہے یہ ہمارے طریقے پر ہے لیکن تمہارے طریقے پر تو مقدمہ استثنائیہ عــــــہ یہ ہے کہ ہر شریف متقی ہے اور یہ لازم کو مرتفع نہیں کرتا تو ملزوم کو بھی مرتفع نہ کرے گا۔اس تقریر کو خوف ضبط کرلو اس لئے کہ فیض(کادریا)زوروں پر ہے،اورتمام خوبیاں الله ہی کی ہیں۔ اقول رابعًا وہ احادیث جو اس آیت کی تفسیر کرتی ہے یا اس کے گھاٹ کے راستے پر چلیں یا اس جگہ اشارہ کرتی ہیں جہاں سے اس کا تیر کھینچا وہ تو وہی مفاد دیتی ہیں جو ہم نے ذکر کیا اوراس فساد انگیزی سے انکار کرتی ہیں جو تم نے چاہا منجملہ ان حدیثوں کے یہ ہے کہ جس کی خبر ہمیں مولٰی سراج نے دی وہ روایت کرتے ہیں جمال سے وہ روایت کرتے ہیں عبدالله سراج سے(ح)نیز ہم نے سراج سے یہ حدیث ایك درجہ عالی سند سے روایت کی وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ عبد الله سراج سے وہ روایت کرتے ہیں محمد بن ہاشم سے(تحویل) نیز اس سند سے اس روایت کی جو سند عالی کے |
عــــــہ:مقدمہ استثنائیہ کو قیاس استثنائی بھی کہا جاتاہے،اورقیاس استثنائی وہ ہے جس میں نتیجہ یا اس کی نقیض بالفعل مذکورہو جیسے ہمارا یہ کہنا کہ "یہ اگر جسم ہے تو متحیز ہے"لیکن وہ جسم ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ متحیز ہے اوریہی بعینہ قیاس یعنی مقدمہ میں مذکورہے اور نقیض کی مثال یہ کہ وہ متحیز نہیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ جسم نہیں اوراس کی نقیض کہ وہ جسم ہے مقدمہ میں مذکور ہے۔(تعریفات جرجانی ص ۱۵۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع