30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واما الکرامۃ فلم تکن ثابتۃ عندھم والالما قالو ما قالوا،علی ان المقدمۃ المذکورۃ فی الاٰیۃ تبقی ح عبثًا والعیاذبالله تعالٰی فان الرد علیھم تم بالمطویۃ القائلۃ انہ رجل کریم عندالله تعالٰی وبعد ذٰلك ای حاجۃ الی ان یقال کل کریم متق،اذلم یکن نزاعھم فی التقویٰ بل فی الکرم۔وبالجملۃ یلزم اخذالمدعی صغری واستنتاج مالیس بمدعی وھٰکذا یجری الکلام فی روایۃ مقاتل واستحقارقریش سیدنا عتیق العتیق اعتقنا الله بھما من عذاب الحریق، اٰمین۔
ولنقرر بعبارۃ اُخری قال "کل جدید لذیذ"کان طریق استدلالھم علٰی حقارتہ رضی الله تعالٰی عنہ بانہ عبد ولاشیئ من العبدکریمًافہو لیس بکریم و الاٰیۃ نزل فی الردعلیھم فلابدمن نقض احدی المقدمتین من قیاسہم لکن الصغرٰی لامردلہا، فتعین ان الاٰیۃ انما تبطل الکبرٰی باثبات |
رہی عزت(اس سیاہ فام غلام کی)کافروں کے نزدیك ثابت ہی نہ تھی ورنہ یہ کافر وہ کچھ نہ کہتے جو انہوں نے کیا۔علاوہ ازیں وہ مقدمہ جو اس آیت میں ذکر ہوا اس تقدیر پر عبث ٹھہرے گا والعیاذ باللہ،اس لئے کہ کفار پررَد تواس قضیۂ مطوعیہ (پوشیدہ)سے تام ہولیا جس میں یہ دعوٰی ہے کہ وہ غلام،الله کے نزدیك باعزت ہے۔اس کے بعد کون سی حاجت ہے کہ کہاجائے کہ ہر کریم،متقی ہے ا س لئے کہ کافروں کا نزاع تقویٰ میں نہ تھا بلکہ کرامت میں تھا۔بالجملہ اس تقدیرپرلازم آتاہے کہ مدعا صغری ہو اورنتیجہ وہ نکلے جو مدعا نہیں اوریونہی کلام روایت مقاتل میں اورقریش کی جانب سے سیدنا عتیق العتیق (حضرت ابوبکررضی الله تعالٰی عنہ کے غلام حضرت بلال رضی الله تعالٰی عنہ)کی تحقیرمیں جاری ہوگا۔الله تبارك وتعالٰی ہمیں ان دونوں کے صدقے میں جہنم کے عذاب سے آزاد فرمائے امین۔ اورہم بلفظ دیگر تقریر کریں اس لئے کہ "کل جدید لذیذ"، کفار کا طریق استدلال حضرت بلال رضی الله تعالٰی عنہ کی حقارت پر بایں طور تھاکہ وہ غلام ہیں اورکوئی غلام عزت والا نہیں ہوتا،تو عزت والے نہیں،اوریہ آیت کفارکے رد میں اُتری لہذا ان کے قیاس میں دومقدموں میں سے ایك کا نقض ضروری ہے لیکن صغرٰی کا رد نہیں ہوسکتا۔اب متعین ہوا کہ آیت کبرٰی کا ہی ابطال کرتی ہے اس کی نقیض |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع